جنوبی بحیرہ چین میں جنگی جہازوں کی موجودگی !
25 اپریل 2020 (15:32) 2020-04-25

کوالالمپور:ملائیشیا کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں جنگی جہازوں اور جہازوں کی موجودگی سے کشیدگی بڑھنے کی صلاحیت ہے جس کے نتیجے میں غلط فہمیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیاکے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں جنگی جہازوں اور جہازوں کی موجودگی سے کشیدگی بڑھنے کی صلاحیت ہے جس کے نتیجے میں غلط فہمیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

خبر کے مطابق ملائشیا کے وزیر خارجہ ہشیم الدین حسین نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ملائیشیا بحیرہ جنوبی چین میں اپنے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سلامتی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی اور آسٹریلوی جنگی بحری جہاز رواں ہفتے جنوبی چین بحیرہ چین میں ایک ایسے علاقے کے قریب پہنچے ہیں جہاں ملائیشین سرکاری تیل کمپنی پیٹروناس کے ذریعے کام کر رہی ہے۔

ہشام الدین نے کہا کہ کسی بھی تنازعہ کو پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے اگرچہ بین الاقوامی قانون بحری جہاز کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے ، لیکن بحیرہ جنوبی چین میں جنگی جہازوں اور جہازوں کی موجودگی سے کشیدگی بڑھنے کی امید ہے جس کے نتیجے میں غلط فہمیوں کا سامنا اور خطے میں امن ، سلامتی اور استحکام متاثر ہوسکتا ہے۔


ای پیپر