اس شخص کے بارے میں کیا کہیں
25 اپریل 2018 2018-04-25


عرفان صدیقی نے اچھا کیا ۔۔۔ فیصلہ تو اصولی اور اخلاقی تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنا مشیر مقرر کیا ۔۔۔ وفاقی کابینہ کے رکن کا درجہ دیا ہے۔۔۔ عرفان نے اپنا مقبول ترین کالم لکھنا بند کر دیا۔۔۔ اندرون اور بیرون ملک لاکھوں مشتاق قارئین ان کے قومی و سماجی امور پر گہری بصیرت کے حامل اور دلآویز اسلوب تحریر کا پیراہن لیے ہوئے کالموں کی لذت آ گہی سے محروم ہو گئے ہیں۔۔۔ لیکن میرے گھر میں یوں کہیے کہ چین سا آ گیا۔۔۔ میرے لیے روزانہ صبح عین اس وقت جب رات بھر سو کر اٹھنے اور خدائے وحدہٗ لا شریک کی ذات باری کا نام لینے کے بعد رزق خداوندی کی نعمت کا پہلا لقمہ حلق میں اتارنے کا مرحلہ آتا۔۔۔ ناشتے کی گھڑی قریب آتی تو اخبار بھی سامنے آ جاتا۔۔۔ اہلیہ سب سے پہلے اس اخبار پر نگاہ ڈالتیں جس کے اندر عرفان صدیقی کے کالم اور میری معروضات ایک ہی دن شائع ہوتیں۔۔۔ اس خاتون سے شادی ہوئے خدا جھوٹ نہ بلوائے پینتالیس برس گزر چکے ہیں نصف صدی سے پانچ کم ۔۔۔ مگر رقابت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔۔۔ اخبار اٹھاتیں پہلے عرفان بھائی کا کالم بڑے ذوق و شوق بلکہ خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھتیں۔۔۔ پھر خاص طنزیہ انداز میں میری ٹوٹی پھوٹی تحریر پر نگاہ ڈالتیں۔۔۔ اس کے بعد گویا ہوتیں دیکھ لی اپنی اوقات۔۔۔ عرفان صدیقی نے کیا موتی پروئے ہیں۔۔۔ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ آنکھوں کے لیے لذیذ طعام اور دل و دماغ کے لیے فرحت بخش مشروب کا اہتمام کیا ہے۔۔۔ مقابلے میں جناب نے کیا دال بگھاری ہے۔۔۔ تڑکا لگانے کا سلیقہ بھی نہیں آتا۔۔۔ میں جواب دینے کی کوشش کرتا وہ عرفان بھائی کے کالم سے سطریں پڑھ کر سنانا شروع کر دیتیں اور پھر میرے ایک دو جملے سنا کر کہتیں کوئی موازنہ ہے میں زچ ہو کر رہ جاتا۔۔۔ ناشتے کا مزہ خراب ہو جاتا۔۔۔ بیگم صاحبہ باز آنے والی نہیں۔۔۔ عرفان بھائی کے رشحات قلم سے وہ موصوف کے تمام قارئین کی مانند متاثر تھیں لیکن میری معروضات کے ساتھ مقابلہ کر کے ان کی تسکین کا سامان ہوتا۔۔۔ تمام رقابتوں اور دہائیوں پر پھیلے ہوئے۔۔۔ گلے شکووں کی بھڑاس نکال لیتیں۔۔۔ اور یہ کوئی ایک دن کی بات تھوڑی تھی۔۔۔ مجھے بھی روزانہ لکھنا ہوتا تھا عرفان بھائی بھی اسی اخبار میں ہر صبح پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو جاتے تھے اور اہلیہ صاحبہ کو بھی میری جانب سے اپنے ساتھ ہونے والی تمام من گھڑت زیادتیوں کے ازالے کا موقع مل جاتا۔۔۔ میرے بس کی بات نہ تھی کیونکہ نقش خیال کے عنوان سے چھپنے والے کالموں میں اتنی چاشنی ہوتی کہ مجبوری کی ایک نظر ڈال کر میں بھی بے اختیار داد دیے بغیر نہ رہتا۔۔۔ بیوی کو ان کے کالم پڑھنے سے روکنا میرے لیے ازحد مشکل تھا ۔۔۔ تنگ آ کر فیصلہ کیا موقع ملے گا تو عرفان بھائی سے بات کروں گا اور پوچھوں گا آپ کالموں میں وہ کون سا جادو بھر دیتے ہیں جن کی وجہ سے روزانہ صبح میرے گھر میں میری ہی معروضات کی رسوائی کا سامان ہوتا ہے۔۔۔ کچھ علاج اس کا بھی اے! چارہ گراں ہے کہ نہیں؟۔۔۔ اتفاق سے چند دن کے اندر لاہور میں ایک دوست کی آراستہ کی ہوئی دعوت طعام پر ملاقات ہو گئی۔۔۔ عرفان بھائی بے پناہ محبت اور گہرے خلوص کے ساتھ ملے۔۔۔ میں نے بیٹھتے ہی درد دل جو کہ حقیقت میں درد معدہ تھا کہ روزانہ میرا ناشتہ خراب کرتا تھا ان کے سامنے رکھنے کی ٹھان لی۔۔۔ کہا عرفان صاحب اس شخص کے بارے میں آپ کیا رائے رکھیں گے جو روزانہ صبح پردہ غیب سے کاغذ کے ایک ٹکڑے کی صورت میں نمودار ہو کر بظاہر ہنسی خوشی زندگی گزارنے والے میاں بیوی کی چائے کی پیالیوں میں تلخی کے گھونٹ ملا دیتا ہے۔۔۔ ان کی باہمی رقابتوں کی دبی چنگاریوں کو بھڑکا دینے کی سعی کرتا ہے۔۔۔ عرفان نے پوچھا گھر کی چوکھٹ پر تعویذ رکھے جانے کا شبہ ہے۔۔۔ میں نے کہا تعویذ ہی تو ہے۔۔۔ پوچھا آپ نے خود دیکھا ہے۔۔۔ میں نے اثبات میں سر ہلا کر کہا اخبار میں روزانہ چھپنے والا آپ کا کالم! پھر ساری داستان الم ان کے سامنے رکھ دی۔۔۔ بولے آپ کہیں تو لکھنا بند کر دیتا ہوں۔۔۔ مجھے آپ کے گھر کا سکون اپنی ہر خوشی سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔ میں عرض کناں ہوا لیکن لاکھوں قارئین کی تسکین طبع کا خون تو آپ نہیں کریں۔۔۔ بس اتنا کیجیے اس اخبار میں لکھنا شروع کر دیجیے جو میرے گھر نہ آتا ہو۔۔۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر بھی چھا گئی کہا اس کا بندوبست تو آپ خود کر سکتے ہیں اخبار والوں سے بات کر لیں۔
عرفان صدیقی نے جب سے کالم لکھنا شروع کیا بڑے بڑوں کو مات کر کے رکھ دیا ۔۔۔ کالم کیا چیز ہوتا ہے۔۔۔ ایک صحافتی تحریر کو روزانہ کے حساب سے ادب عالیہ کا روپ کس طور دیا جاتا ہے۔۔۔ الفاظ کے موتی چننے، انہیں خوبصورت اور اپنے اندر الفاظ و معانی کی گیرائی رکھنے والے ابلاغ عامہ کے شاہکار فقروں کی لڑی میں کیسے پرو دیا جاتا ہے۔۔۔ فقروں کی مالا کو زبان کی فصاحت میں کس طرح ڈھال دیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے وہ ایک خوبصورت تحریر سے لذت آشنا ہو کر ذوق ادب کو تسکین دے رہا ہے یا صحافتی تجزیے سے شاد کام ہو کر خود کو سیاست حاضرہ کی پیج در پیج گہرائیوں سے واقفیت بہم پہنچا رہا ہے۔۔۔ یہ کام کوئی عرفان صدیقی سے سیکھے۔۔۔ مگر یہ منجی پیڑی ٹھوکنے کا کام تو نہیں جسے آپ ایک دو ہفتے کرتا دیکھ لیں آسانی کے ساتھ اس کے فن شریف کے عروض و معانی پر گرفت حاصل کر لیں۔۔۔ اس کے لیے ریاضت کرنی پڑتی ہے۔۔۔ عمر بھر کا مطالعہ چاہیے۔۔۔ ادب و شاعری سے گہری آشنائی درکار ہے۔۔۔ اس کے ساتھ اگر عرفان صدیقی کی مانند حالت حاضرہ پر زندہ اور معلومات سے بھرپور بصیرت افروز تبصرہ کرنا مطلوب ہو تو صحافت سے متعلقہ علوم ابلاغیات یعنی Communication کے فن پر مکمل دسترس پیدا کرنا ہو گی تب آدمی عرفان صدیقی کے کالموں جیسی تحریر کے آس پاس بھٹکنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔۔۔ مگر عرفان صدیقی کی تحریروں کا وصف صرف یہ نہیں کہ ہر صبح چھپنے کے لیے جاذب نظر رواں دواں تحریر کے روپ میں الفاظ و فقروں کا گلدستہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہے بلکہ کمال فن یا شخصیت یہ بھی ہے اس کے یہاں خیالات کا تسلسل پایا جاتا ہے۔۔۔ حالات کا تغیر اور موسمی ہواؤں کی پیدا کردہ سردی و گرمی اسے اپنے اصولوں سے نہیں ہٹا پاتی۔۔۔ اس کے قلم کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آتی۔۔۔ یہ وہ وصف ہے جو عنقا ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ وہ بیس برس پہلے بھی آئینی جمہوریت اور اس کے سختی کے ساتھ تسلسل کا حامی و موئد تھا اب بھی ہے۔۔۔ آمریت سے نفرت پہلے بھی تھی اب بھی ہے جبکہ ملک کا جمہوری نظام سخت دباؤ کا شکار ہے اس میں کمی نہیں واقع ہو رہی ۔۔۔ اس کے خیالات و افکار اور سیاسی پسند و نا پسند کے معیارات میں کوئی فرق نہیں آیا۔۔۔ مؤقف میں تبدیلی نہیں آئی یوں کسی تبدیلی کا جواز پیدا کرنے کے لیے اسے ’’نادر روزگار‘‘ تعبیرات کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔۔۔ جدید عہد میں اسلام کا نظریاتی شعور اس کے دل و دماغ میں رچا بسا ہے۔۔۔ اس کی تحریروں سے اس کا مسلسل اظہار بھی ہوتا ہے۔۔۔ ملائیت سے فاصلہ رکھتا ہے اس کے ساتھ لبرل ملائیت کو بھی قریب نہیں پھٹکنے نہیں دیتا۔۔۔ اپنی اسلام اور دین پسندی پر معذرت کا رویہ نہیں اختیار کرتا۔۔۔ اسلام اور جمہوریت کا ملاپ اس کی ہر ہر تحریر کے اندر جھلکتا ہے۔
اب جو عرفان بھائی نے سرکاری مصروفیات کی وجہ سے روزانہ کالم نگاری کا سلسلہ موقوف کر رکھا ہے تو اپنے قارئین کے ساتھ گہرے رشتے کو نہیں بھولا۔۔۔ پچھلے دو چار سالوں کے اندر اس کے کالموں کے کئی مجموعے زیور طباعت سے آراستہ ہو کر سامنے آئے ہیں۔۔۔ نقش خیال، دائروں میں سفر مکہ مدینہ ، جادونگری، کالم کہانی اور جو بچھڑ گئے کے عنوانات سے علیحدہ علیحدہ نسخے پہلے طبع ہو کر قارئین کے لیے قند مکرر کے لطف اور ذہنی تازگی کا باعث بن چکے ہیں۔۔۔ ساتواں نسخہ حال میں ’’جو بچھڑ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا ہے۔۔۔ اس میں تقریباً وہ تمام کالم جمع ہو گئے ہیں جو مشاہیر کی وفات پر لکھے گئے۔۔۔ صرف معاصرین نہیں علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کاشمیری جیسی ادب و عرفان اور صحافت کی نامور شخصیات کو بھی گل ہائے عقیدت پیش کیے ہیں۔۔۔ معاصرین میں سے اس دنیا سے رخصت ہو جانے والوں میں سے کون ہے جن کی ذات و شخصیات کو خراج تحسین پیش نہیں کیا ۔۔۔ ان کی شخصیات کے محاسن اجاگر نہیں کیے۔۔۔ قومی زندگی پر ان کے مثبت اثرات کو نمایاں نہیں کیا ۔۔۔ بینظیر بھٹو کی سیاست سے انہیں نظریاتی اختلاف رہا ہے۔۔۔ کبھی چھپا کر نہیں رکھا۔۔۔ لیکن ان کے مظلومانہ قتل پر چھ ایسے کالم لکھے ہیں کہ پی پی پی کے حامی کسی لکھنے والے کو نصیب نہ ہوا ہو گا۔۔۔ نواب اکبر بگٹی میاں محمد شریف ، قاضی حسین احمد ، سلیم شہزاد پر دو دو جبکہ اپنی والدہ مرحومہ و مغفورہ کی نہ مٹنے والی یاد کو جگر پر ہاتھ رکھتے ہوئے تین کالموں کی نذر کیا ہے۔۔۔ میاں طفیل محمد، پروفیسر غفور احمد، جسٹس بھگوان داس، ڈاکٹر اسرار احمد ، ارشاد احمد حقانی، مولانا نعیم صدیقی کس کس کا نام لیجیے۔۔۔ ان سب کی خوبصورت اور نہ مٹنے والی یادوں کا تذکرہ آپ یہاں موجود پائیں گے۔۔۔ نواب اکبر بگٹی کی وفات پر رقمطراز ہیں۔۔۔’’جمعرات کے دن بلوچستان نیشنل پارٹی کے بپھرے ہوئے رکن عبدالرؤف مینگل نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا ’’اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کو کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔۔۔ لاشیں اس کے ورثاء کے حوالے نہیں کی جا رہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کا ثبوت نہ مل سکے۔۔۔ بلوچ جماعتوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے بات کریں۔۔۔ نیٹو کی افواج سے رابطہ کریں۔۔۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کریں کہ وہ ہمسایہ ریاستی دہشت گردی سے بچائیں۔۔۔ اگر حکومت نے مقتولین کی نعشیں ہمارے حوالے نہ کیں، اگر تمام افراد ہلاک نہ کئے گئے،اگر فوجی آپریشن ختم نہ کیا گیا تو مجبوراً ہم دنیا سے رابطہ کریں گے۔۔۔ ہمیں جرنیلوں نے بغاوت کی راہ پر ڈال دیا ہے۔۔۔ ہم اپنے سندھی، پشتون اور سرائیکی بھائیوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اب ہمارے لیے وفاق میں کوئی جگہ نہیں رہی‘‘۔۔۔ آج کے بلوچستان پر نگاہ ڈالیے۔۔۔ دہشت گردی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔۔۔ عرفان صدیقی کے کالموں میں اس سے پہلے خبردار کر دیا گیا تھا۔۔۔یہ نمونہ مشتے از خروارے ہے پوری کتاب میں ملکی حالات کے بارے میں آنے والے خدشات سے آگاہی ملے گی۔۔۔ اب کالموں کا ساتواں مجموعہ بھی بطن مادر سے برآمدگی کے لیے تڑپ رہا ہے ’’نگار خانہ‘‘ اس کا نام ہو گا اور یہ بھی قومی شخصیات کے حوالے سے ہو گا۔۔۔ عرفان صدیقی غضب یہ کرتے ہیں۔۔۔ جب جب کوئی مجموعہ چھاپتے ہیں۔۔۔ ایک نسخہ مجھے ارسال کر دیتے ہیں۔۔۔ اہلیہ یکدم کھول کر پڑھنا شروع کر دیتی ہیں اور مجھ غریب پر ان کی ’’زبان دراز کلام‘‘ سے تیروں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔۔۔ عرفان بھائی سے بار بار کہتا ہوں بس کر یار۔


ای پیپر