زندگی جھوم اٹھے گی !
25 اپریل 2018 2018-04-25



جوسیاسی حضرات جناب ثاقب نثار چیف جسٹس آف پاکستان پر ’’مداخلت‘‘ کا الزام عائد کررہے ہیں انہیں سوبار سوچنا چاہیے کہ موجودہ صورت حال میں اگر وہ اپنا آئینی وقانونی کردار ادا نہ کرتے تو ملک کا سیاسی سماجی اور معاشی منظر کیا ہوتا۔ مگر وہ اس پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے ان (چیف جسٹس) پر تنقید کے تیر برساتے چلے جارہے ہیں بلکہ گالیاں تک دینے لگے ہیں۔
ذراسوچیے ! اگر وہ عوامی مسائل حل کرنے کے احکامات جاری کررہے ہیں اور ان پر عملدرآمد ہورہا ہے تو اس سے لوگوں کو فائدہ ہی پہنچ رہا ہے نا !اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اقتدار واختیار نے دانستہ مسائل حل نہیں کیے عوام کو اذیت میں مبتلا رکھا تاکہ وہ مشکلات میں گھرے رہیں اور قومی سیاسی دھارے میں شریک نہ ہوسکیں یعنی وہ ووٹ دینے تک محدود ہوں قانون سازی کے عمل میں براہ راست شامل نہ ہونے پائیں لہٰذا انہیں تعلیم و صحت کی سہولتیں محدود فراہم کی جائیں؟
میں تعلیم کے حوالے سے یہ عرض کردوں کہ حکمران طبقہ جو عوام کو تعلیم دے رہا ہے وہ طبقاتی ہے اپنے بچوں کے لیے الگ نظام تعلیم ہے اور عام آدمی کے لیے دوسرا۔ اس موضوع پر کسی اور کالم میں ماہرین کی رائے کے تناظر میں بیان کروں گا کہ کس طرح یہ اشرافیہ ایک خلیج پیدا کیے ہوئے ہے اور وہ تعلیم نہیں دے رہی جو یہ بتاتی ہوکہ کس طرح ان کا استحصال ہورہا ہے ۔
دوبارہ عزت مآب چیف جسٹس کے اقدامات واحکامات کی طرف آتے ہیں کہ انہوں نے اس مایوس قوم کو ایک امید دی ہے انہیں بیدار کردیا ہے۔ اور وہ انہیں اپنا لیڈرتسلیم کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اب وہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ان کے وہ مسائل جو آج تک حل نہیں ہوئے۔ انہیں حل کردیں گے۔ جیسا کہ تعلیم و صحت کے شعبوں میں وہ معیار کو دیکھنے کے لیے بے چین ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور شفا خانوں کے دورے شروع کررکھے ہیں جن میں بدعنوانی اور بدانتظامی گھر کرچکی ہے۔ چندروز پہلے وہ یہ حکم صادر فرماچکے ہیں کہ لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد کی جامعات کے وائس چانسلروں کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ اس پر کچھ چانسلر معافی بھی مانگتے رپورٹ ہوئے ہیں کیونکہ وہ میرٹ سے ہٹ کر تعینات کیے گئے تھے۔ ابھی تک ان کو مستقل بھی نہیں کیا گیا۔ جن کا مقصد حکومت کا اپنی مرضی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا بتایا جاتا ہے۔؟
بہرحال چیف جسٹس نے واضح طورپر سے پیغام دے دیا ہے کہ اب حکمران اپنی من مرضی نہیں کرسکیں گے سرکاری اداروں کو اپنا فرض آئین وقانون کے مطابق ادا کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے کسی کا کوئی عذرقابل قبول نہیں ہوگا۔ مجھے وہ پڑوسی ملک کی ایک فلم کی کہانی یادآرہی ہے جس میں ایک ریاست کا وزیراعلیٰ ایک صحافی (رپورٹر) سے جب وہ عوامی مسائل کے خاتمے کا اس سے ذکر کرتا ہے اور ان کے حل کے لیے کچھ تجاویز دیتا ہے کہتا ہے کہ حکومت کرنا آسان کام نہیں وہ صحافی کہتا ہے کہ کیوں نہیں نیت ٹھیک ہوتو سب کچھ آسان ہوتا ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ اسے چند روز کی حکمرانی کا قلمدان سونپتاہے پھر ہیرو (صحافی) اسے وہ کچھ کرکے دکھا دیتا ہے جس کا وہ خواب بھی نہیں دیکھ سکا تھا۔ لوگ اس کے گھر سے باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں اسے اپنے کندھوں پر بٹھا لیتے ہیں جسے دیکھتے ہوئے اصلی وزیراعلیٰ حیران و پریشان ہوجاتا ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے مگر عوامی طاقت کے اگے اس کی ایک بھی نہیں چلتی۔ لہٰذا چیف جسٹس نے عوامی خدمت کا جو عزم وارادہ ظاہر کیا ہے یقیناًانہیں کامیابی حاصل ہوگی ہو رہی ہے۔ عوام کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ قانون کی طاقت انہیں میسر ہے ۔
