ووٹر کی تذلیل ہو تو ووٹ کی عزت کیسے؟

25 اپریل 2018

واصف ملک



24 اپریل رات گیارہ بجے میرے فون پر ایک وٹس اپ موصول ہوا۔ میں ہلکی ہلکی سی نیند میں تھا۔ ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھی تو بلال کے بھائی علی شوکت کا میسج تھا۔ میں نے اس کو روٹین کا پیغام سمجھا۔ دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ پھر نہ جانے کس خیال کے زیر اثر دوبارہ موبائل ہاتھ میں پکڑا ۔ لکھا تھا کہ اس کے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے۔ میرے لئے یہ پیغام انتہائی غیر متوقع تھا۔ غیر ارادی طور پرپیغام لکھا کہ ’ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘ تم تو کہہ رہے تھے وہ ٹھیک ہو رہا ہے؟ اس کا کوئی جواب نہ آیا۔ میری نیند غائب ہو گئی۔ بلا ل جا چکا تھا۔ بلال سیالکوٹ کے ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا۔ کسی بات سے دلبرداشتہ ہو کر 29 مارچ کو اس نے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی تھی۔ اس وقت مقامی میڈیا نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو خود سوزی کی بجائے قتل کا کیس بنانے کی کوشش کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بلال کو ریسٹورنٹ کے مالک
نے چوری کرنے کی پاداش میں اس کو جلا کر مارنے کی کوشش کی تھی۔ ایک بڑے غیر ملکی میڈیا ہاؤس کے لئے مجھے اس اسٹوری پر کام کرنا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ بلال کو آگ لگانے والا کوئی اور نہیں بلکہ بلال خود ہے۔ ریسٹورنٹ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہو گیا کہ بلال نے پہلے موٹر بائیک سے پٹرول نکالا بعد ازاں خود پر چھڑک کر آگ لگا لی۔ میں بلال کے بھائی شوکت سے بھی ملا، سیالکوٹ پولیس سے بھی بات ہوئی۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہو گئی کہ یہ قتل کا نہیں بلکہ خود سوزی کا کیس ہے۔ ایک طرف بلال کی حالت پر افسوس تھا۔ وہیں دوسری طرف میرے لئے یہ انکشاف بہت خوفناک تھا کہ کس طرح غیر ذمہ دار میڈیا رپورٹنگ سے شہر میں اشتعال پھیل جاتا ہے۔ یوں بھی ہو سکتا تھا کہ لوگ اشتعال میں ریسٹورنٹ کو جلا دیتے یا ریسٹورنٹ کے مالکوں کوئی کوئی نقصان پہنچ جاتا۔ بہرحال وہی بلال ۶۲ دن تک موت و حیات کی کشمکش میں رہ کر 2روز قبل اپنے حالق حقیقی سے جا ملا۔ دعا ہے کہ پاک پروردگار اس کی اگلی منازل آسان فرمائے۔
بلال کے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں 9 سال کا حسنین، 5 سال کا ارحم اور 3سالوں کی مناہل۔ وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔ اب اس کے بیوی بچوں کا نان و نفقہ کس کی زمہ داری ہو گی ؟ وہ چھ بہن بھائی ہیں۔ سب بھائی بہن اپنا اپنا گھر بمشکل چلا رہے ہیں تو ایسے میں کون ان کا پرسان حال ہو گا؟ واصف علی واصف نے فرمایا تھا کہ ’لفظ کاش سب پریشانیوں کی وجہ ہے‘۔ بھائیو، کاش کے بنا چارہ ہی کیا ہے کاش کہ بلال کے حالات ایسے نہ ہوتے کہ اس کو خود سوزی کرنا پڑتی؟ کاش کہ وہ صبر کر جاتا کاش کہ ہسپتال پہنچ کر اس کی جان بچ جاتی۔ ہم میں سے ہر کوئی اس سانحے پر اپنی اپنی رائے رکھتا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بلال نے ایسا کیا؟ کچھ کا مؤقف ہے کہ عدم برداشت اور معاشرتی ہیجان اس کی وجہ ہے۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ اس کا ذمہ دار معاشرہ ہے، کچھ کے خیال میں قصور وار صرف اور صرف بلال ہے۔ دراصل ہم سب ہی کسی نہ کسی حد تک اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ لیکن سب سے بڑا قصور وار وہ ہے جو ووٹ کے لئے تو عزت مانگتا ہو لیکن ووٹر کو عزت دینے کو تیار نہ ہو ۔
ووٹ کو عزت دو کا نعرے لگانے والے چناب کے کنارے پیاس سے مر جانے والے کتے کی ذمہ داری کیوں لینے لگے؟۔۔۔ ان کے عہد حکومت میں جب انسان بھوک، پیاس، مفلسی، بیماری اور بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کشیاں کر ر ہے ہیں۔ جو زندہ ہیں، وہ بھی کہاں زندہ ہیں؟ وہ تو زندہ درگور ہیں۔ زندگی ان کے لیے جبر مسلسل بن چکی ہے۔ وہ ساغر صدیقی کے اس سوالیہ مصرع کی تصویر بن چکے ہیں۔۔۔جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔۔۔وہ تو سوچ رہے ہیں کہ
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے
جن حکمرانوں کو 30 برسوں میں عام ووٹر کی زندگی کو آسودہ بنانے کے لئے صاف پانی فراہم کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی، انہیں زیب نہیں دیتا کے ووٹ کی عزت کی باتیں کریں۔ اب اقتدار سے محروم ہونے کے بعد یکدم انہیں ووٹ کا تقدس یاد آگیا۔ کاش ہمارے ان کرم فرماؤں نے طیبہ کی فریاد سے زینب کی پکار تک۔۔۔بلال کی جھلسی میت سے بچوں کی روٹی کے لئے مسجد کا نلکا چرانے والے فیاض تک۔ کسی ایک کی بھی آنکھوں کی بے بسی دیکھی ہوتی۔۔۔یا۔۔۔ ہسپتال کے کاریڈور میں علاج کے لئے سسکتی کسی بوڑھی عورت کی کرلاہٹیں ہی سن لی ہوتیں۔کیسا ووٹر اورکیا اس کے ووٹ کی عزت ۔ جس معاشرے میں 6 سال کی کم سن اور معصوم بچی کی عزت اور زندگی محفوظ نہ ہو ۔۔۔
وہاں ووٹ کی عزت کیوں تلاش کر رہے ہو ؟کیا ووٹ اس بچی کی زندگی اور عصمت سے بھی زیادہ بیش قیمت ہو گیا!۔۔۔ ایسے معاشرے میں ووٹ کے تقدس کے لئے جدوجہد کی اہمیت پوچھنا ہو تو جاؤ جا کے قصور کی مریم کے بوڑھے باپ سے پوچھو! اب آپ ووٹ کی عزت کے محافظ ہونے کے دعوے کیوں کر رہے ہیں؟ کیوں ووٹ کی عزت کی گردان کر رہے ہیں؟ ۔۔۔کیا اس لیے کہ سادہ لوح عوام کے ووٹ آپ کو یا آپ کے خاندان کے کسی فرد کو ایک بار پھر وزیر اعظم بنادیں۔ آپ بھول گئے کہ پلوں کے نیچے سے اب کافی پانی بہ چکا ہے عوام باشعور ہوچکے ہیں۔ اب آپ کی زبان سے جب وہ ووٹ کے تقدس کا نعرہ سنتے ہیں تو انہیں ہنسی آتی ہے۔۔۔جب ووٹر ہی ذلیل و رسواء ہے تو اسے کون یقین دلائے گا کہ اس کے آزمائے ہوئے رہنما اگلے انتخابات میں ووٹ کی عزت اور احترام کویقینی بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

مزیدخبریں