باپ سراں دے تاج محمد!

25 اگست 2018

توفیق بٹ

کل میرے والد محترم کی تیسری برسی تھی، دنیا میں کسی رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں تو وہ رشتہ والدین کا ہے ۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، کوئی اس سے منہ نہیں موڑ سکتا۔ صرف انسان نہیں دنیا کی ہر شے نے اِک نہ اِک روز فنا ہونا ہے۔ رہے نام اللہ کا ....زندگی اور موت روزانہ کا معمول ہیں، کئی انسان روزانہ مر جاتے ہیں اور کئی اِک نہ اِک دِن مرنے کے لیے روزانہ پیدا ہو جاتے ہیں، احمد ندیم قاسمی کا ایک شعر ہے،”کون کہتا ہے موت آئی مرجاﺅں گا ....میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاﺅں گا“ ....میں نے اِک روز اُن کی خدمت میں عرض کیا یہ شعر خیالی اعتبار سے یوں بھی ہوسکتا تھا ....”کون کہتا ہے موت آتی ہے مر جاتے ہیں ....ہم تو بھٹکے ہوئے ہیں لوٹ کر گھر جاتے ہیں “.... زندگی یقیناً اِک عارضی ٹھکانہ ہے، کچھ رشتے مگر ایسے ہوتے ہیں ان کی موت کا صدمہ خود موت جتنا تکلیف دہ ہوتا ہے، والدین کا رشتہ ان میں سرفہرست ہے، خصوصاً جب ماں اور باپ دونوں دنیا سے چلے جاتے ہیں ایک احساس والدین کے قرب میں مبتلا اور والدین کی اہمیت کو تسلیم کرنے والی اولاد سے چمٹ جاتا ہے کہ اب ان کے سرپر چھت رہی ہے نہ چھاﺅں۔ ماں کڑی دھوپ میں ٹھنڈی چھاﺅں جیسی ہوتی ہے اور باپ ایک چھت کی طرح ہوتا ہے جو سرپر تاج کی طرح بھی ہوتا ہے۔ چھت اور چھاﺅں دونوں جب چھن جاتے ہیں یہ اصل میں کبھی نہ ختم ہونے والی ایک تکلیف ہے جس کا احساس کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ انسان سے چمٹا رہتا ہے، مرنے والے تو اللہ کے پاس چلے جاتے ہیں ، اُس اللہ کے پاس جو انسان سے ستر ماﺅں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے۔ اصل موت پیچھے بچ جانے والوں کی ہوتی ہے، جواپنے پیاروں کی یاد میں روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں۔ 2011ءمیں میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تھا، زندگی سے موت کا سفر انہوں نے ٹھیک دومنٹ میں طے کیا، رات کھانے کے بعد لان میں انہوں نے چہل قدمی کی جوان کا معمول تھا، اس کے بعد اندر آکر صوفے پر بیٹھ گئیں۔ چھوٹے بھائی سے پوچھا ”وقت کیا ہوا ہے؟“۔ اُس نے بتایا تو بولیں ”اچھا ابھی تھوڑا وقت رہتا ہے “ .... اُس نے پوچھا ”ماں جی کوئی کام کرنا ہے جس میں تھوڑا وقت رہتا ہے ؟“۔کہنے لگےں ”نہیں، بس ایسے ہی کہہ رہی ہوں “۔ کچھ دیر بعد پھر پوچھا ”وقت کیا ہوا ہے ؟“۔اُس نے بتایا ماں جی پونے دس ہوگئے ہیں۔”اُس کے بعد وہ اُٹھ کر اپنے بیڈ روم میں چلی گئیں۔ اچانک چھوٹے بھائی کو ان کے کھانسنے کی آواز آئی۔ وہ پانی لے کر ان کے پاس پہنچا۔ وہ واش روم کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ وہاں پہنچی تو واش روم کا دروازہ پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ اس سے کہنے لگیں ”میری ٹانگوں سے کوئی جان نکال رہا ہے، مجھے پکڑ لو“.... پانی کا گلاس اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ امی کا رنگ سفید ہوگیا تھا، جیسے ٹانگوں سے نکل کر اب کوئی اُن کے چہرے کی طرف آگیا ہو۔ اس نے امی کو پکڑا۔ وہ کلمہ پڑھ رہی تھیں۔ پھر آخری جملہ اُنہوں نے بولا ”وہ آگئے ہیں، میں جارہی ہوں “۔ اور زبان ان کے دانتوں تلے آگئی۔ یہی اللہ کا حکم تھا۔ جس کے سامنے سب کو سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ کوئی چارہ ہی اس کے سوا نہیں ہے، موت واحد حقیقت ہے جو اللہ کو نہیں مانتے وہ بھی مانتے ہیں۔ تب میرے چھوٹے بھائی کو احساس ہوا وہ بار بار وقت کیوں پوچھ رہی تھیں؟“انہیں کس کا انتظار تھا؟