کرونا اور پاکستان
25 اپریل 2020 (14:14) 2020-04-25

کرونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں جن کی تفصیلات ذرائع ابلاغ پرنمایاں انداز میں شائع ہورہی ہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کرونا کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات دینے کی دوڑ ہے جس سے کرونا کی تباہ کاریوں میں تو کوئی کمی بیشی نہیں ہورہی مگر یہ خبریں خوف وہراس بڑھانے کا باعث بنتی جارہی ہیں کیسا وقت آگیا ہے کہ سماجی دوری اختیار کرنے کے باوجود انسان ہی انسان کو دیکھ کر خوفزدہ ہونے لگاہے ایسا دنیا میں پہلے کبھی ماحول نظر نہیں آیاکہ انسان نہ صرف ایک دوسرے کو ملنے سے کترانے لگیں بلکہ قریب جانے سے ڈرنے لگیں کرونا نے انسانی رویے یکسر بدل دیے ہیں تبدیل شدہ رویوں کو دیکھ کر کہاجانے لگا ہے کہ اب شاید ہی پہلے والی صورتحال بحال ہو سکے زیادہ امکان یہی ہے کہ میل ملاقات سے آئندہ بھی اجتناب ہی برتا جائے گا ۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اِس وباء سے مرنے والے بھی 240سے زائد ہو گئے ہیں ۔عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جولائی تک دو لاکھ اکستانی کرونا سے متاثر ہوسکتے ہیں خدشے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں متاثرہ افراد میں مسلسل اضافے کا رجحان ہے مریضوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے دیکھیں تو جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ پاکستانی متاثرہیں جوہم سب کے لیے الارمنگ ہے بدقسمتی سے بھارت کی ہٹ دھرمی سے سارک ممالک کی تنظیم توقعات کے مطابق فعال نہیں ہو سکی ۔جمعرات کوبظاہر پاکستان سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس کی میزبانی کر چکا ہے مگر طے شدہ امور پر کچھ عمل بھی ہو گا ؟وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ بھارت علاقائی طاقت کے بھوت سے جب تک آزادنہیں ہوتا ہمسایہ ممالک کو اُس سے خدشات ختم نہیں ہو سکتے ۔

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیلیفونک گفتگو میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کے ساتھ جدید ترین ٹیسٹنگ مشین پاکستان بھجوانے کی پیشکش سے دونوں ممالک میں جنم لیتی گرمجوشی کا تاثر پیدا ہوا ہے لیکن امریکہ اگر پاکستانیوں میں حقیقی معنوں میںدوستانہ جذبات کا فروغ چاہتا ہے تو اُسے محض پاک امریکہ دوستی کی باتیں کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا اُسے بخوبی معلوم ہے کہ پاکستان کی کمزور معیشت کرونا کی وجہ سے شدید دبائو میں ہے اگر ٹرمپ پاکستان یا عمران خان سے سچی دوستی کے دعویدار ہیں تو پاکستان کے قرضوں کو ری شیڈول یامعاف کرنے کے بارے میں غور کرنا چاہیے تاکہ دوست ملک کی معاشی مشکلا ت میں کمی ہو۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے قرضوں سے نجات کے لیے جتنی محنت اور کوشش کی تھی کرونا وائرس کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوتی دکھائی دیتی ہے ایسے حالات میں جب معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں اورفی کس آمدن کم ہونے اوربے روزگاری بڑھنے کے خدشات حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دیتے ہیں پر قابو پانا اکیلے پاکستان کے بس کی بات نہیں دہشت گردی کی جنگ میں بھی اربوں کا نقصان اور اسی ہزار جانوں کی قربانی سے عالم آشنا ہے مگر ماسوائے چین کے کسی نے پاکستان کی قربانیوں کا درست اعتراف نہیں کیا اگر پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں حصہ نہ لیتا تو نقصان سے بچ سکتا تھا مگر دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے پاکستانیوں نے ہر خطرے کا بلاخوف وخطر سامنا کیا مگر جب پاکستان کو دنیا کے تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی اقوامِ عالم نے آنکھیں پھیر لیں اب کرونا کی وجہ سے ملک مزید معاشی تباہی کے دہانے پر ہے جس کا دنیا کو ادراک کرتے ہوئے عمران خان کی حکومت سے دستِ تعاون بڑھانے میں کنجوسی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے کرونا پر قابو پانے کی اچھی کاوشیں کی ہیں آگاہی مُہم اور لاک ڈائون سے کرونا کے پھیلائو کو محدود کیا ہے جبکہ روزانہ کی اُجرت پر گزارہ کرنے والوں کا بھی دھیان رکھا ہے تاکہ کرونا سے بچ جانے والے بھوک و افلاس کا شکار نہ ہوں یہ رحمدلی ممکن ہے کچھ خرابی میں اضافہ کر دے لیکن یہ بھی فائدہ ہوگا کہ گھروں میں بند لوگ بھوک کا شکار نہیں ہوں گے ۔

یاسمین راشد کہتی ہیں لاہور سے راولپنڈی تک کا علاقہ کرونا کا گڑھ بن رہا ہے لیکن اُن کے موقف کی مکمل تائید نہں کی جاسکتی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب سمیت ملک کے دوسرے علاقوں میں کرونا تشخیص کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ لاہور سے لیکر راولپنڈی تک کچھ اچھی لیب ہیں جن سے تشخیص ممکن ہے جس کی وجہ سے یہاں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ محسوس ہوتا ہے اگر ملک کے تمام علاقوں میں تشخیص کی سہولتیں فراہم کر دی جائیں تو وہاں بھی کم وبیش لاہور سے راولپنڈی کے درمیانی علاقے جیسی صورتحال نظر آئے گی اِس لیے بہتر یہ ہے کہ وزیر صحت ڈرانے کی بجائے حکومت کو ایسی مثبت تجاویز دیں جن سے علاج ومعالجہ اور ٹیسٹ کا پورے ملک میںیکساں طور پر بہتر نظام قائم کیا جاسکے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ چینی کمپنی چائنا سائینو فارم انٹرنیشنل نے کرونا کی ویکسین تیار کر لی ہے اور پاکستان کو بھی یہ ویکسین فراہم کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔


ای پیپر