گورنمنٹ کالج سرگودھا کا مسئلہ
25 اپریل 2018 2018-04-25



پاکستان میں دوطرح کے شہر آباد ہیں۔ ایک وہ شہر ہیں جوکہ اپنی ہزاروں اور سینکڑوں سالوں کی تاریخ رکھتے ہیں۔ یہ مختلف ادوار میں آباد اور تباہ ہوتے رہے مگر صفحۂ ہستی سے مٹے نہیں۔ ہر بار تباہی کے بعد دوبارہ سراٹھا کر کھڑے ہوگئے۔ یہ شہر ہمارے خطے کی قدیم تاریخ اور ثقافت کے امین ہیں۔ اس خطے کے رہنے والے دریائے سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے وارث ہیں۔ ہم موئن جوادڑو، ہڑپہ اور گندھارا تہذیبوں کا مرکز رہے ہیں۔ ملتان کا تقابل دنیا کے محض چند شہروں سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح لاہور، گجرات، ٹھٹھہ ، سکھر اور دیگر شہر بھی قدیم تاریخ اور ورثہ رکھتے ہیں۔
جبکہ دوسرے وہ شہر ہیں جوکہ انگریز سرکار نے جدید طرز پر تعمیر اور آباد کئے تھے۔ ان میں لائل پور، منٹگمری ، کیمبل پور اور سرگودھا نمایاں ہیں۔ یہ شہر دراصل ہندوستان میں سرمایہ دارانہ پیش رفت اور ارتقاء کی نشانیاں ہیں۔ ان شہروں نے آزادی کے 70سالوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ آزادی کے وقت یہ نوزائیدہ اور چھوٹے شہر تھے جواب بڑے شہروں کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ 70سال قبل لائل پور (موجودہ فیصل آباد) ایک چھوٹا سا شہر تھا جواب پاکستان کا تیسرا بڑا شہر اور بڑا صنعتی مرکز بن چکا ہے اس شہر نے بہت ترقی کی ہے مگر یہ شہر اپنے قدیم نام سے محروم ہوچکا ہے۔
میرے آبائی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام بھی تبدیل کرنے کی کوشش ہوئی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ ان شہروں کی تاریخ سوسال سے کچھ زائد ہوگی ۔ مگر ہم اس تاریخ کو بھی مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی نہ صرف نامور کالم نگار اور پبلشر ہیں بلکہ وہ ایک حقیقی عوامی دانشور اور متحرک سیاسی و سماجی شخصیت بھی ہیں۔ وہ ڈرائنگ روم دانشور نہیں ہیں بلکہ اس مٹی اور تاریخ سے جڑے ہوئے عوامی دانشور ہیں۔ وہ نہ صرف عوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں بلکہ انہیں لفظوں کی زبان بھی دیتے ہیں جب تک میں نے ان کی سرگودھا کے بارے میں تحریروں کا مطالعہ نہیں کیا تھا تو میرا خیال تھا کہ ان کے اندر 70-1960ء اور 80ء کی دہائی کا لاہور بستا ہے مگر بعد میں پتا چلا کہ ان کے اندر ابھی تک سرگودھا بھی بسا ہوا ہے۔
میں ان لوگوں کا دکھ سمجھ اور محسوس کرسکتا ہوں جوکہ مختلف شہروں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ وہ پیدا کہیں ہوتے ہیں ، لڑکپن کہیں گزارتے ہیں اور پھر جوانی سے بڑھاپا کہیں بسر کررہے ہوتے ہیں۔ وہ نت نئے دوست اور رشتے بناتے ہیں جوکہ لوگوں کے ساتھ بھی ہنستے ہیں اور جگہوں کے ساتھ بھی۔ میرابچپن گاؤں کی گلیوں اور کھیتوں کھلیانوں میں کھیلتے گزرا۔ لڑکپن اور نوجوانی ملتان میں بسر ہوئی جبکہ جوانی کا دور لاہور میں گزرا۔ ابھی تک ملتان یاد آتا ہے مگر حالیہ برسوں میں جب بھی ملتان جانے کا اتفاق ہوا تو زیادہ تر ملتان اجنبی سا لگتا ہے۔ ترقیاتی کاموں، میٹروبس پروجیکٹ، انڈر پاسوں اور فلائی اووروں نے شہروں کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں۔ ہم نے اپنی تاریخ ، ماضی اور ثقافت کو بھول کر یا اسے تباہ کرکے سیمنٹ اور سریے کے جنگل کو ہی ترقی کا واحد معیار سمجھ لیا ہے۔ 1990ء کی دہائی تک کینال روڈ جو کہ ٹھوکر نیازبیگ سے شروع ہوکر جلوموڑ تک جاتی ہے، کبھی انتہائی خوبصورت سڑک ہوتی تھی۔ نہرکے دواطراف سڑک اور درختوں کی بھرمار اسے خوبصورت بناتی تھی ۔اس کے بعد انڈرپاسوں اور سڑک کی چوڑائی کے نام پر کئی سال پرانے درختوں کا وسیع قتل عام ہوا۔ سڑک کی چوڑائی اور انڈرپاسوں کی تعداد بڑھتی گئی جبکہ درختوں اور سبزے کی مقدار اور تعداد کم ہوتی گئی ۔ اگر کسی نے اس نہر اورسڑک کو دودہائیوں قبل دیکھا تھاتو موجودہ سڑک اور نہر اس کے لیے اجنبی ہی ہوگی۔
لاہور اور ملتان میں قدیم شہر جوکہ دروازوں کے اندر اور اونچی فصیل کے پیچھے آباد ہے۔ اندرون شہر کا حلیہ جس بری طرح سے ہم نے ترقی، کمرشل ازم اور کاروباری توسیع کے نام پر بگاڑاہے اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ اندرون شہر کی پرانی حویلیاں، گھر، تاریخی عمارات ، گلیاں اور مکانات ہمارے پاس ایک بہت بڑا تاریخی ورثہ تھا جسے بڑے پیمانے پر تباہ کرکے اسے بڑی منڈیوں میں تبدیل کردیا گیا۔ دکانوں اور مارکیٹوں کا لامتناہی سلسلہ اس تاریخی ورثے کو نگل چکا ہے۔ اپنی اگلی نسلوں کو دکھانے کے لیے ہمارے پاس بہت ہی کم تاریخی ورثہ بچا ہے۔ باقی تو ورثے کے نام پر دکانیں اور پلازے ہی بچے ہیں۔ اندرون شہر کے ساتھ موجود گرین بیلٹوں کی بھی نشانیاں ہی باقی بچی ہیں باقی سب گرین بیلٹیں اور درخت یاتو سڑکیں کھاگئیں یا پھر ناجائز تجاوزات کی زد میں آکر غائب ہوگئیں۔
ہم اس بحث اور بات چیت سے پرہیز کرتے ہیں کہ ہمارے شہر 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں زیادہ خوبصورت تھے کہ اب ہیں۔ یہ شہر اس وقت رہنے کے قابل تھے یا اب ہیں۔ اس طرح یہ بحث بھی ہونی چاہیے کہ ہمارا نظام تعلیم بہتر ہوا ہے یا پھر ہم ترقی معکوس کا شکار ہوکر پیچھے کی طرف اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
منڈی کی معیشت نے منڈی کی ثقافت اور روایات کو بھی جنم دیا ہے۔ لہٰذا دولت کی ریل پیل ہی ترقی، کامیابی وکامرانی کا واحد پیمانہ بن چکا ہے۔ منڈی کی معیشت میں ہروہ شخص ناکام تصور کیا جاتا ہے جو دولت کمانے اور اکٹھی کرنے سے قاصر ہے۔
منڈی کی معیشت اور نیولبرل ازم نے تعلیم کو بھی جنس بنادیا ہے جس کی خریدوفروخت کی جاتی ہے۔ تعلیم اب بنیادی ضرورت نہیں بلکہ سرمایہ داروں کے لیے منافعوں کے حصول کا ذریعہ بن چکی ہے۔ پوری دنیا میں یونیورسٹیاں تحقیق ، بحث ومباحثے اور نت نئے خیالات اور تصورات کو پیش کرنے اور انہیں پروان چڑھانے کا اہم ترین مرکز ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں تو تعلیم محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ رہ گئی ہے۔ اسی وجہ سے نیوز چینلز پر آج کل ایک تشہیری مہم چل رہی ہے جس میں اعتراف موجود ہے کہ ہمارا نظام تعلیم باقی دنیا سے 60سال پیچھے ہے۔ اس کے باوجود ہم نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم بنیادی تبدیلیوں کا متقاضی ہے۔
