”ریاست بالائے ریاست“
24 ستمبر 2020 (09:22) 2020-09-24

گزشتہ اتوار 20 ستمبر کو منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اور اس میں لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے سابق وزیراعظم نوازشریف کی موجودہ سیاسی نظام کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دینے والی تقریر سے چار روز قبل یعنی 16 ستمبر کو آرمی چیف نے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا خفیہ اجلاس بلا رکھا تھا۔ موضوع بعد میں منظرعام پر آنے والی اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کا مستقبل تھا.... جس کے حوالے سے یہ تجویز زیربحث آئی کشمیر کے اس حصے کو پاکستان کا صوبہ بنا کر ملک کے اندر ضم کر دیا جائے.... اسے غالباً فوجی قیادت کی جانب سے پیش کیا گیا.... کابینہ کے موجود اراکین نے جن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نمایاں تھے اس کی حمایت کی.... مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا اس معاملے کو انتخابات کے بعد تک موقوف کر دیا جائے.... پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو کا بھی کم و بیش یہی مو¿قف تھا.... ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہمیں اس معاملے میں غیرمعمولی احتیاط سے کام لینا اور بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے.... بھارت مکمل جارحیت سے کام لیتے ہوئے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو ہڑپ کر چکا ہے اگر ہم نے بھی گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دے کر پاکستان میں باقاعدہ شامل کر لیا تو وہی الزام ہم پر تھوپ دیا جائے گا.... بہرصورت یہ پاکستان کے دفاع اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک نازک موضوع تھا.... اسی لئے اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کی شیریں رحمن نے ایک سے زیادہ مرتبہ سوال اٹھایا.... اتنے اہم موضوع پر گفتگو ہو رہی ہے تمام پارلیمانی جماعتوں کے قائدین موجود ہیں لیکن قائد ایوان یعنی وزیراعظم عمران خان کیوں نظر نہیں آ رہے.... ان کی غیرموجودگی میں اتنا بڑا فیصلہ کیونکر ہو گا.... ابھی تک اس ”خفیہ“ اجلاس کی کارروائی کا مختلف شرکاءکی جانب سے جو احوال سامنے آیا اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ وزیراعظم کی غیرحاضری کا کیا سبب بتایا گیا.... کیا انہیں دعوت نہ دی گئی.... بے خبر رکھا گیا یا موصوف نے خود تشریف لانا پسند نہیں کیا.... تمام صورتوں میں معاملہ تعجب خیز ہے.... یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے موجودہ وزیراعظم فیصلہ سازی کے کس مقام پر کھڑے ہیں.... بہرصورت حکومت و ریاست اور حزب اختلاف کی اتنی اہم شخصیات کے ایک پس پردہ اجلاس میں اکٹھے ہو جانے کی وجہ سے بات صرف گلگت بلتستان کے مستقبل تک محدود نہ رہی سیاسی رہنماﺅں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے دوسرے موضوعات بھی اٹھائے خاص طور پر حکومتی اور سیاسی امور میں فوجی قیادت کی مداخلت جس کے بارے میں شیخ رشید کے مطابق جنرل صاحب نے واضح الفاظ میں کہا ہم حکومتی امور میں مداخلت کرتے ہیں نہ ایسا ارادہ ہے.... یہ کام سیاسی رہنماﺅں اور منتخب حکومت کا ہے.... جو بھی منتخب حکومت ہو گی اسے ہمارا تعاون حاصل رہے گا.... البتہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے ایک ٹی وی چینل پر اجلاس کی کارروائی کے بارے میں جو گفتگو کی ہے اس سے مترشح ہوتا ہے حزب اختلاف کے رہنماﺅں کو اصرار تھا کہ مداخلت ہوتی رہتی ہے جبکہ آئین و جمہوریت کے تقاضوں کے پیش نظر اس سے اجتناب ضروری ہے.... یہ تمام باتیں صیغہ راز میں رہتیں جیسا کہ شرکاءسے کہا گیا تھا.... مگر ’ اے پی سی‘ میں گھنٹہ بھر کی تقریر کے دوران تین مرتبہ منتخب ہونے والے برطرف شدہ وزیراعظم نوازشریف نے جو لگی لپٹی رکھے بغیر موجودہ نظام کے تمام سٹیک ہولڈرز کو جھنجھوڑ کر رکھتے ہوئے کہا معاملہ ریاست کے اندر ریاست سے کہیں آگے بڑھ کر ریاست بالائے ریاست تک پہنچ گیا ہے.... پاکستان میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں.... میرا مقابلہ (وزیراعظم) عمران خان سے نہیں بلکہ ان قوتوں سے ہے جو من مرضی کے انتخابات کے ذریعے انہیں لے کر آئی ہیں.... ہم موجودہ اے پی سی کے بعد برپا ہونے والی تحریک کے ذریعے اس نظام کو ختم کر کے دم لیں گے.... یہ ایک کھلا چیلنج (UP FRONT ATTACK)تھا جس نے تمام ٹیلی ویژن چینلوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست نشر ہوتے ہی پورے ملک کے اندر تھرتھلی مچا دی....

