شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کیس، شواہد پر مبنی 58 والیمز پر مشتمل ریفرنس تیار
24 ستمبر 2020 (10:32) 2020-09-24

لاہور: مسلم لیگ ن کے صدر او قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے گرد نیب نے مزید گھیرا تنگ کرنے کی ٹھان لی۔ نیب لاہور نے شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں شواہد پر مبنی تاریخی طویل ترین ریفرنس تیار کر لیا۔ ریفرنس 58 والیمز پر مشتمل جبکہ تمام ملزمان کو فراہم صفحات کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے۔

 ریفرنس میں شہباز شریف اور اہل خانہ کیجانب سے منی لانڈرنگ کے مکمل طریقہ کار کو ایکسپوز کیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ کیلئے سلمان شہباز اور انکے پھیلائے گئے نیٹ ورک کی مکمل تفیصلات والیمز کی صورت میں ظاہر کی گئی ہیں۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے بے نامی اثاثہ جات کی مالیت 7 ارب سے زائد پائی گئی۔ متعدد بے نامی کمپنیاں، کروڑوں روپے کے شیئرز اور بے شمار بینک اکاؤنٹس میں شہباز شریف کی اربوں کی ملکیت ثابت ہوئی ہے۔ 

اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام حکومت کی 2 سال کی کارکردگی سےمایوس ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے عوام کو سہانے خواب دکھائے تھے لیکن حکومت نے کچھ بھی عوام کی خوشحالی کے لئے نہیں کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو کہا گیا تھا کہ عمران خان آئے گا تو دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی تاہم حکومت نے مخالفین کے خلاف بے بنیاد کیسز بنانے کے ریکارڈ توڑ دیئے جبکہ رانا ثنااللہ پر ہیروئن کا کیس بنا ڈالا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف دور میں چینی 50 روپے اور آج 100 روپے کلو ہے لیکن سلیکٹڈ وزیراعظم اس اسکینڈل کو چھپانے میں مصروف ہے۔ چینی اسکینڈل کے اصل ملزم عمران خان اور عثمان بزدار ہیں۔ 

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں آیا اگر شفاف تحقیقات ہوں تو عمران خان ایک دن بھی وزیراعظم نہ رہیں۔ عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا اور ہم پر الزامات لگاتے ہیں جیسے یہ خود دودھ کے دھلے ہیں۔ مالم جبہ، چینی، گندم، ادویات اور ہیلی کاپٹر اسکینڈل کا کیا بنا قوم اس کا جواب مانگ رہی ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا قوم کی بیٹیوں کو کٹہرے میں لایا جا رہا ہے لیکن ہم انہوں چیزوں سے ڈریں گے نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کریں گے۔ میرے خلاف 56 کمپنیوں کے کیس میں سے ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ اپنے دور میں منصوبوں میں ریکارڈ بچت کی جبکہ نواز شریف کی قیادت میں ایک ہزار ارب روپے کی بچت کی۔ اگر میرے مرنے کے بعد کرپشن ثابت ہو جائے تو مجھے نکال کر لٹکا دیا جائے۔ 'سلیکٹڈ' وزیراعظم عمران نیازی کی کوشش ہے مجھے جیل بھیجا جائے۔ 

لیگی صدر نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت میں دن رات محنت کی۔ ہماری محنت کا بچہ بچہ گواہ ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں ہماری معیشت کا حال سانحہ بلدیہ فیکٹری جیسا ہونے جا رہا ہے۔ اگر بہتری نہ آئی تو پھر معیشت کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔


ای پیپر