پیدائشی طورسے ایک بیماری کیسٹرول میں مبتلا دوبچوں کے علاج کے لیے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران جب انہوں نے پنجاب حکومت کو دس دن کے اندر متعلقہ مرض پر قابو پانے والی مشین باہر سے خریدنے کا حکم دیا تو (مشین یہاں موجود نہیں) وزیرصحت خواجہ سلمان نے کہا کہ ان کے حکم پر من وعن عمل ہوگا۔ اور یہ مشین پہلی بار پاکستان آرہی ہے کسی حکمران نے بھی اس کے لیے کوئی کچھ نہیں کیا جبکہ میٹرو اورنج ٹرین موٹروے وغیرہ پر توجہ مبذول کیے رکھی ہے جس کے بغر گزارا ہوسکتا تھا ۔ مگر تعلیم وصحت ایسی دوسہولتیں ہیں جولوگوں کو لازمی چاہیے ہوتی ہیں افسوس دونوں ہی مطلوبہ نہیں۔ جوآج کے باشعور شہریوں کو درکار ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی کچھ کرنا چاہے تو چند دنوں یا چند گھنٹوں میں بھی ہوسکتا ہے۔ مگر حکومت کے بعض بہی خواہ اس نظریے اس تھیوری کو تسلیم نہیں کررہے اور چیف جسٹس کی حکومت کے کاموں میں دخل اندازی کہے چلے جارہے ہیں جبکہ حکومت اپنے فرائض سے منحرف ہوگئی ہے اس کی مت ماری گئی ہے۔ اسے وہ پیسا بچانے کی پڑی ہوئی ہے جو اس نے مبینہ طورسے کمیشنوں ،ٹھیکوں اور کاروباری منافعے سے حاصل کیا۔ جب پانامہ کیس نہیں چلا تھا تب بھی وہ ایسے ہی لوٹ مار کے منصوبوں میں مصروف تھی مگراب اسے ہوش آیا ہے جب قانون متحرک ہوا ہے اور ریاست نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ عوام آئین اور قانون کے ساتھ ہے۔ لہٰذا عوام کہہ سکتے ہیں کہ اب احتساب بھی ہوگا، سزائیں بھی ہوں گی اور بیرون ملک بھجوایا گیا پیسا بھی واپس ملکی خزانے میں آئے گا۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ عوام سے مخلص نہیں نہ ہی وہ حکمرانی کے قابل ہیں کیونکہ وہ عوام کو خوشحال بنانے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں یا پھر انہوں نے سوچے سمجھے پروگرام کے تحت عوام کو ہرسہولت جو باآسانی انہیں مہیا کی جاسکتی تھی نہیں کی۔ مگر اب خلیل خاں بلیوں نہ اچھلیں ان کے دن گئے جب وہ فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ بس اب تو حساب کتاب ہونا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان پر مظلوموں کی نظریں جم گئی ہیں انہیں وہ اپنا مسیحا سمجھنے لگے ہیں اور ایسا یونہی نہیں وہ جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل بھی کررہے ہیں عمل ایسے نہیں ہورہا آئین وقانون ان کے پیچھے کھڑا ہے لہٰذا ایک اکیلا شخص بھی جب چاہے اس ملک کا مستقبل بدل سکتا ہے منصوبے بناسکتا ہے حکمت عملیاں اور پالیسیاں وضع کرسکتا ہے لہٰذا سوال یہ ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے عوامی لوگ کس لیے جو نجانے کسی طرح کامیاب ہوکر ان میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر عوام سے دور کھڑے ان کا تمسخر اڑاتے ہیں ان کی بے بسی پر ہنستے ہیں اور ان کو اپنا غلام سمجھتے ہوئے ان کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آکر آنسو بہائیں
لہٰذا انہوں نے آنسو بہانے ہی ہیں تو اس کے سامنے بہائیں جوان کے لیے دل میں تڑپ رکھتا ہے اور اپنی بات منوانے کا قانونی حق بھی رکھتا ہے جس کی نیت صاف ہے ملک کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے تیار ہے اگرچہ وہ کوئی انقلاب نہیں برپا کررہا۔ مگر مشکلات ومسائل جو عوام کو جینے کے راستے سے ہٹارہے تھے اور وہ بددل بدگمان اور شدید مایوس ہوگئے تھے سے نجات دلانے کے لیے کارگاہ عمل میں کودپڑا ہے۔ جس کی مخالفت ہورہی ہے ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے اس دھرتی کے باسیوں کو رلا دیا تھا ان کے سینے اپنی حرص وہوس کے تیروں سے چھلنی کردیئے تھے اور وہ ہرپل اذیتوں کی چکی میں پس رہے تھے۔ مگر اب زندگی جھوم اٹھے گی


ای پیپر