یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(ساتویں قسط )
25 اپریل 2020 2020-04-25

وزیراعظم کے ساتھ حالیہ ملاقات کے حوالے سے لکھے جانے والے کالموں کی اس سیریز کے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا ”خان صاحب کے وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے بعد میری پہلے دوبار اُن سے ملاقات ہوچکی ہے جسے میں منظر عام پر اِس لیے نہیں لایا بیوروکریسی میں موجود میرے دوستوں کی اکثریت کا مجھ پر دباﺅ تھا میں اُن کی من پسند پوسٹنگ کرواﺅں.... جو دوست سچ سُن لیتے اور برداشت کرلیتے تھے میں اُنہیں صاف صاف بتا دیتا وزیراعظم عمران خان کا مزاج سفارشیں ماننے والا نہیں ہے ، نہ میں اِس پوزیشن میں ہوں اُن کے ساتھ ذاتی تعلقات کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے تھوگ کے حساب سے اُنہیں سفارشیں کروں، فلاں افسرکو فلاں اہم عہدے پر لگا دیں، فلاں کو فلاں پر لگادیں، مخلص دوست افسروں نے میری اس مجبوری یا معذرت کو دل وجان سے قبول کرلیا، بلکہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے اس ”جرم“ کی وجہ سے مجھ سے ناراض بھی نہیں ہوئے، اِس کے برعکس جو دوست میری مجبوری کو نہیں سمجھ رہے تھے اُن سے مجبوراً مجھے جھوٹ بولنا پڑا کہ خان صاحب نے وزیراعظم بننے کے بعد مجھ سے اپنا رابطہ مکمل طورپر ختم کرلیا ہے ، اِس کا فائدہ مجھے یہ ہوا میرے اِن ”دوستوں“ نے بھی اپنا رابطہ مکمل طورپر مجھ سے ختم کردیا، البتہ جس افسر یا پولیس افسر کے بارے میں، میں ذاتی طورپر جانتا تھا وہ قابل ،اہل اور دیانتدار ہے اور اُسے وزیراعظم کی ٹیم کا لازمی حصہ بننا چاہیے اُس کے بارے میں وزیراعظم کو میں نے ضرور آگاہ کیا، اُنہوں نے میرے کہے کی لاج بھی رکھی، ایک دو پولیس افسروں کے بارے میں انہوں نے خود بھی مجھ سے پوچھا اُن کی شہرت کیسی ہے ؟۔ میں نے مزید تحقیق کرکے اُن کے بارے میں پوری ایمانداری سے اُنہیں بتادیا، .... ایک ڈی آئی جی اب تک منہ سُوجھا کر بیٹھا ہوا ہے ، وہ یہ سمجھتا ہے میں نے وزیراعظم سے اُس کی اُس طرح سفارش نہیں کی جس طرح اُس کے خیال میں مجھے کرنی چاہیے تھی، وہ چاہتا تھا میں اُس کا ہاتھ پکڑ کر، بغیر کسی اپوائٹمنٹ کے اُسے لے کر سیدھا وزیراعظم کے بیڈ روم میں چلے جاتا، بشریٰ بی بی سے گزارش کرتا ، آپ ذرا باہر چلیں میں نے وزیراعظم سے ضروری بات کرنی ہے ، پھر وزیراعظم کو میں یہ بتاتا کہ یہ پاکستان کا سب سے اہل، سب سے ایماندار پولیس افسر ہے ، آپ اِس کی فیلڈ میں اچھی پوسٹنگ نہیں کریں گے آپ کی حکومت اور گورنس عالمی سطح کی بدنامیوں سے دوچار ہو جائے گی، اور اُنہیں یہ بھی بتاتا ” گوکہ پچھلی حکومت میں یہ بہترین فیلڈ پوسٹنگ حاصل کرتا رہا ہے ، مگر یہ طے ہے یہ آپ کے سوا کسی کے ساتھ مخلص نہیں، یہ آپ کو ٹوٹ کر چاہتا ہے ، اتنا ٹوٹ کر آپ کے والدین یا آپ کی اولاد نے بھی شاید آپ کو نہیں چاہا ہوگا، ہوسکتا ہے کسی بیگم نے بھی اتنا ٹوٹ کر آپ کو نہ چاہا ہو جتنا یہ افسر چاہتا ہے ، .... افسوس میں اپنے اُس دوست پولیس افسر کی اس طرح سفارش نہیں کرسکا، اب وہ ایسے مجھ سے ناراض ہوکر بیٹھ گیا ہے میرے مسیج کا رپلائی تک نہیں کرتا، مجھے یقین ہے میرے علاوہ وہ اُن بے شمار لوگوں کے مسیجز یا کالز کا رپلائی بھی نہیں کرتا ہوگا جنہیں میری طرح اپنی فیلڈ پوسٹنگ کے لیے اُس نے استعمال کیا اور ناکام رہا، کل ایسے ہی بیٹھے بیٹھے میں سوچ رہا تھا اپنے کسی مسیج کا اُس سے فوری رپلائی کروانے کے لیے اُسے یہ مسیج کروں ”کہ وزیراعظم نے آپ کو بالآخر سی سی پی او لاہور تعینات کرنے کے لیے آپ کی شہرت بارے مجھ سے پوچھا ہے ، اب آپ بتائیں میں اُنہیں کیا بتاﺅں ؟؟؟