کارپوریٹ سیکٹر اور انسداد غربت
25 اپریل 2020 (14:15) 2020-04-25

کسی بحران کے وقت افراد اور اداروں کی ریاست اور شہریوں کے ساتھ وابستگی اور وفاداری کا پتہ چلتا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ جان ایف کینیڈی نے کہا تھا کہ "Great crisis produces great men"بڑے بحران کے اندر سے عظیم شخصیات پیدا ہوتی ہیں۔ اس وقت جبکہ پاکستان اپنی تاریخ کے سنگین ترین بحران کی زد میں ہے کہ کون ریاست کے ساتھ کھڑا ہے اور کون منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ کوئی ریاست خواہ کتنی ہی مضبوط ہو بحران کے وقت ہر شہری کے دہلیز تک نہیں پہنچ سکتی۔ فلاحی اداروں یا سوشل ڈویلپمنٹ سیکٹر یعنی این جی او سیکٹر کے قیام کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے پسے ہوئے اور بے آواز طبقوں کی بحالی کے لیے کام کیا جائے مگر این جی او سیکٹر کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں 50 فیصد فنڈ انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے امدادی فنڈ غریب کے گھر تک پہنچتے آدھا رہ جاتا ہے۔

میرا اپنا تعلق چونکہ سوشل ڈویلپمنٹ سیکٹر کے ساتھ ہے لہٰذا بطور ایک تجزیہ نگار میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ایسے افراد اور پرائیویٹ گروپ جو انسانیت کی بھلائی کے لیے خاموشی سے کام کر رہے ہیں ان کو گمنامی سے نکال کر منظر عام پر لایا جائے تا کہ نیکی کی تشہیر اس نیت سے کی جائے کہ اس سے باقیوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب ملے۔

حالیہ لاک ڈاؤن میں مجھے ایک ایسے ادارے کی فلاحی سرگرمیوں کا پتہ چلا جن کی Administrative لاگت زیرو ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مستحقین کو ایک جگہ اکٹھا کرنے مجمع لگانے اور فوٹو سیشن کرنے کے بالکل برعکس خاموشی کے ساتھ ان کے گھر راشن پہنچا رہے ہیں جس میں 20 کلو آٹے کا تھیلا، 3 کلو چاول ، 3 کلو چینی، 2 کلو گھی، 1 کلو دال چنا، 1 کول دال مسور اور 2 عدد صابن کی ٹکیہ شامل ہوتی ہے۔ یہ ہر گھرانے کا ایک طے شدہ پیکیج ہوتا ہے جو ان کے گھر پہنچ جاتا ہے۔

یہ پاکستان کا ایک اہم تجارتی گروپ المعز گروپ ہے جو فوڈ اینڈ بیورویج ، شوگر ، ایگریکلچر، اینیمل فیڈ، اسٹیل، انرجی اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ چونکہ کسی سیاسی وابستگی کے بغیر اپنے کاروبار میں مصروف عمل ہیں لہٰذا آپ نے کبھی میڈیا میں اس گروپ کا نام نہیں سنا ہو گا۔

جس ریلیف پیکیج کا ہم نے ذکر کیا ہے اس کے لیے المعز گروپ نے 5 کروڑ روپے مختص کیے ہیں اور یہ بیک وقت 7 شہروں میں جہاں جہاں المعز گروپ کاروباری سرگرمیوں کو آپریٹ کر رہا ہے اس کے گردونواح کے علاقوں کو امداد کے لیے چنا گیا ہے۔ اس میں ڈیڑہ اسماعیل خان، لیہ، میانوالی، لالیاں، لاہور، اوکاڑہ اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔ اس سے پیچھے جائیں تو وزیرستان اور سوات میں دہشت گردی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے IDPs کے لیے 10 کروڑ روپے کی امداد دی گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے تمام مواقعے پر المعز گروپ کی طرف سے کسی طرح کی نمود و نمائش یا میڈیا کی چکا چوند روشنیوں سے قطعی طور پر اجتناب کیا گیا۔

