’’ جبری کٹوتیاں اور کورونا ریلیف فنڈ ‘‘
25 اپریل 2020 (14:16) 2020-04-25

میں نے چونکہ زندگی کا بہت سارا عرصہ سرکاری نوکری اور وہ بھی حکومت پنجاب کے سول سیکریٹیریٹ میں گزارا ہے اس لیے مجھے اس ملک کے حکمرانوںکو نزدیک سے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ ایک بات جو مجھ پر روز روشن کی طرح واضح ہو گئی وہ یہ ہے کہ اس ارض پاک میں جتنا استحصال غریب عوام کا ہوتا ہے، اللہ کی پناہ۔آجکل کورونا وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہو ا ہے۔ اپنے ہاں بھی اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے پھیلائو کو روکنے کا واحداور موثر حل صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ گھروں میں دبک کر بیٹھ جائیں۔ایک دوسرے سے میل جول ہر ممکن حد تک ختم کر دیں۔ اس موثر حل پر اگر عمل کیا جائے تو اس ملک کی آبادی کا ایک کثیر حصہ جو غریبوں پر مشتمل ہے، کھائے کہاں سے اور زندہ کیسے رہے۔ بیماری سے بچو تو غربت کا اژدھا منہ کھولے کھڑا ہے۔ اس ملک کی حکومت تو جب سے ہم نے آنکھ کھولی ہے اپنی غربت اور کم وسائل کا رونا روتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت نے بھی امراء اور روساء کی ایک بڑی تعداد یعنی درجنوں کو وزیر ، وزیر مملکت ، مشیر اور سپیشل و پرسنل اسٹنٹ ٹو پرائم منسٹر کے طور پر رکھا ہوا ہے جو غریب عوام کے پیسوں سے موج میلوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔لیکن اس وباء میں حکومت کا یہ موقف ہے کہ حکومت کے پاس وسائل کی انتہائی کمی ہے اور اسے دو محاذوں پر لڑنا ہے یعنی ایک اس وباء کے خلاف اور دوسرے ان لوگوں کو ضروریات زندگی مہیا کرنا ہے جو اس وباء کیوجہ سے گھروں میں مقید ہو گئے ہیں اور ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر وہ اس وباء سے بچ گئے تو بھوک سے مر جائیں گے۔ اس صورت حال میں حکومت کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے، سو وہ پیسے اکٹھے کرنے کے لیے چل پڑی ہے۔ خانصاحب ویسے بھی اس کام میں خاصے تجربہ کار ہیں اسلئے پُراعتماد بھی ہیں ۔انھوں نے ـ’’ پرائم منسٹرکورونا ریلیف فنڈ ‘‘ قائم کر دیا ہے۔ شوکت خانم ہسپتال کے لیے پیسے اکٹھے کرنے کا ذکر جب کبھی وہ کرتے ہیں تو بتاتے ہیںکہ میں نے اس تجربہ سے یہ اخذ کیا ہے کہ رفاہی کاموں کے لیے پیسے صرف غریب ہی دیتے ہیں۔ اسی لیے خانصاحب نے اس وباء کے بحران سے نبٹنے کے لیے بھی غریبوں کی طرف رجوع کر لیا ہے۔یہ ذہن میں رہے کہ خانصاحب کا غریبوں سے تعلق صرف سیاسی بیان بازی تک ہے ۔ آپ نے زندگی میں کبھی کوئی غریب خان صاحب کا دوست نہیں دیکھا ہو گا۔ خانصاحب کے حلقہ احباب پر نظر ڈال لیں ۔ سب ارب پتی نظر آئیں گے۔ لیکن پیسے اکٹھے کرنے کے لیے انہیں صرف غریب نظر آتے ہیں۔اس موقع پر بھی سب سے پہلا قدم ریلیف فنڈ کو بھرنے کے لیے غریب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے کٹوتی سے شروع کیا گیا ہے۔ یہ کام اس دھرتی کے سب حکمران کرتے آئے ہیں ۔ ا س مرتبہ اس سلسلہ کا آغاز سب سے پہلے اس ملک کے گھاگ اور اقتدار کے ایوانوں کے جہاندیدہ دھوبی شیخ رشید وزیر برائے ریلوے نے کیا ہے اور پاکستان ریلوے کے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں سے ایک دن کی تنخواہ کاٹ کر انھوں نے وزیر اعظم کو پانچ کروڑ

