”لاہور کا نام کشمیر رکھ دیں“
25 اگست 2019 2019-08-25

لاہور کی نہر پر پنجاب یونیورسٹی سے جڑے ہوئے انڈر پاس کا انتساب معروف اینکر پرسن حامد میر کے والد وارث میر کے نام سے بدلتے ہوئے کشمیر سے کر دیا گیا ہے اور اب یہ بات الگ ہے کہ کینال روڈ پر تمام انڈر پاسز کسی نہ کسی مشہور شخصیت کے نام سے منسوب ہیں، انڈر پاس نمبر تھری کو ہی کسی علاقے سے منسوب کیا گیا ہے، یہ عین ضیاءالحق مرحوم والی حرکت ہے کہ اگر آپ اسلام چاہتے ہیں تو موصوف کی آمریت کو ووٹ دیں اور اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ کافر ہیں اور یہاں بھی یہی سائنس ہے کہ اگر آپ حرکت کی حمایت نہیںکرتے تو آپ کشمیر کاز کے غدار ہیں جیسے کشمیر نے لاہور میں شہباز شریف دور کے بنے ہوئے درجنوں فلائی اوورز اور انڈر پاسز کے نام بدلنے سے ہی آزاد ہونا ہے، اسی سے بھارت پر لرزہ طاری ہونا ہے،اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے رام ہونا ہے، امریکا، برطانیہ اور فرانس نے ہمارے موقف کا حامی ہونا ہے اور اگر واقعی یہی سوچ ہے تو پھر آپ پورے لاہور کا نام ہی کشمیر رکھ دیں بلکہ مقبوضہ کشمیر رکھ دیں تاکہ موجودہ صورتحال کی زیادہ بہتر عکاسی ہو سکے۔

اس امر کی سب سے پہلے نشاندہی جناب مجیب الرحمان شامی نے کی اور کہا کہ یہ پور ے لاہور شہر بلکہ پورے ملک کے اہل دانش کی توہین ہے۔ بات تودرست ہے کہ جہاں پنجاب یونیورسٹی سے جڑے انڈر پاس کا نام پنجاب یونیورسٹی کے ایک استاد کے نام سے ہٹایا گیا ہے وہاں کشمیر کو بھی کوئی عزت نہیں دی گئی کہ کشمیر کے نام سے کوئی بڑی سڑک موسوم کی جاسکتی تھی، شامی صاحب کے مطابق پوری کینال روڈ کا نام کشمیر روڈ رکھا جا سکتا تھا ۔ کینال بنک روڈکا اس وقت نام ’ خیابان این میری شمل‘ ہے جس کا بہت کم لوگوں کو علم ہے، جرمن سے تعلق رکھنے والی این میری شمل ، ایرانیات، اقبالیات، سندھیات اور علوم مشرق کی ماہر، وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتی تھیںاور مجھے بڑا دُکھ ہوگا اگر ہم ان کا نام وقتی اور مفاداتی سیاست میں ڈبو دیں گے ، ہاں، شیر شاہ سوری سے اجازت لیتے ہوئے جی ٹی روڈ کا نا م کشمیر روڈ رکھا جا سکتا ہے چاہے وہ کشمیر جاتی ہے یا نہیں کہ ہم نے اسلام آباد میں بھی ایک سڑک کا نام شاہراہ دستور رکھا ہوا ہے۔ شامی صاحب مزید کہتے ہیں کہ کشمیر کی اوٹ میں پروفیسر وارث میر پر حملہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی، حامد میر کا غصہ ان کے والد پر اتارنا اوچھا پن ہے مگر ہم سب ڈاٹ کام والے عدنان خان کاکڑ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ محض ایک اتفاق ہے کہ چند دن پہلے وزیراعظم نے حامد میر کو ٹویٹر پر ان فالو کر دیا تھا مگر ان دونوں واقعات میں ہرگز کوئی باہمی تعلق نہیں،و زیراعظم نے پروفیسر وارث میر کو انفالو کیا ہوتا تو پھر کچھ تعلق بنتا۔ہمارے پریس کلب کے سیکرٹری زاہدعابد کہتے ہیں کہ لاہور کی نہر پر باقی انڈر پاسز تو بڑے بڑے ناموں سے منسوب ہیں، ان میں یہ ایک نام ان کے برابر نہیں لگتا مگر میرا موقف یہ ہے کہ ہم سب کے پاس اپنے اپنے بڑے ناموں کی فہرستیں ہیں اور ان سے باہر ہر نام چھوٹا ہے چاہے وہ نوبل انعام یافتہ ملالہ اور سرحد پارگاندھی جی ہی کیوں نہ ہوں۔ زاہد عابد نے تو ہتھ ہولا رکھ لیا مگر میں نے جناب مجیب الرحمان شامی کے ٹوئیٹر ہینڈلر پر دیکھا تو علم ہواکہ وارث میر کو نئے پاکستا ن میں غدار سمجھا جاتا ہے اور ان کے نام کی تبدیلی عین حب الوطنی ہے۔

