’’مجھے کام یاد آ گیا ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ سوری ۔۔۔!!!‘‘
25 اپریل 2018 2018-04-25



’’تم بہت بد تمیز ہو ۔۔۔‘‘ رانی نے کہا۔
’’کیسے ۔۔۔؟‘‘ میں نے پو چھا تو بولی ایک تو تم تابندہ کو شاعرہ نہیں مانتے دوسرا تم اس بے چاری شوگر کی مریضہ کو ایک ایک کر کے گنڈیریاں مار رہے ہو ۔۔۔؟
گنڈیری مار رہا ہوں انسو لین کی سرنج تو نہیں پھینک رہا اور تم غور کرو ۔۔۔ بھلا جو خود شوگر کا پہاڑ ہو اسے ان کھاد ملی گنڈیریوں سے کیا فرق پڑے گا ۔۔۔؟ میری یہ وضاحت شاید وہ سمجھ نہ پائی ۔۔۔ اس نے اپنی اک تازہ غزل میرے سامنے رکھ دی ۔۔۔؂
اک اک لفظ ورق ورق سے لڑنا
حالت غم میں کتابیں پڑھنا
ساس کی کون کرے خوش آمد
چھوڑا ہے ساس سے ہم نے ڈرنا
ساس ایسے ہے جلیبی کی دکان
ساتھ مکھیوں کے ہے جینا مرنا
جس نے شوہر کو لتاڑا ہر دم
اس کی تقلید مجھے ہے کرنا
ساس کا حکم ہے حقے جیسا
گڑ گڑانا کبھی گھڑ گھڑ کرنا
ساس نے دیکھا مجھے پیار سے یوں
ڈائن کا درد ہے آہیں بھرنا
رانی ۔۔۔ ساس کی شان میں قصیدہ لکھ دیا تم نے حالانکہ ابھی تو تمہاری شادی ہی نہیں ہوئی ۔۔۔
وہ ہنس دی ۔۔۔ اصل میں اس غزل میں میں نے اپنی چھوٹی بہن کی ساس پر غصہ نکالا ہے جو کل مجھے ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے میری چھوٹی بہن کے بڑے جیٹھ کے لیے میرا رشتہ مانگ رہی ہوں ۔۔۔ جی ہاں وہی جیٹھ جس کی ناک مشہور سیاستدان شیخ رشید آف لال حویلی کے سگار جیسی ہے ۔۔۔ جو آجکل ہنستے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے زلزلے میں گرے مکان کے بڑے سے گارڈر کے نیچے سے نکلا ہوا کوئی زخمی بزرگ ۔۔۔
’’آخری عمر‘‘ میں رانی ۔۔۔ تم اس چھوٹی بہن کے بڑے جیٹھ سے اب شادی کر لو ۔۔۔ میرا محبت بھرا مشورہ ہے ۔۔۔؟
مظفرؔ تمہاری محبت اور محبت بھرا مشورہ بھی اس چار ٹانگوں والے جانور جیسا ہے جس کا سنا ہے صبح سورج نکلتے وقت نام نہیں لیتے ۔۔۔!
