وزیراعظم عمران خان
25 اپریل 2018 2018-04-25

صاحب نے قہقہہ لگایا۔ ٹائی کی نوڈ ٹھیک کی۔ دائیں ہاتھ کو صوفے کی پشت پر رکھا اور بائیں ٹانگ کو دائیں ٹانگ پر رکھ کر مجھ سے گویا ہوئے کہ میاں نواز شریف کو اگر سزا ہو بھی گئی تو ایسے کیسوں میں ہفتہ یا دس دن میں ضمانت ہو جاتی ہے۔ میاں صاحب پھر باہر ہوں گے اور کھل کر دھوم مچائیں گے۔ آپ ہی بتائیں پھر کیا فائدہ ہو گا اتنے لمبے ٹرائل کا؟ میں نے لمبا سانس لیا، سبز چائے کا ایک گھونٹ پیا اور صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ اس حوالے سے آپ کی معلومات ادھوری ہیں۔ ان کیسوں میں اگر سزا ایک یا دو سال کی ہو تو ضمانت دس دن کے اندر اندر ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر سزا پانچ سال یا دس سال کی ہو، جائیداد ضبط کرنے یا اسے بیچ کر پیسہ ملکی خزانے میں جمع کروانے کی ہو اور بھاری جرمانے عائد ہو جائیں تو ایسی سزا کی صورت میں ضمانت نہیں ہو سکتی۔ ملزم کو پوری سزا بھگتنا پڑتی ہے اور نواز شریف کی سزا پانچ یادس سال سے کم نہیں ہو گی۔ صاحب کے چہرے پر ناگواری کے سارے اثرات ایک ہی لمحے میں نمودار ہو گئے اور ان کی حالت کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا کہ صاحب کو
اگر کوئی ایک قتل معاف ہوتا تو وہ یقیناًمجھے قتل کر دیتے۔ صاحب نے مجھے گھورتے ہوئے مخاطب کیا کہ میاں عمران صاحب یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر آج تک آپ کے سیاسی تجزیے درست ثابت ہوتے آئے ہیں تو یہ بھی درست ثابت ہو ۔آپ کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔ میں نے مودبانہ گزارش کی کہ اس معاملے میں میری خواہش کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہ حقائق ہیں اور آنکھیں بند کرنے سے حقائق نہیں بدلے جا سکتے۔صاحب نے بے پرواہ لحجے میں گردن کو جھٹکایا اور فرمایا اگر سزا ہو بھی جاتی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ صدر پاکستان ایک ہی آڈر سے سزا ختم کر دیں گے۔میں نے عرض کیا کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ سزا ہوتے ہی صدر پاکستان نواز شریف کی سزا ختم کر سکتے ہیں تو آپ کا خیال غلط ہے۔ صدر پاکستان سے معافی مانگنے سے پہلے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کرنا ہوتی ہے۔ جب سزا کے خلاف ملزم اپیل میں جاتا ہے تو نیب اس پر سٹے لے آتی ہے اور پھر یہ سٹے سالوں چلتا رہتا ہے۔تب تک ممنون حسین کی مدت ملازمت ختم ہو جائے گی اور نیا صدر یقیناًن لیگ کو سپورٹ نہیں کرے گا۔ لہذا صدر سے معافی ملنے کا آپشن بھی کھٹائی میں پڑ جائے گا۔
ابھی پچھلا جواب ہضم نہیں کر پائے تھے کہ صاحب نے بادلنخواستہ اگلا سوال داغ دیا۔ اگلی حکومت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا عمران خان پاکستانی سیاست کو لیڈ کریں گے؟ میں نے عرض کیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشنز میں صورتحال آخری لمحے تک ففٹی ففٹی رہے گی۔ملک کے موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظرقومی اسمبلی کے الیکشن 2018 میں کوئی بھی پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی ۔یہ مختلف پارٹیوں کے گٹھ جوڑ کی حکومت ہو گی اور اس الیکشن میں ایسے اتحاد سامنے آئیں گے جو کہ غیر فطری ہوں گے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ جو پارٹی پنجاب سے جیتے گی وہی حکومت بنائے گی تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ کیونکہ 2008 کے الیکشن میں ن لیگ نے پنجاب سے حکومت بنائی تھی لیکن مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تھی۔ اس مرتبہ 2018 کے قومی اسمبلی الیکشن میں تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم ایم اے، ایم کیو ایم اور پی ایس پی، فاٹا اور آزاد امیدواروں کو ملا کر حکومت بنائے جانے کا قوی امکان ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنے پر رضامند ہو جائیں گے؟ اس سوال کا جواب ہے جی ہاں عمران خان پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنے پر رضامند ہو جائیں گے کیونکہ عمران خان بارہا اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ مائینس آصف علی زرداری بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے ساتھ پی ٹی آئی اتحاد کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی ایم کیو ایم مائنس الطاف حسین اتحاد کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کر چکی ہے۔ایم ایم اے اور فاٹا ارکان کو وزارتوں کے عوض حکومتی پارٹی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔پی ایس پی پہلے ہی تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ اگر تحریک انصاف کو حکومت بنانے کے لیے ن لیگ مائینس نواز شریف سے بھی اتحاد کرنا پڑا تو تحریک انصاف یہ اتحاد بھی کر جائے گی۔یہ سا ری باتیں صاحب کی مرضی کے خلاف تھیں۔ لیکن وہ لومڑی کی طرح مسکرا رہے تھے اور باز کی مانند مجھ پر جھپٹنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے لیکن وہ بے بس تھے۔ دعوت کی تقریب چل رہی تھی۔باآواز بلند اختلاف رائے انھیں مہنگا پڑ سکتا تھا۔وہ مسسلسل ٹانگ ہلا رہے تھے۔بار بار موبائل چیک کر رہے تھے۔ ہر دو منٹ میں ایک مربہ ٹائی کی نوڈ ٹھیک کرتے تھے۔غصہ جب آنکھوں کو پھاڑ کر باہر آنے لگا توصاحب نے سگار سلگھا لیا۔ یہ چاکلیٹ فلیور کا سگار تھا۔صاحب نے تین چار زور دار کش لیے ۔اٹالین کپ میں جمائیکن بلیو ماونٹین کافی تیار پڑی تھی۔ صاحب نے دائیں ہاتھ سے کافی کا گھونٹ پیا اور بائیں ہاتھ سے سگار کا کش لگا کر تکبر بھرے لحجے میں مجھے مخاطب کیا کہ عمران خان اس الیکشن میں کتنی سیٹیں جیت سکے گا؟ میں نے جواب دیا کہ ابھی میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا لیکن اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ جو پارٹی زیادہ سیٹیں لے جائے گی وہی اپنا وزیراعظم لائے گی تو میری رائے اس سے مختلف ہے۔ اگر تحریک انصاف قومی اسمبلی میں
دوسرے نمبر پر بھی آتی ہے تب بھی اسمبلی کے متفقہ وزیراعظم عمران خان ہی ہوں گے۔ چاروں صوبوں میں گورنر پیپلز پارٹی کے ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ بھی تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ صاحب نے فلک شگاف قہقہ لگایا اور سگار کا کش لگا کر فرمایا کہ آپ یہ لکھ لیں کہ عمران خان کچھ بھی کر لے ، چالیس سے زیادہ سیٹیں نہیں جیت سکے گا اور چالیس سیٹوں والا شخص کس طرح حکومت بنا سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کا حساب کتاب درست ہو سکتا ہے لیکن مشاہدہ تھوڑا کمزور ہے۔صاحب مجھے مسسمل گھور رہے تھے۔میں اپنی نشست سے اٹھا ، صاحب کے قریب آ یا اور ان کے کان میں سرگوشی کی کہ اگر صادق سنجرانی صاحب اپنی پارٹی کی صرف چند سیٹوں کے ساتھ چئیرمین سینٹ بن سکتے ہے تو عمران خان بھی چند سیٹوں کے ساتھ ملک پاکستان میں حکومت بنا سکتے ہیں۔لہذا آپ ذہن نشین کر لیں کہ حالات کچھ بھی ہوں وزیراعظم عمران خان ہی ہوں گے۔


ای پیپر