میں اور میری روح (انتساب)
25 اپریل 2018 2018-04-25

حضرت معاذ بن جبلؓ کو کی گئی نصیحت اور ان ساعتوں کے نام:
حضرت معاذ ؓ نے فرمایا کہ جب حضور علیہ السلام نے ان کو یمن کی طرف بھیجا تو آپ علیہ السلام کے ساتھ نکلے ان کو وصیت کرتے ہوئے اور معاذؓ سوار تھے اور آپ ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے جب آپ وعظ و نصیحت سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے معاذ! تم اس سال کے بعد مجھ سے ملاقات نہ کر سکو گے اور شاید تم میری اس مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو گے تو معاذ رضی اللہ عنہ رو پڑے آپؐ کے فراق کی وجہ سے پھر متوجہ ہوئے اور مدینہ کی طرف رخ کیا۔ آپ ؑ نے فرمایا لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب متقین ہوں گے جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔ (مسند احمد (235/5)۔ رقم (22105)
حج اکبر کے اہتمام اور قصد کے نام ۔۔۔80 ہزار سے ایک لاکھ کی تعداد میں شریک صحابہ اجمعین کے نام ۔۔۔ قافلہ جس میں سرکار ؐاپنی ناقہ قصوا پر سوار بیٹھے امہات المومنینؓ اپنے اپنے ہود میں پیچھے ہیں اس ترتیب کے نام
حج پر جاتے ہوئے راستہ میں ابوأ کے مقام پر جہاں سرکارؐ کی والدہ ماجدہ آرام فرما ہیں جہاں میرے سرکارؐ کو اپنی والدہ کی تدفین 6/7 سال کی عمر میں کرنا پڑی عمر بھر اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ اپنے والد گرامی کے مزار پر تشریف لے جانا اور والدہ ماجدہ کا والد گرامی کا قصہ سنانا، اُن کے مزار پر گریہ اور حضرت عبداللہ کی مرقد اقدس پر اُن کی روح کو مخاطب کر کے مکالمہ کرنا کہ عبداللہ آپ تو کہتے تھے اونٹ آئیں گے گھنٹیاں بجیں گی نہ اونٹ آئے نہ گھنٹیاں بجیں دیکھو اللہ نے کتنا خوبصورت بیٹا عطا کیا جو آپ کی شبیہہ ہے۔ اکثر اس مسافرت کا واقعہ سناتے رہے لیکن اب ابواء پر ( اور خود اپنی والدہ ماجدہ کی مرقد اقدس پر زانوں کے بل بیٹھ گئے آنسو رواں ہیں اور اپنی والدہ سے مخاطب ہیں کہ وہ وقت ضرور لوٹایا جائے گا جب ننھا بچہ محمد اپنی والدہ کے ساتھ کھیلے گا، رات یونہی گزری اُس کے بعد مسافرت دوبارہ جاری کی)اپنی والدہ ماجدہ کے وصال اور ان کے ساتھ کیا گیا یہ سفر آقاؐ اکثر سناتے رہے، حج کے سفر کے دوران جب یہ مقام آیا تو لاکھ کے قریب صحابہؓ کو فاصلہ پر رکنے کا حکم دیا، ہٹ جائیں اور خود اپنی والدہ ماجدہ کی مرقد اقدس پر رات کے پہر گزارے اُن ساعتوں، گریہ اور مکالموں اور ابلاغ کے نام
خطبہ عرفات کے نام
* اُن تریسٹھ اونٹوں کے نام جنہیں سرکار نے حج کے موقع پر سنت ابراہیمی کے طور پر قربان کیا گویا اپنی حیات طیبہ کے ہر سال کی قربانی ادا کر دی۔ * سو میں سے تریسٹھ اونٹ خود ذبح کیے اور باقی حضرت علی سے فرمایا کہ آپ کر دیجیے حضرت علی کے ہاتھوں قربانی ہونے والے 37 اونٹوں کے نام
حضرت علیؓ کی شمولیت حج اور نیت تلبیہ کے نام ۔۔۔حضرت علیؓ کے مقام و مرتبہ کے نام ۔۔۔* خطبہ الوداع کے نام * خطبہ غدیرخم کے نام* ناقابل بیان مرحلے میں داخل ہوئے دیتے ہیں آقا کریمؐ بیمار پڑ گئے حضرت عائشہؓ کے حکم پر سرکار کے بخار کی حدت کم کرنے کے لیے حضرت بلالؓ باری باری سات مختلف کنووں کا پانی لائے اُن ساتوں کنووں اور لائے گئے پانی کی ایک ایک بوند کے نام * سرکار کے بیمار پڑ جانے پر اہل بیتؓ اور صحابہ اجمعینؓ کی دل گرفتگی کے نام * آقاؐ کی حیات طیبہ کے آخری عمل ’’مسواک کرنا‘‘ اُس مسواک کے نام *
