شکریہ عمران خان!
25 اگست 2019 2019-08-25

صرف ایک سال میں تبدیلی سرکار نے ایسی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں کہ تاریخ میں اسکی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ رہی بات میڈیا میں جاری حکومت پر تنقید کی تو اسکا کیا ہے، یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، اور کھلاڑی اس محاذ پر ناقدین کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں، کوئی ہاتھ لگ جائے تو منہ توڑ بھی دیں۔

قلم سے افسانے تراشنے والے حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہیں، لیکن کوئی حقائق کو جتنا بھی مسخ کرلے، ماضی میں نیازی صاحب کی جانب سے کئے گئے کسی دعوے وعدے کو جھوٹا ثابت نہیں کرسکتا۔ اگر عمران خان نے کہا کہ جب مہنگائی ہو تو سمجھ لو آپ کا وزیراعظم چور ہے۔ تو کیا جھوٹ بولا؟ جناب من! یہ تو عالمگیر سچائی ہے۔ اگر ڈالر کی بلندی کا سفر جاری ہو، ملک میں پیسہ آتا تو نظر آئے جاتا کدھر ہے یہ نظر نہ آئے تو صاف ظاہر ہے کرپٹ حکمران غریبوں کے خون پسینے کی کمائی بیرون ملک خفیہ اکاؤنٹس میں جمع کر رہے ہیں۔ اگر کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو رہی ہوں مثال کے طور پر اگر چینی مہنگی ہو رہی ہو تو حاکم وقت کے قریب ترین لوگوں کا کاروبار چیک کریں، وزیراعظم کے انتہائی قریب ترین شوگر مافیا کا سرغنہ آپ کو نظر آجائے گا۔ اگر تعمیراتی سامان مہنگا ہو رہا ہے تو وزیراعظم کے ارد گرد نظر دوڑائیں اور پہچاننے کی کوشش کریں کون ایسا ہے جس کے چہرے پر وزیراعظم مسرت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر وزیراعظم کا کوئی عزیز یا عزیزہ بغیر کسی منظم کاروبار کے دنیا بھر میں جائیدادیں بنا رہا یا رہی ہو تو سسلین مافیا کے بارے میں کسی منصف کے سنہری ریمارکس یاد رکھیں کہ "دولت کے ہر ذخیرے کے پیچھے جرم کی ایک داستان چھپی ہوتی ہے، بڑی کامیابی کا اصل راز ایک جرم ہے جو مہارت سے سرانجام دینے کے باعث سامنے نہ آ سکا"۔ اب بھلا بتائیں اس میں عمران خان کا قصور کیا ہے؟ یہی کہ اس نے عوام کو شعور دیا، حکمرانوں کے طریقہ واردات سے آگاہ کیا؟ ظالم، فاسق اور بدعنوان کی پہچان کرنا سکھایا؟ کیا عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر میڈیا کو بتایا نہیں تھا کہ ظالم حکمران اپنے اوپر تنقید برداشت نہیں کرسکتا، سب سے پہلے میڈیا کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ کیا عمران خان نے نہیں کہا تھا، "میں ان کو رلاؤں گا، میں ان کو تکلیف پہنچاؤں گا" کیا سب رو نہیں رہے؟ کیا سب تکلیف میں نہیں ہیں؟

ابھی حال کی ہی بات کرلیتے ہیں، بڑے بڑے نامی گرامی اصحاب ڈاکٹروں سے اگلے تین سال تک ٹکور کے نسخے لکھوا رہے ہیں۔ بھلا کسی کو باپ بدلنے کا مشورہ دینے سے بڑی حماقت اور جہالت کیا ہوسکتی ہے؟ کیا یہ نہیں جانتے کوئی بھی غیرت مند طعنوں مصیبتوں سے ڈر کر باپ نہیں بدلا کرتا، باپ کا وقت بدل جائے تو اور بات ہے۔ ہر وقت یوٹرن کے طعنے دینے والے کب سمجھیں گے کہ یوٹرن لینا ہی عظیم لیڈر ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے، ورنہ جانے کتنی قومیں تاریکی کے گہرے گڑھوں میں غرق ہوجاتیں۔ ہمارے اکابرین تو اللہ توکل بچ نکلتے تھے۔

