Photo Credit Yahoo

فیض آباد دھرنا کیس میں اہم پیشرفت
25 اپریل 2018 (17:33) 2018-04-25

اسلام آباد :سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ کو غیراطمینان بخش قرار دیدیا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پیشرفت رپورٹ نہ آنے پر برہم ہوگئے،کہا کہ رپورٹ کیوں نہیں آئی، کیاکچھ لوگ قانون سے بالا تر ہیں، یہ ملک اشاروں پر نہیں چلے گا‘دھرنے والوں نے ملک کاکروڑوں کانقصان کیا، ایسے لوگ ہمارے چہیتے ہیں‘ایجنسیوں کو نہیں معلوم دھرنے کے لیڈرٹیکس دیتے ہیں یانہیں؟ ان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ کو غیراطمینان بخش قرار دیا ،کیا دوبارہ رپورٹ نہیں آنی چاہیے تھی ،دھرنے والوں نے ملک کاکروڑوں کانقصان کیا، ایسے لوگ ہمارے چہیتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کو نہیں معلوم دھرنے کے لیڈرٹیکس دیتے ہیں یانہیں؟ ان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟۔ نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت کو بتایا کہ دھرنے کے لیڈر خطیب ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اس خطیب کو تنخواہ کون ادا کرتا ہے؟ کیاغیبی قوتیں معاوضہ اداکرتی ہیں؟جن لوگوں نے تباہی پھیلائی ان کی کوریج اب بھی جاری ہے، فیض آباد دھرنے میں ٹی وی چینلز نے قانون کی خلاف ورزی کی،پیمرا کے اقدامات مایوس کن اور محض دکھاوا ہیں۔عدالت نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے سماعت 10روز کیلئے ملتوی کردی۔


ای پیپر