اس موقع پر المعز گروپ کے ترجمان میجر شفیق رندھاوا جنرل منیجر سفینہ شوگر ملز لالیاں نے خصوصی گفتگو کے دوران بتایا کہ المعز گروپ ایک غیر سیاسی ادارہ ہے جس کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گروپ نے ہر دور حکومت میں اپنے کاروباری معاملات میں شفافیت کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ ہم نے فلاحی سرگرمیوں میں اپنے آپ کو ٹی وی کیمروں سے اس لیے دور رکھا ہے کہ اپنی ذاتی پراجیکشن ہمارا مقصد نہ پہلے تھا اور نہ ہی اب ہے۔

میجر شفیق رندھاوا کا کہنا تھا کہ ہماری سینیئر مینجمنٹ اس عزم اور عقیدے پر یقین رکھتی ہے کہ جس ملک اور کمیونٹی نے آپ کو اتنا کچھ دیا ہے ہمارا یہ اخلاقی و مذہبی فریضہ ہے کہ ہم اس کے اعتراف میں ہم معاشرے کے کمزور طبقوں کو اوپر اٹھانے میں ریاست کا ساتھ دیں۔

میجر شفیق رندھاوا نے بتایا کہ قدرتی آفات سے وابستہ ریلیف سرگرمیوں کے علاوہ ہم نے ہمیشہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے مختلف شعبوں میں بے پناہ کام کیا ہے جس میں رورل سپورٹ یا دیہی ترقی، فروغ تعلیم، ہیلتھ کیئر اؤ پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے پراجیکٹ شامل ہیں۔ المعز گروپ نے نمل یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ لیب کے قیام کے علاوہ سالانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے مستحق طلباء کو سکالر شپ دی ہے۔ اس کے علاوہ ہم LUMS کے نیشنل آؤٹ ریج پروگرام میں ہر سال 4 طلباء کو سکالر شپ فراہم کر رہے ہیں۔ ہم ڈی آئی خان جیسے پسماندہ ضلع میں علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ساتھ مل کر 40 سرکاری سکولوں کی اپ گریڈیشن اور اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے پر کام کررہے ہیں۔

میجر رندھاوا نے اپنی گفتگو کے دوران المعز گروپ کے ہیلتھ پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم شوکت خانم اسپتال کے ابتدائی دور کے ڈونرز میں شامل ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ملتان میں بختاور امین میموریل اسپتال چلانے میں ہمارا کلیدی کردار ہے۔ آلودہ پانی کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ہم نے اپنی کمیونٹی کے لیے ہر جگہ آر او فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔ دل کے پیدائشی امراض میں مبتلا بچوں کا آپریشن ہم اپنے خرچے پر کرواتے ہیں اس سلسلے میں ہر سال 6 بچوں کے آغا خان اسپتال کراچی کا خرچ ہم برداشت کرتے ہیں۔

اس موقع پر ہونے والی بات چیت میں پتہ چلا کہ المفر گروپ مختلف ٹیکسوں کی مد میں سرکاری خزانے میں ہر سال 12 ارب روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے اور شوگر مل انڈسٹری کے اندر سب سے زیادہ منظم شفاف اور جامع ریکارڈ اور دستاویزات کا حامل ہے جن کے پاس کاروباری لین دین کے ایک ایک پائی کا حساب موجود ہے۔ شوگر ملوں کے کسانوں کے ساتھ ادائیگیوں میں تاخیر کی خبریں آئے روز میڈیا پر ہوتی ہیں جہاں ایک سیزن کی ادائیگی دوسرے سیزن تک مؤخر ہوتی ہے مگر المفر تیسرے دن کسان کو پیسے دیتا ہے۔ گزشتہ سال کسانوں کو 25 ارب روپے کی نقد ادائیگی کی گئی۔ یہ پاکستان کا پہلا ادارہ ہے جس نے چقندر سے چینی بنانے پر ایک غیر ملکی کمپنی کے ساتھ مل کر ریسرچ اور ٹرائل کا آغاز کیا ہے جس سے پاکستان میں چینی کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔ زراعت کے فروغ کے بارے میں گروپ کے انقلابی اقدامات کے لیے ہمیں الگ کالم کی ضرورت ہے۔

اس گروپ نے کارپوریٹ اور سوشل سیکٹرز کو یکجا کر کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کا جو ماڈل متعارف کروایا ہے۔ اگر اس کو کارپوریٹ سیکٹر میں Relicate کیا جائے تو پاکستان سے غربت کے خاتمے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔


ای پیپر