حکومت نے ایک سال کے قلیل عرصے میں جو ریکارڈ قائم کئے، ملکی تاریخ میں اسکی کوئی ایک مثال دکھا دیں، کبھی کوئی سوچ سکتا تھا چار گرام سونے کے برابر ماہانہ کمانے والا بھی انکم ٹیکس دے گا؟ آج دے رہا ہے، مجال ہے کوئی چوں بھی کرے تو، بھلا کیوں؟ کیونکہ کرپٹ بندے میں چوں کرنے کی اخلاقی جرات نہیں ہوتی۔ آج قبضہ مافیا کہاں ہے؟ سات دہائیاں پہلے جنہیں کچی بستیاں بسانے کی اجازت دی گئی، پکے مکان بنا کر بیٹھ گئے، بجلی، گیس اور سیوریج سسٹم جیسی عیاشیوں کا مطالبہ بھی کرتے، سابقہ حکومتیں اپنی نااہلی کے باعث ان بدمعاشوں سے بلیک میل ہوتی رہیں لیکن عمران خان نے آتے ہی انکی ساری بدمعاشی نکال دی، آج وہ سارے سرپھرے چھت ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ آئے گی بڑے بڑے پلازے والوں کی باری بھی آئے گی، یقین کامل رکھیں خان کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا بڑی بڑی کمپنیاں اور صنعتکار دھڑلے سے ٹیکس چوری کرتے تھے، خان نے سب کو لگام ڈال دی، اب وہ سب اپنے پاؤں سکیڑ کر بیٹھے ہیں، ڈرا نہ جھکا، عمران خان لاکھوں مزدوروں ورکروں کو ظالم سرمایہ داروں کی قید سے رہائی دلا کر رہا۔

رہی بات غیر ملکی قرضے لینے کی تو قرض لینا کوئی جرم تو نہیں، بھیک مانگنا بری بات ہوتی ہے۔ خودکشی پر اکسانے والے یاد رکھیں خودکشی گناہ کبیرہ اور تعزیرات پاکستان کے تحت ایک جرم ہے، کیا وہ شریک جرم کی سزا نہیں جانتے؟ جو نہیں جانتے اصلی کپتان سے پوچھ لیں۔

تاریخ شاہد ہے پہلی بار امریکا نے پاکستان کا نڈر اور بے باک وزیراعظم دیکھا جس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ امریکی امداد کو سب سے بڑی لعنت سمجھتا ہے، پاکستان مشکلات میں گھرے غریب امریکا کی افغانستان میں ہر حد تک مدد کریگا لیکن اسکے عوض کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کریگا۔ امریکی صدر بھی پاکستانی قیادت کے جذبہ ایثار کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس سے پہلے جو بھی وزیراعظم امریکا جاتا قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کرتا۔ پہلی بار کسی وزیراعظم کیلئے پاکستانیوں نے خود اپنی جیب سے اربوں روپے امریکا پر خرچ کئے۔

پانچ دہائیوں بعد مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آیا، ایک ڈیڑھ گھنٹہ ہی سہی پر بات تو ہوئی، اب عالمی عدالت میں بھی جائیں گے، عالمی برادری کا ضمیر جگانے کیلئے ٹویٹر کی گھنٹیاں بجتی رہیں گی، بھارت کو بددعائیں دینے کے علاوہ بھی حکومت سے جو ہوسکا کریگی۔ سوچیں لاہور کے وارث میر انڈر پاس کا نام کشمیر انڈر پاس رکھنے سے ایک کشمیری معلم کی روح کتنی خوش ہوئی ہوگی۔ ناقدین یہاں بھی سادگی مہم کو گھسیڑ رہے ہیں کہ وارث سے پہلے "لا" اور میر سے پہلے "کش" لگا کر صورتحال کی زیادہ بہتر عکاسی ہوسکتی تھی، نیا بورڈ بنانے کا خرچہ کیوں کیا گیا۔ ان ناعاقبت اندیشوں کو تو سمجھانا ہی فضول ہے۔ لیکن جس دن عوام کی دعائیں قبول ہوگئیں اور بھارت نے براہ راست پاک فوج سے پنگا لے لیا، مودی اور اسکے سورماؤں کو اپنی اوقات سمجھ آجائے گی۔ ان شاء اللہ

بہرحال مخالفین اور ناقدین جو مرضی کہیں، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے، حکومت کا پہلا سال تاریخی کامیابیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ عمران احمد خان نیازی نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر حکمرانوں بارے جو کچھ کہا، حکومت میں آ کر سب سچ ثابت کرکے دکھایا، تو پھر کیوں نہ کہا جائے، شکریہ عمران خان !


ای پیپر