کرونا خیر ہے یا شر!
25 اپریل 2020 (14:14) 2020-04-25

آپ جب یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو ان شا اللہ ہم رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں داخل ہوچکے ہوں گے یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں مگر اس بار ایسا کیا ہوا کہ رمضان کے آنے سے پہلے ہی انسانوں کو بھی قید کردیا گیا ہے۔

پوراعالم ایک عجیب وائرس سے دوچار ہے جس نے سب انسانوں کو ایک دوسرے سے دور رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس وبا کے ہاتھوں پوری دنیا میں جہاں اموات ہوئی ہیں کئی لوگ تشویشناک حالت میں ہیں اور کئی صحت یاب بھی ہورہے ہیں مگر ابھی تک اس کے مکمل خاتمے کی کوئی یقینی صورت نظر نہیں آرہی،اقتصادی زوال کا یہ عالم ہے کہ تاریخ میں پہلی بار تیل کی قیمتیں پانی سے بھی کم ہوگئی ہیں۔

جوں جوں وقت گزر رہا ہے، کرونا کے نت نئے پہلو سامنے آرہے ہیں، فضائی آلودگی میں کمی، زلزلوں کی شدت میں کمی، زمین کی حرکات و سکنات کا کم ہونا، موسمیاتی تبدیلی سمیت کئی ایسے پہلو ہیں جن پر غور کیا جائے تو دل یہ ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ خالق اس سسٹم کی ری بوٹنگ کے دوران نقائص کا جائزہ لے کر انہیں پھر سے درستگی کی طرف لے جا رہا ہے۔

کرونا کے بعد آپ سماجی، معاشرتی، اقتصادی، جذباتی،نفسیاتی، جتنے بھی پہلو ہیں ایک ایک کرکے ان کا جائزہ لیں آپ کو اندازہ ہوگا آپ کسی نہ کسی طرح بہتری کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کرونا کی وجہ سے ہماری شرح اموات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر پاکستان کے حوالے سے اس وقت دیکھا جائے تو ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں کوئی بھیڑ بھاڑ نہیں ہے۔ کورونا سے متاثر مریضوں کے علاوہ نئے مریضوں کی آمدورفت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے کوئی حادثہ نہیں ہو رہا ہے۔ دل کا دورہ، بلڈ پریشر، دماغ میں خون برین ہیمریج کی کمی کے واقعات اچانک کم ہوگئے ہیں۔

اتنا اچانک کیا ہوا ہے کہ بیماریوں کے کیس اتنے گر چکے ہیں؟ یہاں تک کہ قبرستان میں مرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

کیا کورونا نے دیگر تمام بیماریوں کو کنٹرول یا ختم کردیا ہے؟

نہیں بالکل نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ کارپوریٹ ہسپتالوں، ٹیسٹنگ لیبز کی وجہ سے لوگوں کو ہلکی سردی، نزلہ اور کھانسی میں بھی ہزاروں روپے میں ٹیسٹ کرنے پر مجبور کیا جارہا تھا۔ تھوڑی بہت پریشانی میں بھی اندھا دھند آپریشن کیا جارہا تھا۔ اب کورونا آنے کے بعد، اچانک یہ سب کیسے رک گیا؟

اس کے علاوہ ایک اور مثبت تبدیلی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کرونا آنے کے سبب، ہوٹل میں کھانے پینے والے لوگوں پر ایک پابندی عائد ہوگئی ہے۔ لوگوں نے سٹریٹ فوڈز یہاں تک کہ بڑے ہوٹلوں سے بھی ڈر کر گھریلو کھانے کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے۔ لوگوں کے بہت سے غیرضروری اخراجات رک گئے ہیں؟ کرونا نے انسانوں کی سوچ کو بدل دیا ہے؟

ایک صاحب بتاتے ہیں کہ گوجرانوالہ کے ایک قبرستان کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک گورکن سے احوال پوچھا تو کہا کہ برا حال ہے۔۔