جناب سیدہ فاطمۃ زہرہ دن میں کئی کئی بار عیادت کے لیے تشریف لاتیں ہر بار سرکار ؐ اُٹھ کر استقبال کرتے ماتھا چومتے اور خوش آمدید کہتے اُن انمول ساعتوں کے نام * آخری سات دینار جو صدقہ کر دیئے کے نام
سیدہ فاطمہؓ سے اپنی وفات کا راز۔۔۔12 ربیع الاوّل بروز سوموار صبح سورج ڈھلتے ہی دھوپ کی تیزی کے وقت ۔۔۔حضرت فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیہ کی گریہ کے نام ۔۔۔اے انس کیا تمہارے جیوں نے گوارہ کر لیا کہ تم رسولؐ اللہ پر مٹی ڈال دو۔۔۔ مجھ پر ایسی مصیبتیں ڈال دی گئیں کہ اگر یہ مصیبتیں دنوں پر آتیں تو وہ راتیں بن جاتے۔
* کپڑوں سمیت غسل، غسل دیئے جانے والے پانی ایک ایک بوند کے نام
غسل دینے والے حضرات
-1 حضرت علی کرم اللہ وجہہ سلام اللہ علیہ -2 حضرت ابن عباسؓ -3 کروٹ بدلنے میں مدد دینے والے حضرت فضل بن عباس کے نام -4 حضرت قسم بن اسامہ بن زید اور تقران مولی رسول پانی دیتے تھے کے نام
حضرت علی کے علاوہ سب کی آنکھوں پر پٹیاں تھیں جسم اطہر کو کپڑوں میں غسل دیا گیا۔
* تکفین کے اُن تین کپڑوں قمیص، عمامہ، یمنی سرخ دھاری دار چادر کے نام (بعض روایات میں تین چادریں ہیں) * ابو طلحہ بن سہیل انصاری جنہوں نے قبر کھودی کے نام * عباس بن عبدالمطلب، حضرت علی اور قسم بن عباسؓ کے نام جنہوں نے قبر میں داخل کیا کے نام * قبر مبارک میں بچھائی جانے والی نو اینٹوں کے نام ۔۔۔اہل بیت نے تدفین فرمائی۔۔۔کفن تین چادروں سے دیا گیا جن میں دو چادریں قریۂ صحار (یمن) کی بنی ہوئی تھیں اور ایک چادر دھاری دار تھی۔ ان کپڑے کی چادروں کی قسمت کے نام ۔۔۔آقا ؐکی آرام گاہ جس پر تب مٹی پر ہر طرف حضرت بلال کے ہاتھوں کے نشان تھے کے نام ۔۔۔آج بھی آقاؐ کے روضہ اقدس کے اندر داخل ہوں تو ۔۔۔نیچے اتر کر آقاؐ کی بنی ہوئی آرام گاہ، اُس پر رکھے تین عمامے ایک پانی کے کٹورے ، روح پروری اور عرفان بخشنے والی خوشبو کے نام
آقاؐ کے مرقد اقدس کے پاس ہی چھوٹا سا پرانا کنواں ہے جس کے پانی سے مرقد کی صفائی ستھرائی ہوتی ہے اُس کنویں کی قسمت کے اور پانی کی ایک ایک بوند کے نام
درود شریف اور صلوٰۃ وسلام کے نام
آقاؐ کی طرف سے غلاموں کو آنے والے جواب کے نام
بس میرے قارئین! اس سے زیادہ ہمت نہیں ہے۔
سرکار کی مرقد اطہر کی مٹی کے نام جو میرے محسن قبلہ مقصود احمد بٹ صاحب نے مجھے کھلائی بھی اور تحفہ بھی کی۔ میرے گھر میں ڈبیہ میں پڑی ہے جس کی خوشبو دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتی کے نام۔
آقا کی مرقد اقدس سے مس کی گئی تسبیح بھی تحفہ کی جو میرے لیے نوادرات ہیں کے نام
جس کنویں کے پانی سے سرکار کی مرقد اقدس کی صفائی کی جاتی ہے، اس پانی کے کنویں کی قسمت کے نام ( چند قطرے مقصود بٹ صاحب کی وساطت سے ہی میرے حلق میں اس کنویں کے پانی کے اترے ہوئے ہیں، مقصود بٹ صاحب کی سخاوت کے نام)
موجودہ امام کعبہ عبدالرحمن السدیس کے نام ۔۔۔متولی روضہ رسول ؐ کے نام ۔۔۔امام مسجد نبوی ؐ کے نام
میرے اجداد ، والدین ، میرے ماں باپ کی آل اور اولاد کے نام ۔۔۔ایک ادنی غلام سے وصال پر اس سے زیادہ لکھ پانے کی توقع نہ کی جائے ۔۔۔سرکار کے نام لیواؤں، عشاق ، غلامان کے نام ۔۔۔اُن فضاؤں کے نام جن میں آقاؐ کی مہک آج بھی موجود ہے۔
کہا گیا کہ کوئی حرج نہیں اس شخص پر جس نے احمدؐ کی قبر مبارک کی خوشبو سونگھ لی کہ وہ زمانہ بھر تک کوئی خوشبو نہ سونگھے۔ اس مٹی کے نام
سرکار کی ناقہ قصوأ کی قسمت اور پاؤں کی مٹی کے نام جس نے سرکار کے گھر ، مسجد اور موجودہ آرام گاہ کا انتخاب کیا۔
حرمین الشریفین کی زیارت کی حسرت رکھنے والوں کی حسرت اور دعاؤں کے نام


ای پیپر