“۔انہیں پتہ چل گیا تھااُن کا وقت رخصت قریب آگیا ہے، وہ ہمیشہ یہ فرماتی تھیں، بلکہ یہ جملہ اُن کا ”تکیہ کلام“ ہی بن گیا تھا ”ربا مینوں چلدیاں پھردیاں لے جاویں“ .... اور ایسے ہی ہوا۔ دوسری طرف والد صاحب ”اچانک موت“ سے گھبراتے تھے، اور ایسے ہی ہوا، وہ سال بھر بیمار رہے۔ آخری دو ماہ شدید بیمار رہے، ملک کے ممتاز ترین آرتھوپیڈک سرجن، میرے محترم بھائی جان پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز نے اس دوران ہرحوالے سے جو محبت فرمائی وہ میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے، خصوصاً وہ رات میں کبھی نہیں بھول سکتا جب اُنہوں نے مجھ سے کہا ” کوئی دوا کوئی انجیکشن اثر نہیں کررہا ، کینسر سارے جسم میں پھیل چکا ہے، زندگی کا دروازہ مکمل طورپر بند ہوچکا ہے۔ موت کا کھل چکا ہے، اُن کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے جو مصنوعی طریقہ گزشتہ کئی روز سے ہم نے اپنایا ہوا ہے وہ دراصل زندگی سے موت کے سفر میں ان کی راہ میں ہم نے ایک دیوار سی کھڑی کر رکھی ہے۔ یہ ان
کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے، ہمیں کوئی فیصلہ کرنا چاہیے “ ....مجھے اس وقت سیف الدین سیف کا شعریاد آگیا ۔”موت سے ترے دردمندوں کی.... مشکل آسان ہوگئی ہوگی “ .... پھر اُن کی مشکل آسان ہوگئی، موت کا وقت قریب آیا تو یوں محسوس ہوا وہ بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں۔ مجھے لگا وہ ابھی اُٹھ کر بیٹھ جائیں گے، مجھے ایک ”وصیت“ کی جو میرے چھوٹے بھائی کے حوالے سے تھی۔ میری آنکھوں سے آنسوﺅں کا سیلاب جاری ہوگیا ،والدین کے رشتے کی اہمیت کا احساس پہلے سے مجھ پر غالب تھا، وہ لمحہ مگر کمال کا تھا، جب مالی طورپر ذرا کمزور چھوٹے بھائی کے بارے میں ڈوبتی ہوئی آواز میں انہوں نے فرمایا ” اُس کا خیال رکھنا“....میں نے سوچا یہ والدین کیا چیز ہوتے ہیں خود کو موت کے سپرد کرتے ہوئے جب دنیا کا کوئی ہوش اُنہیں نہیں ہونا چاہیے اُس وقت بھی اولاد کی فکر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ .... والدین کی قدر نہ کرنے والے بدقسمتو ذرا سوچو تم سے کیا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو اللہ نے تمہیں والدین سے محبت اور خدمت کی نعمت سے محروم کررکھا ہے ؟....”چھوٹے بھائی“ کے بارے میں وصیت کرنے کے بعد وہ میرے جواب کے منتظر تھے۔ وہ مسلسل میری طرف دیکھ رہے تھے، میں نے عرض کیا ”ابا جی آپ فکر نہ کریں۔ آج کے بعد وہ میرا چھوٹا بھائی نہیں میرا ” باپ “ ہے ”....یہ سن کر انہوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ جیسے عجب سا اِک سکون اُنہیں مل گیا ہو۔ میں ان کے سرہانے کھڑا سوچ رہا تھا کاش اس وقت کوئی مجھ سے کہے عزت، دولت ، شہرت، دنیا کی ہرنعمت جو تمہارے پاس ہے ہمارے حوالے کردو، اس کے بدلے ہم تمہارے والد کو زندگی کی چند گھڑیاں چند سانسیں عطا کردیتے ہیں، میں فوراً اُن کی بات مان لوں گا۔ کاش ان سب چیزوں، ان سب نعمتوں ان سہولتوں سے کسی خونی رشتے، کسی عزیز کے لیے چند سانسیں لی جاسکتی ہوتیں.... جدائی کی گھڑی قریب آگئی تھی۔ ابا جی کی سانسیں اُکھڑتی جارہی تھیں۔ مجھے لگا اُن کی نہیں میری جان نکل رہی ہے۔ میرے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا تھا، جیسے موت میرے سامنے میرے ابا جی کو لے جاتے ہوئے شرما رہی ہو، میری بے بسی اُس لمحے عروج پر تھی ،مجھے کچھ ہوش نہیں تھا۔ پھر میرے کانوں میں آواز پڑی”اناللہ وانا الیہ راجعون۔“میں نے ابو جی کا چہرہ دیکھا۔ اتنا اطمینان، اتنا سکون، اتنی معصومیت ان کے چہرے پر تھی، جیسے کوئی بچہ پیدا ہوتے ہی فوت ہوگیا ہو!!

مزیدخبریں