سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نیب تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش
25 اپریل 2019 (13:09) 2019-04-25

راولپنڈی :سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی کیس میں نیب راوالپنڈی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنا جواب جمع کروا دیا اورمشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سوالوں کے جواب بھی دیئے ۔ شاہد خاقان عباسی کو نیب کی جانب سے 70سے زائد سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا تھا اور ان سے ان سوالوں کے جواب طلب کئے تھے ۔

تفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی کیس میں نیب کی جانب سے پوچھے گئے تمام سوالوں کے جواب دے دیئے اور نیب کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ شاہد خاقان عباسی کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ایل این جی معاہدے ملکی او ر بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق کئے گئے تھے ۔ قطر سے ایل این جی دیگر ملکوں کی نسبت کم نرخ پر خریدی۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی اور کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔ جوب میں کہا گیا ہے کہ قطر سے جو معاہدہ کیا گیا تھا اس کے تحت سستی ترین ایل این جی خریدی گئی تھی اور ایل این جی خریدنے کا مقصد ملک میں 2014اور 2015میںجاری توانائی کا بحران تھا ۔ٹرمینلز کے ٹھیکوں میں بھی تمام قوانین کا خیال رکھا گیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ ہر فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

پیشی سے قبل نیب دفتر کے باہر میڈیا کی جانب سے شاہد خاقان عباسی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کی گرفتاری بھی ہو سکتی ہے تو اس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ باالکل ایسا ہو سکتا ہے اور پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرا ایئر بلیو سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایک سوال کیا گیا کہ ایل این جی کیس میں جواب لائے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہر قسم کا جواب میرے پاس موجود ہے اور میں خود یہاں موجود ہوں اور میرے پاس ہر جواب ہے۔


ای پیپر