کون کامیاب کون ناکام؟

25 اپریل 2018

طارق محمود چوہدری



امریکنو ں نے ایک مرتبہ پھر روایتی کنجوسی سے کام لیا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارکردگی کا اعتراف تو کیا لیکن تنگ دلی اور بخیلی کی آخری حد پر پہنچ کر۔ یوں جیسے بادل نخواستہ اعتراف حقیقت کر رہے ہوں۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سال گزشتہ کی انسداد دہشت کے حوالے سے ممالک کی پر فارمنس رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف دہشت گردی پر نمایاں شرح سے قابو پایا گیا ہے بلکہ دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی شرح میں بھی 40 فی صد کمی آئی ہے۔امریکی سرکاری محکمے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو شاید کچھ خوش فہم اپنے لئے سرٹیفکیٹ سمجھتے ہوں لیکن قلمکار ایسا نہیں سمجھتا۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو پرفارمنس دی ہے ایسی کارکردگی عصر حاضر میں شاید ہی کسی اور ملک و قوم نے دکھائی ہو۔بڑے بڑے طاقتور ممالک نے وسائل کے انبار، جدید ٹیکنا لوجی پر دسترس ہونے کے باوجود دہشتگردی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔لیکن پاکستان نے اس کڑے چیلنج کو قبول کیا۔سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس رپورٹ میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سال گزشتہ میں ماہ اکتوبر تک دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک ہزار چوراسی تھی۔جبکہ دو ہزار سولہ میں یہ تعداد پونے دوہزار کے قریب تھی۔یہ اعداد و شمار سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کیلئے ادارے ساؤتھ ایشیاٹیررازم پورٹل کی تکنیکی معاونت سے مرتب کیے گئے۔یہ رپورٹ صرف دہشت گردی سے متعلق موضوعات کا ہی احاطہ نہیں کرتی بلکہ اس میں انسانی حقوق کے حوالے سے اہم امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کا یہ حصہ گلوبل ہے۔اور دنیا بھر کے معاملات کو امریکیوں نے اپنے تعصب کی عینک سے دیکھا ہے۔وہ تمام ممالک جو امریکی استعمار کے آگے جھکنے سے انکاری ہیں۔ان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔جبکہ تابعدارممالک کو نیک چلنی کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ایران،شمالی کوریا،عراق،لیبیا بعض دوسرے ممالک تو انسانی حقوق کے مجرم ٹھہرے۔البتہ بھارت،اسرائیل اور اس کے اتحادی،پاک باز ممالک۔ یہ امریکیوں کی پرانی تکنیک ہے۔بالکل بابے رحمتے کی مانند۔مخالف کو رگڑا لیکن ایسے ہی دکھاوے کیلئے اپنے لاڈلے کو ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ۔تا کہ توازن قائم رکھا جائے۔لہٰذا اسرائیل اور بھارت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر اقلیتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائیں۔اور صورت حال کو بہتر بنائیں۔ابھی کچھ روز قبل مودی جی کا
