بارش کے پانی سے تنگ کراچی کے عوام کیلئے گیس کا سنگین بحران 
24 ستمبر 2020 (18:41) 2020-09-24

اسلام آباد :وزیر توانائی عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گیس درآمد کرنا پڑے گی ،سندھ حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو کراچی میں گیس کی قلت کا شدید بحران جنم لے سکتا ہے ،ماضی میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ،سردیوں میں گیس کی قلت کے حوالے سے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں ۔

وزیر توانائی عمر ایوب  و معاون خصوصی  ندیم بابر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی کی حکومتوں نے تیل وگیس کے ذخائر دریافت کرنے کیلئے کوششیں کی ہوتی تو آج ہمیں گیس کی قلت کا سامنا نہ ہو تا اور نہ ہی گیس درآمد کرنے کی ضرورت پڑتی ،سردیوں میں گیس کی قلت کے حوالےسے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں،سندھ بالخصوص کراچی میں گیس کی قلت کا سامنا ہے،سندھ حکومت گیس پائپ لائن بچھانے کی اجازت نہیں دے رہی،سندھ میں 17 کلومیٹر کے حصے پر گیس پائپ لائن بچھانی ہے۔

معاون خصوصی ندیم بابر نے کہا سردیوں میں گیس شارٹ فال 250 مکعب فٹ سے بڑھ جائے گا،سوئی ناردرن گیس کی پیداوار میں کمی نہیں ہوئی،سندھ میں گیس پریشر کی کمی کے باعث مسائل کا سامنا ہے،سوئی سدرن سسٹم میں گیس کم اور طلب زیادہ ہے،سندھ میں سردیوں میں گیس شارٹ فال 400 مکعب فٹ تک جاسکتا ہے،دسمبر اور جنوری میں گیس شارٹ فال مزید سنگین ہو جائے گا،سندھ حکومت گیس لائن کی اجازت دے تو بحران پر قابو پاسکتے ہیں،سندھ حکومت راہداری فراہم کرے تاکہ گیس کی کمی پوری کرسکیں،سندھ حکومت نےچند روزمیں اجازت نہ دی تو صورتحال خراب ہوگی۔

معاون خصوصیندیم بابر نے کہااقدامات نہ کئے گئے تو سب سے زیادہ نقصان کراچی کو ہوگا،گیس شارٹ فال سے کراچی کی صنعتوں کو شدید نقصان ہوگا،حکومت سندھ کو چاہیے گیس بحران سے بچنے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔


ای پیپر