“.... بس یہی ایک صورت رہ گئی ہے میرا اُس سے رابطہ بحال ہو، اور میں اُس کی خدمت میں حاضر ہوکر اُسے یقین دلانے کی کوشش کروں جناب ہرکام میری حتیٰ کہ وزیراعظم کی مرضی سے بھی نہیں ہوتا ورنہ وفاقی کابینہ میں کم ازکم فردوس عاشق اعوان اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کبھی شامل نہ ہوتے.... یہ تو میرے بیوروکریٹس دوستوں کا رویہ ہے ، میرے کچھ سیاسی دوستوں کا رویہ بھی مختلف نہیں ہے ، پی ٹی آئی کے بے شمار ارکان قومی وصوبائی اسمبلی سے میراذاتی تعلق ہے ، پچھلے کئی برسوں سے ہم نے مل کر جدوجہد کی، ان ارکان پارلیمنٹ میں کچھ ایسے بھی ہیں جو گورنمنٹ ایف سی کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے سٹوڈنٹس تھے، ان میں سے بے شمار کی خواہش تھی میں اُن کی اُنگلی پکڑوں اور اُنہیں وزیراعظم عمران خان کے پاس لے جاکر یہ ضمانت دوں یہ ہمیشہ آپ کا وفادار رہے گا، یا اِس سے زیادہ آپ کا وزیر یا مشیر بننے کا حق اور کسی کا نہیں بنتا، .... اللہ جانتا ہے میں نے کسی کی سفارش نہیں کی، البتہ اِس ضمن میں بھی وزیراعظم نے خود مشورہ کیا تو جو مناسب سمجھا ایمانداری سے اُنہیں بتادیا۔ سو میں یہ گزارش کررہا تھا اس سے قبل وزیراعظم سے جو ملاقاتیں ہوئیں اُن کا کہیں ذکر میں نے اِس لیے نہیں کہا کہ دوستوں کی جائز ناجائز خواہشات سے تنگ آکر میں نے اُن سے یہ کہہ دیا تھا کہ ”وزیراعظم بننے کے بعد وہ بڑے بے دید ہوگئے ہیں، اب میرے مسیجز کا جواب بھی وہ نہیں دیتے“۔ شکرہے وزیراعظم بننے کے بعد اُن کی شہرت مزید اِس قسم کی ہوگئی، خصوصاً جب اپنے معاون خصوصی عون چودھری کو اُنہوں نے فارغ کیا سب کو یقین ہوگیا اُنہیں وزارت عظمیٰ چڑھ گئی ہے ، اب اپنے پرانے دوستوں، خدمت گزاروں اور عزیزوں کو وہ کبھی خاطر میں نہیں لائیں گے .... البتہ ایک بار اس حوالے سے مجھے سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، ایک بیوروکریٹ دوست نے مجھ سے کہا فلاں پوسٹ پر تعیناتی کے لیے وزیراعظم سے میری سفارش کردو، میں نے حسب معمول اُن سے یہی کہا میرا وزیراعظم سے اب کوئی رابطہ نہیں، نہ زندگی بھر اب کوئی رابطہ میں ان سے کروں گا، میں ایک عزت دار شخص ہوں، وزیراعظم کو پچھلے دنوں کتنی کالیں اور مسیجز میں نے کیے، کسی ایک کا جواب اُنہوں نے نہیں دیا، چوبیس برسوں کے تعلق کو وزیراعظم بنتے ہی اُنہوں نے ختم کردیا، وہ ایک بے فیض بے دید انسان ہیں، ایسے شخص سے مزید تعلق رکھنا میں اپنی توہین سمجھتا ہوں“ .... اِس طرح کی لمبی چوڑی غصیلی تفصیل اپنے اِس بیوروکریٹ دوست کی خدمت میں، میں نے عرض کردی، دوست نے مجھے بہت سمجھایا کہ آپ میرے کام کے لیے بے شک سفارش نہ کریں پر اتنے پرانے اور ذاتی تعلقات کو اتنی جلدی ختم نہیں کرتے، وزیراعظم کی کئی طرح کی مصروفیات ہوتی ہیں وہ بے چارہ اپنے گھر، اپنی بیگم بچوں کو وقت نہیں دے پاتا، دوست کس کھاتے میں آتے ہیں “۔ ....میں نے اپنے اس بیوروکریٹ دوست کے یہ تمام دلائل پوری قوت کے ساتھ مسترد کرکے اُنہیں بتادیا ” اب میرے والدین بھی قبر سے اُٹھ کر کہیں میں وزیراعظم سے ملوں گا نہ بات کروں گا“،.... اُسی شام وزیراعظم ہاﺅس سے کال آگئی، مجھے اگلے دن پہنچنے کے لیے کہا گیا، وزیراعظم سے ملاقات سے پہلے مجھے اُن کے پرنسپل سیکرٹری کے کمرے میں لے جایا گیا، کمرے میں پہنچتے ہی میرا رنگ فق ہوگیا، میرا وہی بیوروکریٹ دوست ایک سفارشی وزیر کو لے کر پہلے سے وہاں بیٹھا ہوا تھا، وہ بھی مجھے وہاں دیکھ کر حیران رہ گیا، زیادہ شرمندگی اُس وقت ہوئی جب وزیراعظم کے سٹاف افسر اُن کی موجودگی میں مجھ سے کہنے لگے وزیراعظم صاحب آپ کی بڑی عزت کرتے ہیں ” ابھی پچھلے ہفتے آپ کی ان سے ملاقات ہوئی آج پھر انہوں نے آپ کو بلا لیا ہے “.... کچھ نہ پوچھیں اُس وقت میری کیا حالت ہوئی ؟(جاری ہے )


ای پیپر