سکرین شوٹ

ون یونٹ یا صدارتی نظام نافذ کیا تو ملک ٹوٹے گا: بلاول بھٹو
25 اپریل 2019 (15:51) 2019-04-25

اسلام آباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جس کا وزیر خزانہ کہتا ہے ہماری پالیسیوں سے عوام کی چیخیں نکلیں گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو کہتی ہے مہنگائی ایشو نہیں۔ یہ ظالم حکمران ہیں ان کے دل میں غریب عوام کیلئے کوئی درد نہیں۔ اب یہ لوگ کٹوتی پر سوچ رہے ہیں اور سبسڈیز ختم کریں گے تاکہ امیروں کو ریلیف پہنچا دیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوام کا خیال رکھیں ورنہ ری ایکشن آئے گا اور اس بجٹ میں ریلیف نہ ہوا تو عوام خود نکلیں گے۔ عوام ایک حد تک برداشت کر سکتے ہیں جبکہ آپ عوام پر جو بوجھ ڈالنے والے ہیں ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ آپ کہتے تھے آئی ایم ایف سے ڈیل لینے سے پہلے خود کشی کر لوں گا لیکن آپ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اعتماد میں نہیں لیا۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر ون یونٹ یا صدارتی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو خبردار کرتا ہوں ملک ٹوٹے گا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے وزیراعظم کیلئے مذکر کی بجائے مؤنث کا استعمال کیا اور کہا کہ اگر عمران خان ’سمجھتی‘ ہیں اس قسم کا بیان دے کر وہ کسی کی تضحیک کر رہے ہیں تو وہ اپنے آپ کی تضحیک کر رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں وہ کیسے وزیراعظم بنے اور اب اگر بن ہی گئے ہیں تو اس کرسی کا احترام کریں اور اپنا کام کریں۔

وزیراعظم کے بیان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس قسم کا بیان دینے سے آپ اپنا قد چھوٹا کرتے ہیں۔ کسی اور کا قد چھوٹا نہیں ہوا، یہ کہنے سے مردوں کے ساتھ کچھ نہیں ہو گا لیکن یہ پاکستان کی بیٹیوں، بچیوں اور عورتوں کیلئے کیا پیغام ہے۔

انہوں نے کہا وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ عورت ہونا ایک گالی ہے، یہ انتہائی قدم ہے آپ مدینہ کی ریاست کی باتیں کرتے ہیں اگر اسلام میں عورتوں کا کردار نہ ہوتا تو کیا ہمیں کربلا یاد ہوتا۔ یہاں ہماری خواتین مردوں کے شانہ بشانہ تھیں اور اگر فاطمہ جناح نہ ہوتیں تو کیا پاکستان بنتا، اگر وہ نہ ہوتیں تو کون ایوب خان کے سامنے دیوار کی طرح کھڑا ہوتا۔


ای پیپر