مینار پاکستان :سیاسی کارکنوں کی مشترکہ ملکیت
25 اپریل 2018 2018-04-25



مینار پاکستان پر تحریک انصاف کو جلسہ کی اجازت نہ دینا کم از کم میری سمجھ سے تو باہر ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ جلسہ گاہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہے جنہوں نے یہاں قرارداد لاہور پیش کی جو بعد ازاں قرارداد پاکستان بنی ۔تخلیق پاکستان کے بعد ہم نے یہاں اُسی جلسے کو ہمیشہ محفوظ کرنے کیلئے ایک مینار تعمیر کروایا اور اُس وقت کے قائدین نے اِس کے آگے ایک سٹیج بھی تعمیر کروا دیا تاکہ آنے والی نسلیں اسے جلسہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی رہیں اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ لیاقت علی خان سے لے کر نااہل وزیر اعظم میاں نواز شریف تک سب نے یہاں جلسے کیے ۔ پاکستان کا کوئی وزیر اعظم یا فوجی صدر مینار پاکستان کے جلسے سے محروم نہیں رہا ۔ اب خاقان عباسی کی بدقسمتی ہے کہ اُسے وزارتِ عظمی اُس وقت ملی جب بہادر شاہ ظفر کو ملی تھی اور دلی کی حکومت لال قلعہ تک محدود رہ گئی تھی۔ ورنہ اگر عباسی کے پاس چار بند ے ہوتے تو وہ بھی اس اعزاز سے محروم نہ رہتا ۔ بہرحال یہ سب ماضی کا قصہ بننے والے کردار ہیں جو مطالعہ پاکستان میں بھی شاید ایک یا دو لائنوں میں ذکر کیے جائیں مگر کیا بیوروکریسی یہ بات نہیں جانتی کہ اول تو یہ جلسہ گاہ پاکستان کا کوئی بھی آئین بننے سے بہت پہلے جلسہ گاہ قرار دی گئی اور پھر 1973 ء کے آئین کے تحت پُرامن جلسے پاکستانی شہریوں کا آئینی حق ہے اور اپنے کسی آئینی حق کے استعمال کیلئے صرف اطلاع
دینی ضروری ہوتی ہے اجاز ت لینی ضروری نہیں ہوتی ۔ کیا ہم تعلیم حاصل کرنے یا علاج کروانے کی اجازت لیتے ہیں ؟ اور پھر ابھی چند دن پہلے تو یہاں جماعت اسلامی کی یوتھ کا جلسہ ہوا ہے تو تحریک انصاف کے جلسے سے کلرکوں کوکیا تکلیف ہے ؟ پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے شعیب صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مینار پاکستان پر جلسے سے روکا گیا تو لاہور بند کردیں گے اور سرکاری مشینری یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ تحریک انصاف یہ کام کرسکتی ہے ۔ ایک سیدھے سادے معاملہ کو الجھانا کہاں کی دانش مندی ہے ؟ انتظامیہ کا یہ موقف انتہائی بھونڈا ہے کہ پارک کو جلسہ گاہ نہیں بنایا جا سکتا ۔میرا سوال یہ ہے کہ پھر جلسہ گاہ کوپارک کیسے بنایا جاسکتا ہے ؟ اور آپ کو یہ اجازت کس نے دی کہ ایک تاریخی جلسہ گاہ کو پارک میں بدل دیں، صرف اس خوف سے کہ کرپٹ حکمرانوں کے خلاف بڑا احتجاج نہ ہو سکے ؟ اس کرپشن میں بیوورکریٹس کا سرخیل تو نیب کے پاس امانتاً دفن ہے جن کا رنج دوسرے کلرکوں کو بہت زیادہ ہے لیکن جناب اگر آپ کے کسی ساتھی نے کرپشن کی ہے تو آپ سیاہ پٹیاں باندھیں یا سیاہ پوش ہوجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن آپ کے گھروں میں جلنے والا چولہا انہی کی کمائی سے جلتا ہے جن کو آپ جلسے سے روک رہے ہیں ۔ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو حکومت کا ہے لیکن دوسری طرف حکومت انتظامی مشینری کے ذریعے ووٹر ز کو ہی طاقت کے بل بوتے پرروکنا چاہتی ہے، یہ کیا دوہرا معیار ہے ؟ کہیں میاں برادران یہ تو نہیں کہہ رہے کہ صرف نون لیگی ووٹر کوعزت دو !