اسی طرح 2002ء میں پنجاب کے متعدد گورنمنٹ کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر مختلف شہروں کے رہنے والوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا گیا۔ اسی پالیسی کے تحت گورنمنٹ کالج لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور متعدد کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ اس پالیسی اور اقدام سے چھوٹے شہروں کے طلباء وطالبات پر بھی اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے جوکہ لاہور، ملتان یا اسلام آباد جاکر تعلیم حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔
گورنمنٹ کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا بنیادی مقصد تو یہ تھا کہ یہ کالجز بھی موجود رہیں اور پہلے موجود سہولیات کو بہتر بناکر اور بڑھا کر اعلیٰ تعلیم بھی فراہم کی جائے۔ اس حوالے سے فرخ سہیل گوئندی صاحب اپنے کالم میں تفصیلات پیش کرچکے ہیں۔
اس کالم میں ان گزارشات کو دہرانا ہرگز مقصود نہیں مگر اصل مقصد اس بنیادی مطالبے کی حمایت ہے جوکہ اس کالج کے سابق قابل احترام اساتذہ اور طلباء کررہے ہیں۔ یونیورسٹی آف سرگودھاکو چاہیے کہ وہ فوری طورپر کالج کے خاتمے کا فیصلہ واپس لے اور کالج کو بحال کیا جائے۔ سرکاری کالجز غریب عوام اور نچلے درمیانے طبقے کے بچوں کے حصول تعلیم کا اہم ذریعہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے بچوں کو مہنگے نجی کالجز میں پڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ لہٰذا سرگودھا اور گردونواح کے ہزاروں بچوں کو نجی کالجز کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ گورنمنٹ کالج کو بحال کیا جائے اور یونیورسٹی بھی اپنا کام جاری رکھے۔ جولوگ کالج کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں وہ دراصل یونیورسٹی کے قیام کے خلاف نہیں بلکہ وہ اسے پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کی اونچی اڑان اور ترقی کے خواہشمند ہیں مگر وہ کالج کی قیمت پر ایسا نہیں چاہتے۔ اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنا 2015ء کا فیصلہ واپس لینا چاہیے اور کالج کو اپنی پرانی شکل میں بحال کرنا چاہیے۔
گورنمنٹ کالج سرگودھا کی تاریخ اور تہذیب کا اہم حصہ ہے۔ سرگودھا شہر اور یہ کالج ساتھ ساتھ پروان چڑھے ہیں سرگودھا کے رہنے والے پرانے شہریوں کے لیے اس ادارے کی اپنی اہمیت ہے۔ فرخ سہیل گوئندی کے مطابق یہ اقدام غیرقانونی اور اختیارات سے تجاوز بھی ہے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر جیسے سینئر اساتذہ اور دانشور خود قانون اور قاعدوں کا احترام نہیں کریں گے تو وہ اپنے طلباء میں یہ احساس اور شعور کیسے پیدا کریں گے۔ جب باہمی گفت و شنید اور تبادلہ خیال کے ذریعے مسائل کو حل کرنے اور مکالمے کی ثقافت دم توڑتی ہے تو پھر گالی اور گولی کی ثقافت اور روایت جنم لیتی اور پروان چڑھتی ہے۔ ہم نے مکالمے اور باہمی تبادلہ خیال کی روایت کو پروان چڑھانا ہے۔


ای پیپر