پہلے تو 18 /20 جنازے روزانہ آجاتے تھے اب تعداد 5/6 سے آگے نہیں جا رہی

میں نے پوچھا یہ کیسے ؟ تو اس نے جواب دیا پہلے تو 6/8 تو ٹریفک حادثے کی نذر ہوتے تھے اور مرغن کھانے سے بھی کئی لوگ ہارٹ اٹیک،شوگر اور کولیسٹرول بڑھنے سے وفات پاجاتے تھے۔

کرونا کے باعث قبرستانوں کی رونق ماند پڑگئی ہے۔ کورنا کی وجہ سے ڈیتھ ریٹ زیادہ ہونے کی بجائے بہت کم ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بہت کم اطلاعات آ رہی ہیں وفات کی! لاہور میں ہمارے گھر کے قریب جو قبرستان ہے اس میں کافی دنوں سے کوئی جنازہ آتے نہیں دیکھا۔ ہسپتالوں میں بھی رش کم ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں کرونا ایک وبا کے طور پر اپنے منفی اثرات چھوڑ رہا ہے۔ وہیں یہ فائدہ مند بھی ثابت ہو رہا ہے۔دیکھا جائے تو اسلام جس نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے اب تقریباً پوری دنیا مسلم غیر مسلم اس پر عمل پیرا ہیں، احتیاط کر رہے ہیں،اپنے گھروں کو، اپنی سڑکوں کو اپنے شہروں کو صاف رکھ رہے ہیں۔ خواتین نے ملازمائوں کو جبری رخصت دی ہے اور گھروں کے تمام کام خود کر رہی ہیں، مرد بچے بھی ساتھ ہاتھ بٹا رہے ہیں۔عرصہ ہوگیا کہ بازار کے گھی اور مصالحوں سے لبریز کھانے، مردہ مرغیاں، کیمیکل ملا دودھ، گلے سڑے فروٹ کا جوس اور چاٹ۔ پیزے، شوارمے یہ سب آج کل بند ہیں۔ سب سے زیادہ جو نقصان دہ تھے وہ شادی بیاہ کے مرغن کھانے جس میں بے انتہا گھی اور مصالحہ جات ہوتے تھے جن کو کھا کر ایک صحتمند بندہ بھی معدہ کے مرض میں مبتلا ہوجائے۔

یہ بھی اب تقریبا ایک ڈیڑھ ماہ سے نہیں کھائے جارہے۔ گھروں میں لوگ اپنی صحت کا خیال رکھ رہے ہیں اور قوت مدافعت بڑھانے والی غذائوں کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے لوگ کم بیمار ہو رہے ہیں۔ سبزی پھلوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ٹریفک کم ہونے سے فضا صاف ہوتی جارہی ہے جس سے سانس کی تکالیف بھی کم ہوگئی ہیں۔ مائیں گھروں میں صاف ستھرے اور لذیذ کھانے بنا رہی ہیں۔

ہر چیز ایک روٹین کے مطابق ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فالتو کی فائلز ڈیلیٹ ہوتی جارہی ہیں اور صرف وہی باقی رہیں گی جن کے بغیر بقا نا ممکن ہے۔ دیکھا جائے، تو یہ سب کچھ فطرت کے عین مطابق ہو رہا ہے، ، مغرب کے بعد تمام بشر ، پرندوں کی مانند اپنے گھونسلوں کا رخ کرتے ہیں ۔ ہم سب اپنی اپنی مصنوعی زندگی سے نکل کر اسی طریقے سے زند گی گزار رہے ہیں جس طرح گزارنے کا حق ہے۔ اب یہ کورونا تو کنٹرول ہو جائے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی جس طرح آج کی زندگی کو جو کنٹرول کیا گیا ہے، اگر ہم اسے اسی طرح قابو میں رکھیں، ضروریات کو کم کریں تو حقیقت میں زندگی بہت خوشگوار اور خوبصورت ہوجائے گی۔ یہ تلخ حقیقت سچ ہے لیکن سچ یہی ہے کہ صحت مند رہیں گھر میں مصروف رہیں۔


ای پیپر