علی احمد کُرد، اور دَورِہوس
25 اپریل 2018 2018-04-25

علی احمد کرد، سپریم کورٹ بار کے سابق صدر نے جب سے بال کٹوائے ہیں، تب سے خود بخود اُن میں، متانت اور سنجیدگی ”عود“ کر گئی ہے، اُن کی بچگانہ اُچھل کُود”منصب“ کی مدت ختم ہوجانے کے سبب تھی، یا پھر بقول انور مقصود میرے چہرے کی ”وجہ پھٹکار“ کچھ اور ہے۔
ویسے بھی ہم ابھی تک یہی سنتے آئے ہیں، کہ ریٹائرمنٹ کے بعد لوگ کہتے ہیں، کہ ہم اللہ اللہ کریںگے، اور ناظرین آپ جس مسجد میں بھی جائیں آپ کو کرسیوں پہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کی ایک لمبی قطار نظر آئے گی ۔”کرد“ نام کا یہ شخص پہلی دفعہ ہمارے سامنے آیا ہے، ابھی تک ہم نے کوئی اورکُرد نہیں دیکھا خدا خیر کرے، اگر ترکی کے طیب اردوان کو پتا چلا، کہ کُرد نام کا ایک شخص پاکستان میں موجود ہے، تو وہ نہ صرف حکومت پاکستان کو نوٹس دے کر ’کُرد‘ کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے، بلکہ اُن کی جانب سے ڈرون سے لے کر F-16سے حملہ کرنے کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
مگر اُن کو کیا پتا، کہ ”کُرد“ تو وہ ہیں کہ ”مسئلہ خوردبُرد“پہ بھی وہ اپنا ایک الگ، اور علیحدہ نقطہ نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی واضح اختلاف رکھتے ہیں، جواکثر دبے الفاظ میں ہوتا ہے، اور کبھی دبنگ ہوکر۔ مجھے اس راز کا نہیں پتا کہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ بار کے صدر منتخب ہوجانے کے بعد ان کے ”معاوضے“ کو انسان ہو جانے کے بعد ”پر“ کیوں لگ جاتے ہیں، اور گھر اور گاڑیاں کیوں بدل جاتی ہیں ؟ ناچیز بن کر ملک ریاض کے ساتھ رازونیاز سے نہ بانٹتا، مجھے ڈر ہے کہ رانا ثناءاللہ اپنے کزن کے بارے میں میرے خیالات سے مجھے اللہ کا بندہ سمجھنے کی بجائے کسی اور کا بندہ نہ سمجھنا شروع کردیں، اور پھوپھی زاد کی خاطر آدم زاد کے لیے آدم خورنہ بن جائیں مگر میں تو علی احمد کرد صاحب سے گلہ بھی کررہا ہوں، اور شکوہ بھی، کہ اُنہیں ایک انسان کی بھی پہچان نہیں؟
وہ کروڑوں انسانوں کے جذبات سے کھیلے، جن میں، میں بھی شامل تھا، اور میرے جیسے اور لکھنے والے، بلکہ شاعر جاں نثاروں کو بھی اُنہوں نے بندگان دُوربیں ودوراندیش بننے کی بجائے ” تماش بین“ بنا کررکھ دیا تھا۔ اور اس طرح اُن کی چھوٹی سی بھول نے چوک بن کر چوکوں اور چوراہوں میں ملکی سیاست کو لاکھڑا کیا۔
میرے علم کے مطابق کُردبلوچ ہوتے ہیں، اور یہ ایران، ترکی، عراق اور شام میں آباد ہیں، ان میں اکثریت 1991ءکی گلف وار کے دوران پاکستان میں بھی آبسے، ان قبائل کا مطالبہ آزاد کُردستان قائم کرنے کا ہے، جو متذکرہ بالا چاروں ملکوں سے کچھ علاقہ لے کر اپنا ملک بنانا ہے، مگر اس میں سب سے زیادہ مخالفت طیب اردوان کی جانب ہے۔ جنہوں نے آتے ہی ان کے ساتھ مصافحہ کرنے کی بجائے مخالفت اپنا کر انہیں نیست ونابود کرنے کی ٹھانی ہے۔
بلوچوں کو اپنی روایات، ثقافت ، اور زبان سے بہت پیار ہوتا ہے، انہیں اپنے اسلاف سے اس قدر عقیدت ہوتی ہے، کہ کم ازکم سات نسلوں تک شجرہ یاد رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، شاید علی کُرد سے میری عقیدت بھی اسی وجہ سے ہے، دوسری وجہ علی احمد کرد کا سابق صدر مشرف کی پالیسیوں سے اُن کا اختلاف اور ”عناد“ ہے، بلوچوں کی ملاقات کے وقت، ایک دوسرے سے خیر، خیریت پوچھنے کا وقت کئی کئی منٹوں پہ محیط ہوتا ہے۔ جس میں وہ تفصیل کے ساتھ مکمل گھر والوں کی خیریت کے علاوہ ان کے جانوروں کی خیریت بھی بڑے پیاروافتخار سے پوچھتے ہیں، اب مجھے نہیں پتا، کہ 1948ءمیں پاکستان کے پیدا ہوتے ہی شاید علی احمد کرد نے بھی پیدا ہوکر تائید وطن کی علی احمد کرد نے قائداعظمؒ کے پاکستان میں، کراچی سے یا کوئٹہ سے قانون کی ڈگری لی ہے، مگر ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے۔ چاہے کراچی سے لی جائے یا کوئٹہ سے۔ بزرگوں کا فرمان ہے کہ ظالم کے دروازے پر کھڑے ہونے سے زیادہ کوئی خطرہ نہیں اور ایسا کرکے سابقہ چیف جسٹس نے اس مقولے کو سچ ثابت کردکھایا، ایک وکیل اعتزاز احسن کے کہنے پہ وہ حاکم کے گھر بھی چلے گئے تھے، اور کسی دوسرے حکمران کے گھر کسی تقریب میں بھی پہنچ جاتے تھے، پاکستان بننے، اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کی شروعات کا خواب، حضرت علامہ اقبالؒجیسے ایک وکیل نے دیکھا تھا، جس کی تعبیر کے لیے اُنہوں نے اُس وقت کے مخلص اور محب وطن وکیل حضرت قائداعظم ؒ سے مشاورت کرکے اُن سے مسلمان لوگوں کی رہبری کی درخواست کی تھی۔
علی احمد کرد بھی ایک وکیل ہیں، اور دلیل پہ یقین رکھتے ہیں، آج میں اِس معروف وکیل کی فکروسوچ، جس میں اپنے ملک سے محبت کا عنصر خاصا نمایاں ہے، کی قدرکرتے ہوئے یہ الفاظ لکھ رہا ہوں، حضرت علامہ اقبالؒ نے بھی فرمایا ہے کہ:
چاہے تو کرے کعبے کو آتش کدہ¿ پارس
چاہے تو کرے اِس میں فرنگی صنم آباد
قرآن کو بازیچہ¿ تاویل بناکر !
چاہے ، تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد
آخر میں میری کُرد صاحب سے اپیل ہے کہ زندگی میں اگر کبھی مجھ پہ توہین عدالت لگے ، تو میری وکالت کا وعدہ کریں۔


ای پیپر