سرکاری امداد کا مستحق کون؟
25 اپریل 2018 2018-04-25

اگلے روز احمد پور شرقیہ سے قاضی طارق لودھی کا فون آیا :
لیکن ٹھہرئےے! پہلے قاضی طارق لودھی کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیے : ’ ’طارق لودھی اپنے علاقے کے سابقہ کونسلر اور سماجی کارکن ہیں ۔اِن دنوں نکاح خواں کے فرائض بھی ادا کر رہے ہیں۔بستی محراب والا میں سیاسی و سماجی اثرورسوخ رکھنے والے قاضی طارق لودھی اپنی دیانت داری اور شرافت کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ان کے ڈیرے پر ہمہ وقت بستی کے لوگ موجود رہتے ہیں ، بعض نوجوان قومی اخبارات پڑھنے کے لےے بھی تشریف لاتے ہیں۔ان کے ڈیرے پر چائے پانی کا بندوبست بھی ہوتاہے۔ایک زمانے میں پٹواری کی حیثیت سے سرکاری ملازمت بھی کرتے رہے ہیںپھر اپنے مرشد کے کہنے پر اس ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور روزی روٹی کے لےے کیٹرنگ کا کام شروع کر دیا۔ ہماری ان سے پرانی یاد اللہ ہے اکثر اُن سے فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے ۔کہتے ہیں کہ میں مختلف اخبارات کے ایڈیٹوریل اور کالم شوق سے پڑھتا ہوں۔بس ذرا لاہور کے اخبارات بارہ بجے کے بعد پہنچتے ہیں لیکن اس انتظار کا بھی اپنا مزہ ہے۔کالم نگاروں میں رﺅف کلاسرہ،حامد میر،ہارون الرشید،اظہار الحق اور عطاءالرحمن کو شوق سے پڑھتے ہیں۔مختلف تحریریں پڑھنے کے بعد اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ہم چونکہ اپنے کالموں میں خطوط یا قارئین کی آراءبہت کم شامل کرتے ہیں سو قاضی طارق لودھی کے سیاسی تجزئیے کالموں کا حصہ نہیں بناتے۔تاہم ان کا سیاسی تجزیہ فون پر ہر دوسرے تیسرے روز سنتے ہیں۔اس بار ان کا فون آیا تو وہ سخت جذباتی انداز میں گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے درخواست کی کہ ان کا مختصر مو¿قف بھی کالم میں شامل کیا جائے۔ہم نے ان کی باتیں غور سے سنیں اور وعدہ کر لیا کہ ان کی گزارشات کالم کا حصہ بنائی جائیں گی۔طارق لودھی کے مطابق مختلف حکومتی امدادی سکیموں نے قوم کو تن آسان اوربھکاری بنا دیا ہے۔کہتے ہیں ایک زمانے میں جب ہم ووٹ کے لےے لوگوں سے رجوع کرتے تھے تو لوگ اپنے علاقے کے مسائل بیان کیاکرتے تھے۔یونین کونسل سے لے کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی الیکشن مہم کے جلسوں میں لوگ اپنے اجتماعی مسائل بیان کرتے اور انہیں حل کرنے والوں کو ووٹ دینے کا وعدہ کرتے۔اس طرح عوام کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے تھے۔کئی علاقوں میں سڑکیں ،گلیاں،پل اورمدرسے الیکشن مہم کے دوران تعمیر ہوتے رہے ہیں۔مگر ان دنوں تو عجیب وبا پھیل چکی ہے۔الیکشن قریب ہیں اور اپنے حلقے میں جس سے بھی ملیں کوئی بھی شخص اجتماعی مسئلہ بیان نہیں کرتا بلکہ بڑی لجا جت سے اپنے ذاتی مالی مسائل کا رونا رونے لگتا ہے۔اگلے روز ایک اچھا خاصا کھاتا پیتا شخص آیا اور کہنے لگا لودھی صاحب ! امدادی سکیم کا کارڈ بنوا دیں۔پچھلی حکومت میں آپ نے کئی لوگوں کو بے نظیر انکم کارڈ بنوا کر دئےے تھے۔لوگ موجیں کر رہے ہیں۔اب ہمارا بھی حق ہے۔ہم ووٹ آپ کو دیتے ہیں ،آپ ہماری بستی کے چند خاندانوں کو کارڈ بنوا کر دیں۔جب ہم نے اسے کہا کہ یہ مستحق لوگوں کے لےے بنائے جاتے ہیں تو وہ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے بولا : ” آپ نے کونسا پلے سے رقم دینی ہے ۔مفت کی شراب تو قاضی بھی نہیں چھوڑتے قاضی صاحب “ آپ مہربانی کریں“۔
