Corona virus: Blocks hundreds of tweets exposing India's epidemic situation
کیپشن:   فائل فوٹو
25 اپریل 2021 (09:22) 2021-04-25

نئی دہلی: انڈین حکومت نے اس کارروائی کی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ریاستی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں، ان ٹویٹس کے ذریعے اںڈیا کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، اس لئے انھیں ہٹا دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں انڈین حکومت کی جانب سے ٹویٹر کو نوٹس بھیجا گیا تھا کہ ایسے افراد کے ٹویٹس کو ہٹایا جائے جو ملک میں افراتفری پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ انڈین میڈیا کے مطابق ٹویٹر نے اس درخواست پر عمل کرتے ہوئے ایسے ہزاروں ٹویٹس اور ویڈیو کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔

جن لوگوں کی ٹویٹس کو ہٹایا گیا ہے ان میں ناصرف عام شہری بلکہ مشہور سیاستدان اور وزیر بھی شامل ہیں۔ ٹویٹر نے انڈین رکن پارلیمنٹ رونتھ ریڈی، وزیر مولو گھٹک، اداکار وینیٹ کمار سنگھ، ونود کپری اور اویناش داس سمیت دیگر کے متعدد ٹویٹس کو بلاک کیا ہے۔

خیال رہے کہ ان ٹویٹس میں انڈین حکومت کی کورونا وائرس کیخلاف ناکام پالیسی کو دنیا کے سمانے اجاگر کیا گیا تھا۔

ان ٹویٹس میں ہی بتایا گیا تھا کہ انڈیا کو اس وقت شدید انتظامی بحران کا سامنا ہے۔ حکومت کی جانب سے کمبھ میلے کی اجازت دینے، کھیلوں کی سرگرمیاں بحال کرنے اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد نہ کرانے پر اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ٹویٹر صارفین نے انڈیا میں ادویات کی شدید قلت، آکسیجن کی کمی اور وینٹی لیٹرز کی عدم دستیابی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری طور پر سیریس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

خبریں ہیں کہ ٹویٹر کی جانب ایسی ٹویٹس کرنے والے صارفین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ انڈین قوانین کی خلاف ورزی پر ان کیخلاف یہ اقدام اٹھایا ہے، آئندہ وہ احتیاط کریں ورنہ ان کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا جائے گا۔


ای پیپر