ْْانتہائی احترام سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اب نون لیگی ووٹروں کی تعداد اس قدر نہیں رہی کہ انہیں وہ عزت دی جائے جو آپ دیتے رہے ہیں ۔میرے والد مرحوم عمر بھر مسلم لیگی رہے اور نواز شریف کو تووہ قائد اعظم اور ضیا ء الحق کا حقیقی جانشین سمجھتے تھے لیکن علاج کیلئے ہم بھی انہیں میوہسپتال لے کرگئے تھے جہاں عزرائیل ہر بستر پر موجود ہے ۔تندرست انسانوں کو بیمار کرنا اور بیمار کو لاعلاج کرکے موت کے منہ میں بھیجنا یہی نون لیگ کا ماضی اورحال ہے کیونکہ مستقبل نام کا پرندہ ابھی محو پرواز ہے اور اِن کے نزدیک تو تاحال نہیں بھٹک رہا ۔جناب میرا باپ سرکاری ہسپتال میں موت کے منہ میں چلا گیا جبکہ اُس کا جرم صرف یہ تھا کہ اُس نے آپ پراعتماد کیا۔ میں نے زندگی بھر ایک لمحے کیلئے آپ پر اعتماد کرنے کی غلطی نہیں کی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ ایسے حکمران ہیں جو کچھ بھی ڈلیور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ صرف بوجھ اٹھا سکتے ہیں لیکن وہ بوجھ بھی قومی خزانے کاہوتا ہے اور آپ کے اپنے لیے ہوتا ہے ۔ آپ کو سینٹ کے الیکشن میں آصف علی زرداری کو تحریک انصاف کا ووٹ دینا بہت تکلیف دے رہا ہے جبکہ آپ اس بات پر غور نہیں کر رہے کہ عمران خان نے پاکستان کے سب سے چھوٹے صوبے سے چیئرمین سینٹ کا انتخاب کروایا اور آصف علی زرداری کو اپنا امیدوار سینٹ دستبردار کروانا پڑا ورنہ آج سینٹ میں آصف علی زرداری کا چیئرمین ہوتا ۔ نگران وزیر اعظم کیلئے میاں برادران آصف علی زرداری کے سہولت کار بنتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن اس کا کوئی فائد ہ ہرگز نہیں ہوگا کہ آصف علی زرداری آپ کو وہاں لے جا رہا ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا ۔نواز اور زرداری مشترکہ کرپشن کی بنیاد پر ایک ہی خاندان کے فرد ہیں لیکن اقتدار کی جنگ میں آصف علی زرداری کسی کا دوست نہیں ۔
لاہور کا جلسہ تاریخی ہو گا او ر مینار پاکستان پر ہی ہوگا کہ اب اس حکومت اور اس کی انتظامیہ میں اتنی جان نہیں کہ انسانوں کے اتنے بڑے سمندر کو روک سکے اور اگر حکومت نے کسی تضاد کی طرف جانے کی کوشش کی تو یہ حکومت کی آخری غلطی ہو گی اور اتنی سنگین ہو گی کہ ابھی اِس کا ادراک شاید اُن اذہان کو نہیں جو ایسے فضول مشورے دے رہے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف 25 اپریل کو اپنا 22 واں یومِ تاسیس منائے گی اور تحریک انصاف کی سیاسی جدوجہد کے ان 22 سالوں نے بلاشبہ پاکستانی سیاست پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں ۔ انقلاب ،تبدیلی ،آئین ،ادارے ،معیشت ،خارجہ پالیسی ،داخلہ پالیسی ،قومی خزانہ اور اِس کے ریزروز،ککس بیک ،کمیشن ٗحق ،فرض ،اقتدار ،ووٹ کی عزت ،کرپشن اورکرپٹ ناجانے کیا کیا پاکستان کے عام آدمی کو ایک بہت بڑی تعداد میں معلوم پڑ گیا کہ یہ بلائیں ہیں کیا ۔ آج ٹاک شو انہیں سمجھ آنا شروع ہو چکا ہے ۔ میں ہرگزیہ نہیں لکھ رہا کہ سب کچھ بدل چکا ہے لیکن میں یہ ضرور لکھ رہا ہوں کہ ایک بڑی تبدیلی اس سماج میں ضرور آئی ہے اور اس میں سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ٹائیگرز کے درمیان ہونے والے مکالمے اورتخلیقی جملوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔
تحریک انصاف میں چونکہ نوجوانوں کی ایک بڑی اکثریت ہے سو وہ اپنی محنت کا نتیجہ بھی فوری چاہتے ہیں ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے وہ ورکرز بھی ہیں جو چیئرمین تحریک انصاف کے ساتھ 22 واں یوم تاسیس منائیں گے اور انہوں نے انتہائی صبر کے ساتھ اپنے جوانی کے خوبصورت ماہ و سال ،کتنی بہاریں اور کتنی برساتیں صرف اک صبح نور پر قربان کردی ہیں مگر زندہ سیاسی اور جمہوری جماعتوں میں یہ سب چلتا رہتا ہے ۔ اختلاف زندہ انسانوں میں ہوتا ہے قبرستان سے آپ کو کبھی اختلاف کی آواز نہیں آئے گی ۔ میری خواہش ہے کہ لاہور کے جلسہ سے پہلے تحریک انصاف کا یوم تاسیس کسی رحمت سے کم نہیں، چیئرمین تحریک انصاف کو پاکستان بھر میں اپنے کارکنوں کو یوم تاسیس مینار پاکستان کے جلسے سے جوڑ کر بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منانے کے احکامات جاری کرنے چاہئیں جبکہ صوبائی اور ضلعی صدور کو اس کی مکمل نگرانی کرنی چاہیے تاکہ الیکٹرانک ،پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایک بھرپور کمپین چلائی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک جلسے کا پیغام پہنچایا جا سکے ۔ رہی بات مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت تو اُسے کوئی مائی کا لال کیسے روک سکتا ہے جس کی اجازت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے دے رکھی ہے ۔ مینار پاکستان ، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور یہاں جلسے سے روکنے پر سب کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواناچاہیے ۔


ای پیپر