کشمیر: خون میں ڈوبی ایک آواز
25 اپریل 2018 2018-04-25



مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کی کہانیاں اتنی متواتر اور گھناؤنی ہیں کہ انسانیت کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود گزشتہ 70 سال سے کشمیر کا مسئلہ عالمی ضمیر پر ایک ایسا بھاری پتھر ہے جو ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ دو سال پہلے جولائی 2016 ء میں برہان وانی کی انڈیا سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے وقت کشمیر اور باقی دنیا میں جو ردعمل سامنے آیا تھا اُسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ برہان وانی نے اپنے خون جگر سے آزادی کے چراغوں کو جو لُو بخشی ہے اب کشمیر کی آزادی کو کوئی نہیں روک سکے گا مگر ایسا نہیں ہو سکا جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انڈیا نے عالمی سطح پر ہر فورم پر پھر یہ باور کرایا کہ برہان وانی ایک دہشت گرد تھا جو انڈین سکیورٹی فورسز پر حملوں اور تخریب کاری کے واقعات میں ملوث تھا۔ انڈیا کے مؤقف کی کھلم کھلا تائید تو نہ ہوئی مگر عالمی طاقتوں نے سیاسی اور علاقائی مصلحتوں کے پیش نظر چشم پوشی سے کام لیا اور کشمیر کی آزادی کا ایک اور خواب تاریخ کے سینے میں دفن ہو گیا۔
لیکن 2018 ء کا سال کشمیریوں کے لیے قیامت بن کر ابھرا ہے۔ ہندوستانی مظالم میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالانکہ مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز سمجھی جانے والی محبوبہ مفتی تک یہ کہنے پر مجبور ہو چکی ہیں کہ مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت ہے اسے طاقت کے زور پر دباکر نہیں رکھا جا سکتا۔
2018 ء اس لحاظ سے کشمیریوں کا سال قرار دیا جانا چاہئے کہ اس وقت انڈیا کے اندر حتیٰ کہ پڑھے لکھے ہندو طبقوں میں بھی یہ احساس شدت سے پھیل رہا ہے کہ انڈیا کی فوج معصوم کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے۔
کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ 8 سال کی معصوم بچی آصفہ جو اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کے ایک گاؤں سے جنوری میں لاپتا ہوئی تھی کسی طرح ہند و سکیورٹی اہل کاروں نے اسے اغوا کر کے کئی ماہ تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور اسے مسلسل نشہ آور مواد کے ذریعے بے ہوش رکھا گیا۔ اور بالآخر ایک دن اسے قتل کر کے اس کی نعش گاؤں کے قریب پھینک دی گئی۔
شروع میں تو انڈین حکومت نے معاملے کو دبانے کی پوری کوشش کی لیکن اس ظلم کی نوعیت اتنی بھیانک تھی کہ انڈیا کی انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں حتیٰ کہ اپوزیشن کانگریس پارٹی تک نے حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور پورے ملک میں احتجاج اور مظاہروں کا ختم نہ ہونے
والا سلسلہ چل نکلا جس پر وزیر اعظم نریندر مودی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ہم بے گناہ بچی پر ہونے والے ظلم کے کرداروں کو سزا دیں گے۔ اس اندوہناک واقعہ پر نریندر مودی کی کابینہ کے دو وزاء استعفیٰ دے کر گھر جا چکے ہیں اور آئے دن سول سوسائٹی کی طرف سے حکومت پہ دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
70 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل Antonio Gutterres نے اس کی مذمت کی ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کی خاتون چیئر مین نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہاں عورتوں کے حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالی پر ایکشن لیا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ایمنسٹی انٹر نیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اپنے پیغامات میں اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور انڈیا میں انسانی حقوق کی سنگین صورت حال پر احتجاج کیا ہے۔