تب شیخ رشید نے اپنی زبان کھولی.... فوجی قیادت کی جانب سے گویا ہوئے انہوں نے تو چار روز قبل سیاست دانوں کے ساتھ خفیہ ملاقات میں کہہ دیا تھا ہم امور حکومت میں کسی قسم کی مداخلت کرتے ہیں نہ ارادہ رکھتے ہیں.... لیکن سراج الحق صاحب نے واضح کر دیا.... شیخ رشید نے آدھی بات بتائی ہے پوری حقیقت یہ ہے سیاسی رہنماﺅں نے اپنا نقطہ نظر کھل کر بیان کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ہر قسم کی مداخلت بند ہونی چاہئے اور ملک کے اندر شفاف ترین آزادانہ انتخابات ہونے چاہئیں.... موضوع ظاہر ہے اتنا گرم تھا کہ مسلسل بحث ہو رہی ہے.... مریم نواز نے کل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا گلگت بلتستان سیاسی مسئلہ ہے اسے پارلیمنٹ میں زیربحث آنا چاہئے نہ کہ جی ایچ کیو میں.... 

سیاستدانوں کو بھی جی ایچ کیو نہیں جانا چاہئے.... شیخ رشید نے کہا ہے جی ایچ کیو میں ایک نہیں دو ملاقاتیں ہوئی ہیں جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے نوازشریف مقتدر قوتوں کو للکارنے والی تقریر کی وجہ سے سخت تنقید کی زد میں ہیں.... وزراءکا بیان دے دے کر سانس پھول چکا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت کی جانب سے اے پی سی کا جو اعلامیہ جاری ہوا ہے اس کے متن سے بھی نوازشریف کی تقریر کی جھلکیاں دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہیں.... تمام جماعتوں اور ان کے قائدین نے عہد کیا وہ ملک میں آئین مملکت کی بالادستی اور خالص جمہوریت کی بحالی کے لئے اگلے چار ماہ کے دوران بھرپور تحریک چلائیں گے.... احتجاجی جلسے اور جلوس نکالیں گے.... سلیکٹڈ وزیراعظم کے فوری استعفے کا پُرزور مطالبہ کریں گے.... جلد از جلد آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو اپنا ہدف بنائیں گے.... اس منزل کے حصول کی خاطر تحریک عدم اعتماد لانا پڑی یا نوبت اسمبلیوں سے استعفوں پر جا پہنچی تو کسی آپشن سے دریغ نہیں کریں گے.... مطالبات منظور کرانے کی خاطر عوامی دباﺅ کو بڑھاتے ہوئے آئندہ ماہ جنوری میں دارالحکومت اسلام آباد تک مارچ کریں گے، دھرنا بھی دیں گے.... وغیرہ وغیرہ.... ’اے پی سی‘ میں تقریریں دوسرے قائدین نے بھی کیں.... زرداری صاحب، شہباز