بستی کی ایک اور خاتون اسی قسم کے کارڈ بنوانے آئی تو ہم حیران رہ گئے، اس کی کلائیوں میں سونے کی چوڑیا ں بھی موجود تھیں مگر وہ ماہانہ امداد حاصل کرنے کی خواہاں تھی ۔ایک دکاندار کو ہیلتھ کاڑدبنوانے کی لےے سفارش کی ضرورت تھی۔ایسے لگتا ہے سبھی لوگ سہولیات اور وظیفوں کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔لوگ تو زکوٰة کے پیسے بھی نہیں چھوڑتے۔اب لوگ سکول، گلی ،سڑک بنوانے کا مطالبہ کرنے کی بجائے ماہانہ امداد کا مطالبہ کرتے ہیں۔بعض نوجوان قرضہ سکیم سے قرضہ دلوانے کے لےے دباﺅ ڈالتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب! آپ دیکھیں قوم کو قرضے پر لگا کر یا ماہانہ وظیفوں سے ہم نے انہیں تن آسان بنا دیا ہے۔سبھی لوگ بھکاریوں کی طرح خدمت کارڈ یاماہانہ انکم کارڈ بنوانے کے خواہش مند ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے ؟ لوگ اتنے تن آسان کیوں ہو گئے ہیں؟ میرے پاس طارق لودھی کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔طارق لودھی نے درست کہا ہے کہ ہم سب کاہل اور سست ہو گئے ہیں اور تن آسانی سے پیسہ ہتھیانے کے چکر میں رہتے ہیں۔
ہمارے ہاں اہل قلم کے لےے پنجاب رائٹر زفنڈ موجود ہے جو دراصل غریب و نادار اور مستحق اہل قلم کی امداد کے لےے قائم کیا گیا ہے مگر یہاں بھی مستحق اہل ِقلم کی درخواستیں کم اور متشاعر و غیر معروف نام نہاد لکھنے والوںکی درخواستیں زیادہ ہوتی ہیں۔ایک شاعر دوست نے بتایاکہ ایک متشاعر نے شاعری کا مسودہ خریدا،اپنے نام سے چھاپا اور اسے درخواست کے ساتھ لگا کر رائٹر زفنڈ سے امداد حاصل کر لی۔اب وہ فخر سے بتاتا ہے کہ اس کے مجموعے کا خرچہ بھی نکل آیا ہے اور کچھ بچت بھی ہوگئی ہے۔اس شخص کے دیکھا دیکھی کئی اور شعراءبھی سرکاری امداد کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔اکادمی ادبیات پاکستان سے ماہانہ وظیفہ لگوانے کے لےے بھی اسی قسم کی چالاکی دیکھنے کو ملتی ہے۔اکادمی ادبیات پاکستان کی امداد کمیٹی کے ایک رکن دوست نے ہمیں بتایا کہ اس بار وظیفوں کی درخواستوں میں کچھ ایسے شعراءکی درخواستیں بھی موجود ہیں جو مالی معاونت کا استحقاق نہیں رکھتے۔ایک دو اچھے خاصے سوٹڈ بوٹڈ پبلشرنما شاعربھی ماہانہ وظیفے کے لےے سفارشیں کراتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ماہانہ وظیفے پر اس شاعر ادیب کا حق ہے جو واقعتا کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے یا وہ عمر رسیدہ لوگ جن کا کوئی سلسلہ روزگار نہیں ہے اس امداد کے مستحق ہیں۔بعض جنوئن انا پرست تخلیق کار تو وظیفے کے لئے کبھی کسی سے نہیں کہتے۔ مگر بات وہی ہے کہ اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔دراصل ہمارے ہاں ہر کوئی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے نہیں چوکتا۔اور جو چیز مفت اورآسانی سے حاصل ہو سبھی لوگ اس کے آرزو مند رہتے ہیں۔اس سلسلہ میں خاص طور پر پنجاب رائٹرز فنڈ اور اکادمی ادبیات پاکستان کے کار پردازوںسے التماس ہے کہ ایسی امدادی کمیٹیوں میں وہ متحرک اور سینئراہلِ قلم شامل کریں جو کسی حد تک اپنے اپنے علاقے کے اہل قلم سے آگاہ ہوںتاکہ بڑے شہروں سے دور رہنے والے مستحق تخلیق کار بھی حکومت کی اس پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ورنہ شاعری خرید کر ” صاحب ِکتاب “ بننے والے سبھی امداد کے اہل ہوجائیں گے۔کمیٹیوں میں ہر شہر کے ممتاز اور سینئر اہل قلم کی نمائندگی ہو تو فیصلے میرٹ پر ہو سکتے ہیںورنہ جس طرح مسلم لیگ کی حکومت قرضے اور امداد صرف اپنے پارٹی کارکنوں کو دلواتی ہے ادیبوں شاعروں کو ملنے والی امدا دبھی غیر مستحق اور نام نہاد تخلیق کاروں میں بانٹی جاتی رہے گی۔بلا تبصرہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
خود بھی بھوکے رہو اور بچے بھی بھوکے رکھو
مفلسی پھر بھی نہ باز آئے تو روزے رکھو


ای پیپر