حامد میر، پروفیشنل تعلق کی بنیاد پر بڑے بھائیوں کی طرح محترم ہیں اور ان کی نئے پاکستان کے قیام میں جدوجہد قابل تعریف ہے مگر یہ ان دس، بارہ برسوں کی باتیں ہیں جب پاکستان کے حکمران تنقید برداشت کرلیا کرتے تھے کیونکہ وہ سیاسی حکمران ہوتے تھے اور سیاست نام ہی معاملہ فہمی ، تدبر اور برداشت کا ہے۔مجھے نئے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کے دوران کے ان کے پروگراموں کے موضوعات دیکھ کر بہت مزا آتا تھا اور سیکھنے کو بہت کچھ ملتا تھا۔ زندگی میں سیکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ کچھ کام نہ کرنے کے بارے سیکھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد کے نام سے اس انڈر پاس کو پرانے پاکستان میں موسوم کیا گیا تھا اور اس وقت لاہور کے ڈی سی او بلوچستان کے قابل فخر سپوت نورالامین مینگل تھے جنہوں نے ناموں کی فہرست تیار کی تھی اور صوبائی حکومت سے منظور کروائی تھی۔ ابتدائی فہرست کے مطابق پنجاب یونیورسٹی والا انڈر پاس کسی دوسرے نام سے منسوب تھا اور ہماری خواہش تھی کہ وارث میر مرحوم کی پنجاب یونیورسٹی سے وابستگی رہی لہٰذا پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ انڈر پاس ہی ان کے نام سے موسوم ہو۔ میں نے اس پر ایک پروگرام بھی کیا جس میں دیگر اہل علم اور معتبر صحافیوں کے ساتھ ساتھ وارث میر مرحوم کے صاحبزادے عامر میر نے بھی اظہار خیال کیا۔

شیکسپئیر نے کہا تھا کہ گلاب کو کسی بھی نام سے پکارو تو وہ گلاب ہی رہتا ہے مگرشائد اسے سترہویں صدی عیسوی تک انڈر پاسوں کے نام کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ابھی چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اعلان کیا تھا کہ وہ بتیس مختلف سڑکوں اور مقامات کے نام کشمیر پر رکھیں گے تو خیال تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ناموں سے بنی سڑکیں اور پارک نشانہ بنیںگے جس کے لئے سب ذہنی طور پر تیار تھے مگر پی ٹی آئی کی حکومت مخاصمت اور انتقام میں اس سے زیادہ ٹیلنٹڈ ہے جتنا اس کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ دلیل ہے کہ کشمیر انڈر پاس سے گزرتے ہوئے لوگ کشمیر کو یاد کریں گے تو اس سے چند کلومیٹر فاصلے پر زمان پارک موجود ہے اور اگر اس کا نام کشمیر یا سری نگر رکھ دیا جائے تو پوری دنیا ذکر کرے گی کہ پاکستان کے ہینڈ سم وزیراعظم لاہور کے جس علاقے میں رہتے ہیں وہ بذات خود کشمیر ہے اور یوں وزیراعظم جب بھی لاہور آئیں گے تو ہم کہہ سکیں گے کہ وزیراعظم کشمیر پہنچ گئے ہیں۔

مذاق سے ہٹ کر، سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم کچھ انڈرپاسز یا سڑکوں کے نام کشمیر کے نام پر رکھنے سے کشمیریوں کا حق ادا کرنے میں کامیا ب ہوجائیں ۔کشمیرکو ہندوستان کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا بلکہ وہاں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور ہم عملی اقدامات کے بجائے بددعاوں پر گزارا کر رہے ہیں۔ اس وقت ضرورت قوم کو متحد کرنے کی ہے مگر ہم اسے تقسیم در تقسیم کرتے چلے جا رہے ہیں، سیاستدان تو سب جماعتوں کے اپنے اپنے ہی تھے مگر اب صحافی، اینکر اور دانشور بھی اپنے اپنے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے، وارث میر کی فکر اور مقام پر بحث کئے بغیر، ایک انڈر پاس کا نام وارث میر سے تبدیل کر کے کشمیر رکھنا، نہ اہل علم اور اہل قلم کے شایان شان ہے اور نہ ہی ان کشمیریوں کے جو پاکستان سے محبت میں ایک نئی تاریخ لکھ رہے ہیں، ان کی جدوجہد اورمحبت کو ایک انڈرپاس میں دفن کرنا قطعی طورپر انصاف نہیں ہے۔


ای پیپر