شریف، بلاول بھٹو کے خطابات براہ راست نشر کئے گئے جبکہ مولانا فضل الرحمن، مریم نواز اور دیگر قائدین کی تقاریر کو بند کرے کے اجلاس تک محدود رکھا گیا.... (مولانا اپنے بارے میں اس سلوک پر قدرے ناراض بھی ہوئے.... لیکن کانفرنس کا اعلامیہ انہوں نے پڑھ کر قوم کے سامنے رکھا) سب نے اپنے اپنے الفاظ میں موجودہ غیرآئینی اور غیرجمہوری نظام کو مسمار کر کے رکھ دینے کے پختہ عزم اور مصمم ارادے کا اظہار کیا.... لیکن نوازشریف ایک برس کی خاموشی کے بعد جس طرح محاورے کے مطابق کفن پھاڑ کر بولے اور اپنے الفاظ میں ریاست بالائے ریاست کے مسلط شدہ نظام کے درودیوار کو ہلا کر رکھ دیا اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا وہ حد درجہ طاقتور سٹیک ہولڈرز پر گرجے بھی برسے بھی.... تین مرتبہ وزیراعظم ہونے کے ناتے اپنے تلخ تجربات کو زوردار الفاظ اور متاثرکن انداز میں اہل وطن کے سامنے رکھا.... نوازشریف شدید بیماری کے باوجود صحتمند دکھائی دیتے تھے....بہت سوں کی توقعات کے برخلاف ہمت نہیں ہاری.... ایسا معلوم ہوتا تھا لندن سے اڑان بھر کر لاہور یا اسلام آباد پہنچنا چاہتے ہیں.... آتے ہی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے طوفان سا برپا کر دیں گے.... فوری طور پر واپس تو وہ شائد نہیں آئیں گے.... ان کا علاج ہونا اشد ضروری ہے.... اس کے بعد وطن کی جانب رخت سفر باندھا جائے گا.... جہاں ہتھکڑیاں ان کے استقبال کے لئے تیار پڑی ہیں.... حکومتی ترجمان کہتے ہیں بھگوڑا ہے ہمت ہے تو واپس آئے.... قانون کا سامنا کرے.... نواز کے ساتھی جواب میں کہتے ہیں ان کا قائد جیل جانے سے ہرگز نہیں ڈرتا.... اس کی بیوی بستر مرگ پر تھی تو بلاخوف و خطر اسے چھوڑ کر چلا آیا تھا.... سیدھا جیل میں جا پہنچا تھا.... اس مرتبہ اس کی بیماری آڑے آ رہی ہے.... وہ حالت قید میں تھا تو سرکاری ڈاکٹروں نے اسے بغرض علاج لندن بھجوانے کی سفارش کی تھی.... حکومت نے بیرون ملک سفر کی اجازت دی تھی.... اب ڈاکٹروں سے اجازت ملتے ہی لوٹ آئے گا.... اگرچہ مفرور قرار دیا جا چکا ہے اور وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں.... لیکن سابق وزیراعظم کی بدن بولی بتا رہی تھی وہ گھبرانے والے ہرگز نہیں....

