25 اگست 2018 2018-08-25

بلا شبہ ہمارے نئے وزیراعظم ایک کرشماتی شخصیت اور معجزاتی زندگی کے مالک ہیں۔ عزت، دولت، شہرت اور کئی طرح کے 'ت' ان کے گھر کی چوکھٹ پر بندھے نظر آئے ہیں۔ یہودی ایجنٹ سے طالبان خان ، بدزبانی سے لے کر کردار پر دشنام ان تمام الزامات کو تحمل سے سہنے والے عمران خان کی ذات کا ہر پہلو معجزات سے مزین نظر آتا ہے۔ ان کی زندگی کے صرف سرسری جائزے سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ جس پر اللہ رحم کا ہاتھ رکھ دے وہ اپنی منزل مقصود ضرور پا لیتا ہے۔ چاہے بادِ مخالف کتنی ہی تند و تیز کیوں نہ ہو۔ اور تو اور اللہ کی بچھائی ہوئی مشیت کی بِساط جو مجھ سمیت سب ہی سمجھنے سے قاصر ہیں کم از کم اس بات کا اندازہ لگانے کے قابل ہوگئے ہیں کہ اللہ کے رحم و کرم کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی شخص کا صرف متقی اور پرہیزگار ہونا لازم نہیں ہے۔ اس پروردگار کے بنائے ہوئے کمرہ امتحان میں صرف مَن کی نیت کو دیکھا جاتا ہے۔ دنیا جو مرضی الزام لگا لے جتنی مرضی باتیں بنا لے رب نے دنیاوی عزت اورتکر یم دے کر بتلا دیا کہ میں کتنا کریم ہوں۔ دوسری طرف آزمائش کا دروازہ بھی ہمہ وقت کھلا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ میں کبھی عزت دے کر آزماتا ہوں اور کبھی عزت لے کر آزماتا ہوں۔ میری نظر میں خان صاحب اللہ کی جانب سے ملک پاکستان کی باگ ڈور کی سپردگی حاصل کرکے بے پناہ عزت دے کر آزمائے جارہے ہیں۔
اس میں کوئی گمان نہیں کہ خان صاحب کے حامی ان سے بے پایاں عشق کرتے ہیں۔ ان کے منہ سے نکالے گئے ایک ایک لفظ پر یقین اور واری صدقے جاتے ہیں۔ اسمبلی میں کیے جانے والے جوشیلے خطاب کو ان کا سٹائل، حلف برداری میں اردو کے ادا کیے گئے تلفظ کو معصومیت اور قوم سے کیے گئے خطاب کو دوراندیش کی گفتگو تصور کرتے ہیں۔ عوام کا یہ بے پناہ اعتماد اور عزت عمران خان صاحب کی سب سے بڑی طاقت اور شاید سب سے بڑی کمزوری بھی یہی ہے۔ توقعات کا ہمالیہ عمران خان کے عاشقوں کو بے تابی کی طرف لے جانے میں بھی وقت نہیں لے گا۔ کپتان کے دل میں بھی سب سے بڑا خوف یہی ہونا چاہیے۔
مجھ سمیت کئی سیاسی ناقدین کے دل میں کابینہ کو لے کر یہ سوال ضرور اٹھا کہ جس ٹیم کا الیکشن کی کمپین کے دوران عمران خان ذکر کررہے تھے کہ میرے پاس تین سو افراد کی ایسی افرادی قوت ہے جو ملک کو داخلہ، خارجہ، معاشی غرضیکہ تمام چیلنجز سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن کابینہ کی سلیکشن میں زیادہ تر مشرف کی باقیات کے چہرے کیوں نظر آرہے ہیں۔ 20 میں سے 12 وزیر اور مشیر 'مشرفی' کیوں ہیں۔ کدھر ہے وہ نوجوان قیادت جس نے 22 سال خان صاحب کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہایا ہے اور جن کی وجہ سے انہیں وزارت عظمٰی کی کرسی نصیب ہوئی۔