اٹھارہ لاکھ اور پانچ ہزار کا چیک پیش کیا ۔اس واقعہ کی باقاعدہ فوٹو بنوا کر نشر کرائی گئی تا کہ باقی لوگوں کے لیے باعث تقلید بنے۔ فوٹو میں وزیر اعظم اور شیخ رشید دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ البتہ اس بات کا کہیں ذکر نہیں تھا کہ شیخ صاحب موصوف نے خود اپنی جیب سے کتنے پیسے ریلیف فنڈ کو عنائت کیے۔اسی طرح نیب (NAB ) نے اپنے افسران اور ملازمین کی تنخواہوں میں سے کٹوتی کرکے 4.6 ملین روپے وزیراعظم کے کورونا ر یلیف فنڈ میں جمع کرا دئیے۔ حکومت پنجاب اور حکومت سندھ نے بھی اپنے اپنے وزراء اعلیٰ کے فنڈ برائے کورونا قائم کر دئیے اور اپنے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں سے ایک روائتی تناسب سے کٹوتیاں کرکے اپنے اکاونٹ بھر لیے۔یونہی پاک فوج نے اپنے سپاہیوں تک اور ائر فورس نے اپنے ائر مینوں تک کی تنخواہوں میں سے کٹوتیاں کیں اور کرونا ریلیف فنڈ میں جمع کرا دیں ۔میں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں سرکاری ملازمین کے ساتھ گزاری ہیں۔ یقین کریں میں نے گریڈ ایک سے لے کر گریڈ سولہ تک کے ملازمین کی اکثریت کو انتہائی غربت میں زندگی گزارتے دیکھا ہے۔ان کے پاس اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دلانے کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔اپنی بیٹیوں کی شادی کے وقت یہ لوگ ادھار لیتے پھرتے ہیں۔یہی حالات ہماری افواج کے نچلے درجے کے ملازمین کے ہوتے ہیں ۔ ایسے مشکل حالات میں ان لوگوں کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کسی طور مبنی بر انصاف نہیں ہیں ۔آپ کو شاید یہ معلوم ہو گا کہ کسی سرکاری ملازم کی تنخواہ میں سے بغیر کسی وجہ کے پیسوں کی کٹوتی صریحاً غیرقانونی اور غیر آئینی عمل ہے۔غیر آئینی کے علاوہ یہ غیر اخلاقی بھی ہے۔ کسی کی تنخواہ میں سے اس کا آجر (Employer ) کیسے پیسے کاٹ کر صدقہ یا خیرات کے کاموں کے لیے دے سکتاہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نہیں جی یہ ایک نیک اور رفاہی مقصد کے لیے کٹوتیاں کی جا رہی ہیں ۔ صحیح ، لیکن اس کاطریقہ یہ ہونا چاہیے کہ لوگوں سے ان کی مرضی پوچھی جانی چاہیے۔ خانصاحب ساری عمر یورپ کی مثالیں دیتے آئے ہیں ۔کیا یورپ کے کسی ایک ملک میں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں سے ایسے کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔ اپنے ملک کے ہر بنک میں’ پرائم منسٹرکورونا ریلیف فنڈ‘ کے اکا ونٹ مہیا ہیں، جو بھی ان میں جتنی رقم جمع کرانا چا ہے کرا سکتا ہے۔ بلکہ اب تو منٹ منٹ بعد messages موصول ہو رہے ہیں کہ اس نمبر پر msg کریں تو اتنے روپے پرائم منسٹر کے کورونافنڈ میں چلے جائیں گے۔چلیں اس کو یوں فائنل کرتے ہیں کہ جن جن سرکاری ملازمین کی کٹوتیاں کی گئی ہیں انھیں ان کی رقم واپس کریں اور انھیں آپشن دیں کہ جتنا آپ کا دل چاہتا ہے کورونا فنڈ میں جمع کرا دیں۔ دیانتداری سے بتائیں اتنے فنڈ جمع ہو جائیں گے جتنے اب ملازمین سے لے لیے گئے ہیں ۔ جواب آپ جانتے ہیں۔ اب سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں عوام کی ویلفئیر کے لیے حکومت کو پیسے چاہیں کیونکہ حکومت کے اپنے پاس پیسے نہیں ہیں ، تو کیا ہونا چاہیے۔تو اس کا حل یہ ہے کہ سب سے پہلے تو اس ملک پر حکومت کرنے والوں کو آگے آنا چاہیے۔ آپ خانصاحب کی کابینہ کے وزیروں ، وزراء مملکت، اور پرائم منسٹر کے مشیران و پرسنل اسٹنٹ پر ایک نگا ہ ڈالیں۔ آپ کو ارب پتیوں کے چہرے نظر آ جائیں گے۔ خانصاحب ان سے کیوں نہیں لیتے۔ عمران خان کی حکومت کے دوران قوم پر ایک ایسا وقت آگیاہے کہ پوری قوم معاشی و جسمانی طور پر ایک عذاب سے گزر رہی ہے ۔ ان کا یہ حکومتی دور تاریخ میں انمٹ نشان چھوڑ جائیگا۔ یہ نشان یا تو کسی کی عظمت کی گواہی بن جائیں گے یا قوم کے لیے باعث ننگ ہوں گے۔ خانصاحب کو چاہیے کہ وہ پھر ایک ٹیلی تھون کا انعقاد کریں جس میں ان کے تمام وفاقی وزراء ، وزرایٗ مملکت ، مشیر ان اور پرسنل ا سسٹنٹ ٹو پرائم منسٹر موجود ہو ں اور اعلان کریں کہ میں اور میری ٹیم کے یہ تمام ارکان کوئی تنخواہ یا الاوٗنسز حکومت سے نہیں لیں گے۔ اور اس کے بعد یہ حضرات اپنی اپنی طرف سے پرائم منسٹر کے کورونا ریلیف فنڈ کے لیے اپنی اپنی donations کا اعلان کریں ۔ ان میں سر فہرست محترم رزاق داود، ندیم بابر، وواڈا ، عثمان ڈار، جہانگیر ترین ، علیم خان ، پرویز خٹک، اور پارٹی کے تمام ارب پتی روساء شامل ہوں۔ خانصاحب کو اب قوم سے مانگنا نہیں چاہیے بلکہ قوم کو کچھ دینا چاہیے۔ لیکن کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ خانصاحب نے مانگنے کی عادت ہی بنالی ہے۔

یہاں منیر نیازی کا ایک مشہور مصرعہ یاد آرہا ہے

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی


ای پیپر