وقت ہاتھ سے نکلنا نہیں چاہیے
24 ستمبر 2020 (09:17) 2020-09-24

 سیاسی منظر نامے پر یہ بحث شدت سے جاری ہے کہ نواز شریف کو حکومت نے تقریر اس لیے کرنے دی کہ وہ قوم کے سامنے ایکسپوز ہو سکیں۔ تازہ کابینہ اجلاس میں بھی یہ سوال سامنے آیا۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر کہا کہ میں استعفی دے دوں گا این آر او نہیں دوں گا۔ وزیراعظم یہ بات تو دو سال سے کہہ رہے ہیں کہ وہ این آر او نہیں دیں گے۔ پاکستان کی یہ پہلی حکومت ہے جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھ رہی۔ پاکستان کے پہلے ڈکٹیٹر ایوب خان کی حکومت کس طرح ڈھیر ہوئی۔ایک بڑے اتحاد نے ایوب خان کو گول میز کانفرنس کے ذریعے دباﺅ میں لایا اور انہیں اعلان کرنا پڑا کہ پارلیمانی جمہوریت اور عوام کی حاکمیت کا نظام سب سے بہتر ہے۔اس حکومت کا حال تو یہ ہے وہ مریم نواز اور نواز شریف کی ایک تقریر سے پریشان ہو جاتی ہے گیارہ جماعتوں کے اتحاد سے کیسے نمٹے کی جو چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب اتحاد سے زیادہ نواز شریف کے لفظ گونج اور گرج رہے ہیں۔ نواز شریف کی آنیاں اور جانیاں حکومتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ حکومت اس وقت آرام سے ان کا کام چل رہا تھا کہ مریم نواز کو انہوں نے ایسے ہی غیر ضروری پتھر پھینک دیا۔ نواز شریف اب لندن میں علاج کے ساتھ سیاست بھی کریں گے اور دفتر بھی چلائیں گے۔ کارکنوں سے ملاقات بھی کریں گے اور وڈیو لنک کے ذریعے میں شریک بھی ہوں گے۔سرکار کے ایک وزیر کا دعوی ہے نواز کے لیے اینٹی اسٹیبلشمنٹ تقریر کے بعد ان کا کام سیاسی پناہ کا آسان ہو گیا ہے۔ نواز شریف کو سیاسی پناہ کی کیا ضرورت ہے وہ تو ” مجھے کیوں نکالا “کا حساب پھر مانگنے آ رہے ہیں۔ سیاست میں ان کی موجودگی کے احساس کو مسلم لیگ ن کے کارکن ہر لمحہ محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ خود نواز شریف کو سیاست سے مائنس رکھنا پسند نہیں رہا۔ جلا وطنی کے ایام میں نواز شریف 2005میں سعودی عرب سے لندن چلے گئے۔ پرویز مشرف کا یہ اندازہ اور خیال غلط ثابت ہواکہ سعودی عرب کی طرح وہ لندن میں بھی رہ کر سیاست پر لب کشائی نہیں کریں گے۔ لندن کی جمہوری روایات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں کی پہلے دن ہی اپنی سیاست جہاں سے انہوں نے چھوڑی تھی یا جبر سے زبان سی لی تھی۔وہاں سے بات شروع کی۔ لندن سے پارٹی چلانے کا تجربہ کامیاب رہا۔ ان دنوں بے نظیر بھٹو بھی لندن میں تھیں ”میثاق جمہوریت“ کا معاہدہ بھی کیا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان معاہدے میں لکھا تھا کہ دونوں جماعتوں میں کوئی فوج سے سیاست پر نہ مدد لے گا اور نہ استعما ل ہو گا۔ مگر مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک سمجھوتا ہو گیا۔ جس سے بے نظیر کو این آر او مل گیا۔ نواز شریف نے اس صورت حال میں لندن میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کی اور مشرف کے خلاف آل پاکستان ڈیمووکریٹک موو منٹ کے نام سے ایک اور اتحاد قائم کر لیا۔نواز شریف کو اس وقت بڑا ریلیف سپریم کورٹ کی طرف سے ملا کہ نواز شریف پاکستان کے شہری ہیں ان کو پاکستان آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ اب نواز شریف کو لانے کی حکومت کو اشد ضرورت ہے کہ انہیں جیل میں ڈالا جائے مگر نواز شریف چاہتے ہیں کہ ان کی اپیل ان کی عدم موجودگی میں سنی جائے نواز شریف کی 20ستمبر کی تقریر میں ماضی کے عدالتی فیصلوں پر بھی کڑی تنقید کی گئی اور پوچھا کہ انصاف کا ترازو پرویز مشرف کے حق میں کیوں جھک گیا۔ وہاں الیکشن کمشن کو بھی یاد دلایا گیا کہ چھ سال سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا۔اب نواز شریف کو لندن سے لانے کی ساری ذمہ داری حکومت پر ڈال دی گئی ہے۔ العزیزیہ سٹیل ریفرنس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی کاونٹی کورٹ کے ذریعے تعمیل کی 

رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکومت کی سر زنش کرتے ہوئے یہ بھی پوچھا گیا کہ سزا یافتہ نواز شریف کو حکومت نے بتائے بغیر باہر بھیجا،واپس لانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔وفاقی حکومت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالا۔عدالت نے حکومت کو بتا دیا ہے کہ وہ سزا یافتہ مجرم کی حوالگی کا آرڈر جاری نہیں کرینگے ،یہ وفاقی حکومت کی صوابدید ہے وہ جو بھی کرے ہم پورے طریقہ کار پر چلیں گے ۔ نواز شریف کو حکومت نہیں لا سکتی وہ تو اسحاق ڈار کو نہیں لاسکی۔نواز شریف آئے گا وہ جیل بھی جائے گا۔ سیاسی ماحول بدل گیا ہے۔ ایسے ماحول میں نواز شریف جب یہ کہتا ہے کہ اس حکومت نے پاکستان کی معیشت کو نیپال اور افغانستان سے نیچے پہنچا دیا ہے۔ غریبوں کو مہنگائی اور یوٹیلٹی بلوں سے مارا جا رہا ہے۔ عمران خان نے دو سال میں اپوزیشن کا یہ رخ نہیں دیکھا۔اپوزیشن جماعتوں نے” پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ کے نام سے حکومت مخالف اتحاد تشکیل دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کہانی تو انتخاب میں دھاندلی سے شروع ہوئی تھی پہلے دن سے ہی عمران خان کو جب سلیکٹیڈ کہا گیا تو اس کا اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف تھا۔ آج 28نکات پر مشمل اعلامیہ میں جہاں اسٹیبلشمنٹ کو کئی جگہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہاں انہیں دھاندلی کے حوالے سے بھی کافی تنقید کا سامنا ہے۔ اتحاد کے جاری نکات میں یہ بات بھی زور دے کر کی گئی ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو مصنوعی استحکام اس اسٹیبلشمنٹ نے بخشا جس نے اسے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عوام پر مسلط کیا، اجلاس نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا، اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کرے، اسٹیبلشمنٹ کے تمام ادارے آئین کے تحت لیے گئے حلف اور اس کی متعین کردہ حدود کی پابندی و پاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں۔ حکومت کے وزرا نے نواز شریف کی تقریر پر پریس کانفرنس کی اور یہ بات کہی کہ اس کا نوٹس فوج کو لینا چاہیے۔ نواز شریف نے تو ڈان لیکس کا حوالہ بھی دیا میں نے یہی کہا تھا کہ دنیا کو ہمارے سے شکایات ہیں انہیں دور کیا جائے۔ مگر آرمی چیف نے جو بیان جاری کیا ہے وہ حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے ‘فوج کا سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے‘ حالیہ قانون سازی‘ انتخابی اصلاحات ‘ سیاسی اموریا نیب کے معاملات میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں ہے‘یہ کام سیاسی قیادت نے خود کرناہے‘پاک فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں ‘موجودہ منتخب حکومت جو کہے گی ہم وہ کریں گے ‘کل آپ حکومت میں آئیں گے ہم آپ کا بھی ساتھ دیں گے ‘ہم ملک میں کسی کو کوئی فساد برپا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت اور اداروں کے خلاف بیان بازی بھارتی لابی کو خوش کرنے کی کوشش تھی‘حزب اختلاف اور ہندوستان کا ایجنڈا ایک ہے ‘ملکی ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کررہے ہیں‘ان پر تنقید غیرمنطقی ہے۔ عمران خان ماضی میں فوج کےخلاف نواز شریف سے زیادہ بولتے رہے ہیں۔ حکومت کا نواز شریف کے خلاف بیانیہ ناکام ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے ماضی کو بھی عوام کے سامنے رکھا ہے۔


ای پیپر