عالمی برادری خاص طور پر مسلم امہ کے لیے یہ موقع ہے کہ اس سانحہ کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے کہ وہاں مذہب اور سیاست کے نام پر کس طرح مسلمان کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ حد یہ کہ معصوم آصفہ کے ساتھ آبروریزی کا طویل سلسلہ کشمیر کی جائے وقوع ایک ہندو مندر تھا، جہاں یہ ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے رہے مگر نہ تو زمین پھٹ گئی کہ ظالموں کو اس میں دھنسا دیا جائے اور نہ ہی آسمان گرا۔ جدید تاریخ میں دنیا کی مظلوم ترین قوم اگر دنیا کے نقشے پر کوئی ہے تو وہ کشمیری ہیں جو 70 سال سے ظلم کا شکار ہیں۔
فرعون نے بنی اسرائیل پر غلبہ حاصل کیا تو اس کی پالیسی یہ تھی کہ دشمن قوم کے مردوں کو قتل کر دیا جائے جس کے تحت وہ پیدا ہونے والے بچوں تک کو قتل کر دیتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جانا تھا لیکن انڈیا تو فرعون سے بھی آگے جا چکا ہے۔ جہاں لڑکیاں اور عورتیں بھی نہ ان کی جانیں محفوظ ہیں اور نہ ان کی عزت محفوظ ہے۔
انڈیا کی ایک سکول ٹیچر پاروتی نائر نے 8 سالہ خانہ بدوش مسلمان بچی آصفہ کے قتل اور اس کے ساتھ انسانیت سوز مظالم پر ایک نظم لکھی ہے۔ جس نے لاکھوں لوگوں کو خون کے آنسو رُلا دیا ہے۔ یہ نظم اس منظر میں لکھی گئی ہے کہ اس طرح یہ بد قسمت آصفہ جو اپنے جانوروں کو چرا گاہوں میں لے جانے اور واپس لانے کا کام کرتی تھی اس کی روح آج انسانیت سے سوال کر رہی ہے کہ اس ظلم کا حساب کون دے گا۔ نظم بہ عنوان ماں میں نے گھوڑے واپس بھیج دیئے ہیں انگریزی میں لکھی گئی ہے۔ جس کا راقم نے خود ہی اردو ترجمہ کیا ہے۔
ماں میں نے گھوڑے ا واپس بھیج دیئے ہیں
اور انہیں گھر کا راستہ مل گیا ہے
مگر میں خود گھر واپس نہیں آ سکی
ماں
تم سمجھتی تھی کہ میری ٹانگیں
کسی ہرنی سے زیادہ برق رفتار ہیں
مگر یہ ٹانگیں منجمد ہو چکی ہیں
ہاں ماں یہ بالکل منجمد ہیں
مگر میں نے گھوڑے واپس بھیج دیئے ہیں
ماں
وہ سب درندے تھے
اگرچہ نہ ان کے سر پر سینگھ تھے نہ پنجے
اور نہ ہی لمبے خوفناک ناخن
لیکن پھر بھی انہوں نے مجھے نوچ ڈالا
ماں انہوں نے مجھے بڑی بے دردی سے نوچا
سرخ رنگ کے سارے پھول اور
پیلے رنگوں کی ساری تتلیاں
سب بے بس کھڑے رہے
ماں پھر میں نے گھوڑے واپس بھیج دیئے
ماں
تم بابا کو بتا دینا
کہ مجھے پتا چل گیا تھا
کہ بابا میری تلاش میں سرگرداں تھے
جب وہ مجھے آوازیں دے رہے تھے تو میں سن رہی تھی
میں سن رہی تھی وہ بار بار میرا نام پکار رہے تھے
لیکن میں اُس وقت غنودگی کی حالت میں تھی
ماں میں زخموں سے چور تھی
ان درندوں نے مجھے بری طرح گھائل کر دیا تھا
ماں آپ کو شاید یقین نہ آئے
مگر میں نے ممتا کی حرارت کو اپنے قریب محسوس کیا
اس لیے اب مجھے درد محسوس ہی نہیں ہوتا
خون رس رس کر خشک ہو چکا ہے
اور یہ مجھے سرخ گلابوں جیسا لگتا ہے
جن کے ساتھ میں ان چرا گاہوں میں کھیلا کرتی تھی
ماں مجھے اب درد نہیں ہوتا
مگر ماں وہ درندے اب بھی دندناتے پھرتے ہیں
اور میرے جیسی ان گنت کہانیاں عام ہیں
ماں آپ ان پر کان نہ دھرنا
وہ کہانیاں بڑی دل شکن اور رنجیدہ ہیں
آپ تو پہلے ہی بہت کچھ برداشت کر چکی ہو
ماں
کہیں میں یہ بتانا بھول نہ جاؤں
وہاں پر ایک مندر بھی ہے
جس میں ایک دیوی رہتی ہے
ماں تم اس دیوی کا شکریہ ادا کر دینا
کیونکہ گھوڑوں کی بہ حفاظت گھر واپسی میں
اُس دیوی کی مدد شامل ہے۔


ای پیپر