صورت واقعہ جو بھی ہے.... اور یہ بات کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنے مطالبات منوانے کی خاطر تحریک شروع کرنے کا جو عزم باندھا ہے وہ کامیاب ہوتی ہے یا نہیں آزادانہ اور شفاف طریقے سے وسط مدتی انتخابات ہو پاتے ہیں یا نہیں.... اصل مسئلہ یہ ہے.... موجودہ نظام کے سٹیک ہولڈرز سمیت پوری قوم کا اتفاق ہے کہ آئین کی غیرمشروط بالادستی امر لازم ہے.... اسٹیبلشمنٹ کو حکمرانی کا حق ہرگز حاصل نہیں.... یہ باتیں صرف نوازشریف اور اپوزیشن کے دیگر رہنماﺅں نے اپنے خطابات میں نہیں کہیں....چار روز قبل آرمی چیف نے قومی رہنماﺅں کا جو خفیہ اجلاس منعقد کیا اس میں بھی موصوف نے ان مقاصد کے ساتھ کھل کر اپنی وابستگی کا اظہار کیا.... اطلاعات کے مطابق غیرمبہم الفاظ میں کہا کہ جمہوری اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے عسکری قیادت بھی اپنے آپ کو سیاست سے اتنا دور رکھنا چاہتی ہے جتنا قوم تقاضا کرتی ہے.... اس کا مطلب یہ ہے پوری کی پوری قوم، تمام سیاسی قائدین جملہ سٹیک ہولڈرز یعنی اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر یا جنہیں فیصلہ کن قوتیں کہا جاتا ہے قطع نظر اس سے کہ آئین انہیں یہ مقام دیتا ہے یا نہیں نیز جملہ اہل الرائے اور قوم کا دانشور طبقہ اس ایک نکتے پر یکجا ہے حکومت کرنے کا حق صرف صحیح معنوں میں آزادانہ انتخابات کے ذریعے برسراقتدار آنے والی جماعت کو حاصل ہے اس میں کسی قسم کی اندرونی یا بیرونی مداخلت روا نہیں رکھی جا سکتی.... عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ ارض پاکستان کا سب سے مقتدر ادارہ ہے باقی سب ماتحت ہیں.... اگر یہ بات درست ہے تو فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے ملکی اور ریاستی سطح پر اس سے انحراف کا تاثر کیوں پایا جاتا ہے اور یہ احساس ہماری ستر سالہ تاریخ کے ہر موڑ پر یہ پختہ تر کیوں ہوتا جا رہا ہے.... اس کی وجہ سے کئی لاینحل مسائل جنم لیتے ہیں.... جو وقت گزرنے کے ساتھ اتنے پیچیدہ ہو جاتے ہیں کہ ہماری تمام صلاحیتیں ان کی گرہیں کھولنے میں صرف ہو جاتی ہیں.... آج پاکستان کی ہر گلی اور ہر محلے میں راہ چلتے کسی مرد یا خاتون کو روک کر پوچھ لیجئے عمران خان کو کون لایا.... اس کے پیچھے اصل حکمرانی کس کی ہے.... ہر جانب سے ایک ہی جواب ملے گا.... ہر زبان ایک نام لے گی.... اس سے فطری طور پر ریاست بالائے ریاست کے تصور کو تقویت ملتی ہے جو ہرگز امر مطلوب نہیں.... ہمارے بہت سے قومی اور ریاستی مسائل کی جڑ ہے.... جو اس تصور کو عملی طور پر دور کئے بغیر حل نہیں ہو سکتے.... معلوم ہونا چاہئے آئین کی بالادستی اور خالص جمہوریت محض نوازشریف یا موجودہ سیاستدانوں کا مطالبہ نہیں.... یہ لوگ خود کئی غلطیوں اور بڑی بڑی حماقتوں کے مرتکب ہو چکے ہیں.... یہ درحقیقت بانی مملکت قائداعظم محمد علی جناحؒ کا نصب العین ہے.... انہوں نے اگست 1947 میں نوزائیدہ مملکت کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھاتے ہوئے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کئے تھے میں پاکستان کے آئندہ بننے والے آئین کا وفادار رہوں گا.... لیکن ہم نے قوم کے متفق علیہ آئین کو بار بار توڑا اور اس کی حرمت کو پامال کیا.... اسی راستے پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے مملکت خداداد کا دولخت ہونا برداشت کیا....لہٰذا اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہو یا ناکام ہمیں اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ جمہوریت کی منجمد گاڑی اپنی درست سمت پر رواں دواں ہو جائے.... آئین ہر صورت میں بالادست ہو.... عوام کو ان کا حق حکمرانی واپس لوٹایا جائے.... اپنے مسائل اپنی نمائندہ حکومت کے ذریعے خود حل کریں.... ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکیں.... ایک ملک دو متوازی حکومتوں کا کیسے متحمل ہو سکتا ہے.... لہٰذا ریاست بالائے ریاست کا اگر مبہم سا تصور بھی کہیں پایا جاتا ہے تو اسے حرف غلط کی مانند مٹا کر رکھ دینا قومی ضرورت ہے....


ای پیپر