صرف ایک مہینے پہلے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے 'خاندانی سیاست دان' عثمان بزدار کی نامزدگی کس بنا پر کی گئی؟ یقین جانیے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا ایک شخص بھی عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کوالیفیکیشن کو میڈیا کے سامنے پیش نہیں کرسکا۔ شاید مجھ سمیت سب ہی حیران ہیں۔ لیکن میں نے اپنے آپ کو صبر و سکون کا سبق دے دیا ہے کہ شاید سیاسی ناقدین عمران خان کے ویژن کو اَنڈر ایسٹیمیٹ کررہے ہیں۔ کابینہ ابھی تو بہت مختصر ہے آنے والے چند دنوں میں وہ نوجوان قیادت بھی سامنے آجائے گی کہ جن کے کاندھوں پر کپتان نے اپنے ویژن کا مکمل بوجھ ڈالنا ہے۔ پرانے چہروں کو کابینہ میں رکھنے کا مقصد قومی وحدت ہو سکتا ہے۔ اور ویسے بھی اصل بات تو ٹیم کے کپتان کی ہوتی ہے۔ فیلڈ پلیسِنگ، اٹیک یا اوپَن سب اس ہی کی ذمہ داری ہے۔ یعنی پانی کا بہاو¿ ہمیشہ اوپر سے آتا ہے۔ اگر بہاو¿ کا پیمانہ صحیح ہو زمین کے تر ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
عثمان بزدار کے بطور وزیراعلیٰ نامزدگی پر بھی میرے دلِ مضطر ب نے سکون اختیار کرلیا کہ شاید ابھی تنقید کے لیے بہت وقت پڑا ہے۔ ہوسکتا ہے خان صاحب کی سیاسی حکمت میں عثمان بزدار 'نائٹ واچ مین' یا ابابیل کی حیثیت رکھتے ہوں۔ اللہ کرے یہ تمام تسلیاں زورِ اثر رکھ لیں۔
نئے پاکستان کے خدوخال تو عمران خان صاحب قوم سے پہلے خطاب میں واضح کرگئے ہیں۔ ایک گھنٹہ اور نو منٹ طویل پرجوش، مدلِل اور فی البدیہہ خطاب میں دوست اور مخالفین سب ہی کے دل جیتتے ہوئے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی مملکت بنانے کا عہد کیا۔ موجودہ داخلی اور خارجہ مشکلات کا احاطہ بھی کیا اور ان پر قابو پانے کی تدابیر کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔ سادگی کو اپنی حکومت کا طرہ بیان کرتے ہوئے قرضے نہ مانگنے، لوٹی دولت کو واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس کی تشکیل، بھاشا ڈیم کے فوری قیام، تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی، 50 لاکھ گھروں کی تعمیر، اربوں درخت لگانے، کمزور طبقوں کو اوپر لانے، سستے اور فوری انصاف کی فراہمی، امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے، ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے، کھیل کے میدان اور پارک بنانے اور آلودگی کے خاتمے کا عہد بھی کیا۔ اب کوئی گورنر گورنر ہاو¿س میں نہیں رہے گا۔ دو ملازم اور دو گاڑیوں کے علاوہ پرائم منسٹر ہاو¿س کی تمام گاڑیاں نیلام کرنے کا اعلان بھی خان صاحب نے کیا۔
یوں کہیے اپنے خطاب میں قابل تعبیر خواب دکھایا ہے کہ پاکستان کو ریاست مدینہ جیسی نہج پر چلایا جائے گا۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں اپنا دل تو قوم کے سامنے رکھ دیا بس اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل کے لیے سب کو حصہ ڈالنا ہے۔ ویسے بھی لیڈر دلیر ہو تو ہجوم سے قوم بننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ میں ہواو¿ں کا رخ تبدیل کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتا البتہ میں اپنے بادبان کا رخ ضرور تبدیل کرسکتا ہوں جو مجھے میری منزل تک پہنچائیں۔
خان صاحب کے لیے مشورہ ہے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ منافق نہیں تھوڑا سیاسی ہو کر چلیں۔ جیسے منہ کے اندر زبان ہوتی ہے 32 دانتوں کے بیچ میں رہتی ہے ہلتی ہے لیکن دبتی کسی سے نہیں۔


ای پیپر