من ویلتھ سربراہی کانفرنس میں شرکت کیلئے گئے۔ٹین ڈاوننگ سٹریٹ اور اس کے گرد ونواح کی گلیاں بازار بھارت میں بسنے والی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں سے اٹی پڑی تھیں۔ مسلمان، سکھ، عیسائی، دلت، نکسل باڑی، کمیونسٹ پارٹی سب یک جان،یک آواز تھے۔ہم محفوظ ہیں نہ ہماری عبادت گاہیں، جان کو تحفظ حاصل ہے نہ عزت محفوظ۔ لیکن بھارت پھر بھی کلیئر اورباقی ماندہ کٹہرے میں۔حتیٰ کہ سعودی عرب بھی جو مشرق وسطیٰ ہی نہیں عالم اسلام میں بھی امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔بات اب انسانی حقوق کی چل نکلی ہے تو اس چارج شیٹ کا تذکرہ کرتے ہیں جو امریکی ادارے نے انسانی حقوق کے حوالے سے جاری کی ہے۔ایسے ملک پاکستان میں جہاں اقلیتوں کی مقامی حکومتوں سے لے کر صوبائی اسمبلی،قومی اسمبلی، اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے سینیٹ میں نمائندگی موجود ہے۔تمام صوبائی اور مرکزی کابینہ میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد وزارتوں پر فائز ہیں۔سینیٹ میں تو ان کو اقلیتی نشست کے علاوہ جنرل سیٹ پر بھی منتخب کرایا جاتا ہے۔اسی طرح خواتین کے حقوق کا تذکرہ دنیا کے ہر فورم پر کیا جاتا ہے۔پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کی وزیراعظم ایک خاتون دو بار رہیں۔محترمہ بینظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پربھی ایک خاتون فہمیدہ مرزا فائز رہیں۔مقابلے کے امتحانات اور ہر سطح کی سرکاری اسامیوں پر خواتین کیلئے کوٹہ مختص ہے۔خواتین فائٹر پائلٹ سے لے کر کمانڈوز تک اور طب سے لے کر کھیل تک ہر شعبہ میں نمائندگی کر رہی ہیں۔پارلیمنٹ کی بات کریں تو خواتین کی بھاری تعداد اسمبلیوں میں ریزرو سیٹوں پرموجود ہے۔یہی نہیں بلکہ خواتین کی بھاری تعداد ڈائریکٹ الیکشن میں مردوں کا مقابلہ کرتی اور جیت کر اسمبلی میں پہنچتی ہیں۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں خواتین کو جنسی ہراسگی سے بچانے کیلئے سخت قوانین بنائے گئے۔تاکہ کوئی ان کو دفاتر میں دوران جاب ہراساں نہ کر سکے۔اسی طرح خواتین کی دادرسی کیلئے خاتون محتسب کا تقرر کیا گیا ہے۔خواتین اپنے مسائل لے کر خاتون محتسب کے پاس جاتی ہیں۔الزام ثابت ہوجائے تو مرتکب فرد کو سخت سزا دی جاتی ہے۔خاتون محتسب کو ہائی کورٹ کے جج کے مساوی اختیار ات حاصل ہیں۔امریکی رپورٹ میں جبری گمشدگیوں کا پرانا راگ الاپا گیا ہے۔شاید امریکی اداروں کو معلوم ہی نہیں کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن لا پتا افراد کے لواحقین کی شکایات کا جائزہ لے رہا ہے۔کمیشن اب تک تین ہزار سے زائد لا پتا افراد کے معاملات کو نمٹاچکا ہے۔امریکی حکام الزام تراشی لگاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان غیر معمولی حالات سے گزررہا ہے۔ایسے کئی واقعات ریکارڈ پر ہیں کہ ملک دشمنوں نے کسی شہری کو ورغلا کردہشت گردی کیلئے استعمال کیا۔انسانوں کے قاتلوں،خود کش حملہ آوروں،ان کے سہولت کاروں کے ساتھ عام مجرموں ایسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے۔اس جنگ میں ڈیڑھ سو ملین ڈالرزکا خسارہ ہو چکا ہے۔70 ہزار سے زائدشہادتیں ہو چکیں۔پاکستان کی دولاکھ فوج مغربی بارڈر پر تعینات ہے۔2400 سے زائد کلومیٹر کے ایریا پر باڑ لگائی جا رہی ہے۔کئی سو کلو میٹر کا قبائلی علاقہ واگزارکر کے سول انتظامیہ کے حوالے کیا جا چکا ہے۔دوسری طرف امریکہ ہے جو سولہ سال سے افغانستان میں موجود ہے۔کھرب ہا ڈالر خرچ کر چکالیکن ستر فی صد ایریا پر اس کا کنٹرول نہیں۔ایک طرف امریکی کار کردگی ہے دوسری جانب پاکستان کی پرفارمنس۔بین الاقوامی برادری خود فیصلہ کرلے کون کامیاب ہے کون ناکام۔

مزیدخبریں