مجھے اور میری محبت کو چھوڑو ۔۔۔ اس چھوٹی بہن کے بڑے جیٹھ سے شادی کا یہ فائدہ ہو گا کہ منگنی اور شادی کے درمیانی پیریڈ میں وہ تمہاری شاعری بڑے انہماک سے سنا کرے گا اور تم اسے اپنا ایک قطعہ دکھا کر ۔۔۔ ’’مثنوی در ہجوخانہ‘‘ سنانا شروع کر دینا ۔۔۔! مزے لے لے کر ۔۔۔ مجبوری میں وہ بے چارہ سنتا رہے گا ۔۔۔
اور ۔۔۔ اور آگے سے اس نے اگر ۔۔۔ ’’مثنوی در صفت امبّہ‘‘ شروع کر دی تو ۔۔۔؟
مجھے رانی کی یہ ادبی قسم کی گفتگو اچھی لگی ۔۔۔ ’’اگر تم مجھ سے شادی کی ہامی بھر لو تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ کبھی تمہیں اپنی نظمیں غزلیں نہیں سناؤں گی ۔۔۔ آزاد نظمیں تو دور کی بات ہے’’ مجھے کام یاد آ گیا ‘‘ میں نے کہا ہی تھا کہ وہ برس پڑی ۔۔۔ گرجنے لگی ۔۔۔ (نہایت سنجیدگی کے ساتھ) ۔۔۔
’’ایک یہ تم لوفر قسم کے مرد بڑے سمجھدار ہوتے ہوجب کوئی لڑکی تھوڑا سنجیدہ ہو کر اپنی بپتا سنانا شروع کرے ۔۔۔ تمہیں ۔۔۔ ’’ کام یاد آ جاتا ہے ۔۔۔‘‘ صابر شگوفہ بھی تابندہ سے عشق کا دم بھرتا تھا اسے انارکلی کے بانو بازار (جہاں سے عورتیں گزرتے ہوئے شرماتی ہیں ۔۔۔ بازار کی تنگی کے باعث) چاٹ کھلانے لے جاتا ۔۔۔ گھنٹوں وہاں بیٹھا رہتا ۔۔۔ تھوڑا ٹھہرو ابھی چاٹ کی اک اک پلیٹ اور کھائیں گے ۔۔۔ وہ بے چاری عورتوں کی چبھتی ہوئی نظروں کا مقابلہ کرتے گھبرا جاتی ۔۔۔ پھر جب تابندہ نے اسے صاف کہا ۔۔۔ کہ اب ہمیں باقی کی زندگی بطورِ میاں بیوی گزارنی چاہئے ۔۔۔ تو صابر شگوفہ نے گھبراہٹ طاری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ سوری ۔۔۔ مجھے کام یاد آ گیا اور وہ کئی سال ہوئے امریکہ سے واپس نہیں آیا ۔۔۔ اس دوران اسے شوگر نے چاٹ ڈالا ۔۔۔ بیچاری ۔۔۔؟!
اس دوران رانی نے اپنے تین فٹ لمبے دو فٹ چوڑے پرس (بیگ) سے اپنی ’’بیاض‘‘ نکالی ۔۔۔ ’’مظفر یہ سنو رات ساڑھے تین بجے کے بعد جب تیز آندھی آئی تھی اور آندھی کے خوف سے پورے شہر کی لائٹ بند ہو گئی تھی میں نے اک غزل لکھی تھی ۔۔۔ چھوٹی بحر کی ۔۔۔ یہ چھوٹی بحر کی غزلیں تمہیں ویسے بھی پسند ہیں ناصر کاظمی جیسی ۔۔۔!؂
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
آپ کا گھر ہے آیا جایا کرو
ارے یہ تو رپورٹ ہے ۔۔۔ میں نے اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔۔۔ جو وہ مجھے دینا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ (کسی لیبارٹری سے لے کر آئی تھی شاید ۔۔۔؟) ارے تم چوالیس سال کی ہو۔۔۔؟ میں نے حیرت سے پوچھا تم تو کہتی تھی ۔۔۔ تم اٹھائیس کی ہو ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ تمہیں شوگر ڈائی گنوز ہو گئی ہے ۔۔۔ وہ بری طرح گھبرا گئی ۔۔۔ ( مجھے خود پر اور اُس کی حالت پر افسوس ہوا ۔۔۔؟)
میں نے رپورٹ اسے تھمائی اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
’’کہاں چلے ۔۔۔ ؟‘‘ وہ بولی۔۔۔
’’ اوہ ۔۔۔ سوری ۔۔۔ مجھے اک کام یاد آ گیا ہے ۔۔۔‘‘ میں نے اسے دیکھے بغیر کہا اور ’’جوس کارنر‘‘ سے خواتین کی بھیڑ میں سے شرماتا ہوا گھبراتا ہوا پسینے میں شرابور ۔۔۔ انار کلی کے مشہور بانو بازار سے اولڈ کیمپس والی سائیڈ کی طرف چل نکلا ۔۔۔
’’سنو تو‘‘اُس کی دور سے آواز آئی ۔۔۔
مگر میں تو ۔۔۔ نکل چکا تھا ۔۔۔ ؟!!!


ای پیپر