اے پی سی:راستہ ایک،منزلیں جدا جدا
24 ستمبر 2020 (09:11) 2020-09-24

آل پارٹیز کا نفرنس کے انعقاد کے ساتھ ہی ملک کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے جس کی شدت کراچی کی بارشوں سے بھی زیادہ ہے۔ موسم گرما اپنی تمام تر حشر سامانی کے ساتھ اختتام پر ہے اور اکتوبر سے اپریل تک کا عر صہ ہمارے ملک میں سیاسی سرگرمیوں کا سیزن سمجھا جاتا ہے۔ سارے لانگ مارچ اسی عرصے میں ہوتے ہیں۔اس وقت ہر شہری سوچنے پر مجبور ہے کہ ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے۔ ایوب خان کا دور تھا مشہور انقلابی شاعر فیض کی محفل لگی تھی اور سب پر قنوطیت طاری تھی ایک شخص نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ پاکستان فیل ہوجائے گا۔ ایک اور شخص بولا کہ لگتا ہے کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ فیض مرحوم اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور کہنے لگے کہ میرے پاس اس سے بھی بری خبر ہے۔ انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے تو آپ نے مسکراکر کہا کہ یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہے گا۔

آل پارٹیز کا نفرس نے حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ اور نئے انتخابات کی ڈیمانڈ کی ہے اور کہا ہے کہ مطالبات کے حصول کیلئے ریلیاں اور احتجاجی مارچ کیا جائے گا اور جنوری میں لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کی بھی دھمکی سنی گئی ہے۔ اجلاس میں نیب کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ البتہ اجلاس میں عام آدمی کی مشکلات کا تذکرہ اگر ہوا بھی ہے تو By The Way حد تک ہے۔ کانفرنس کا لب لباب سیاسی جماعتوں کی ذاتی خواہشات اور مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔

کانفرنس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں میاں نواز شریف نے لندن سے براہ راست خطاب کیا۔میاں صاحب ن لیگ میں اس وقت کوئی عہدہ نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود پارٹی کی نظریں ان پر لگی رہتی ہیں اور پارٹی ورکرز کو اب بھی یقین ہے کہ وہ سیاست میں واپس آئیں گے۔ ان کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس سے مشکل مشکل وقت بھی دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے پر ستاروں کی یہ خوش فہمیاں بظاہر تو غیر حقیقی لگتی ہیں مگر پاکستان سیاسی معجزوں کی سرزمین ہے 

یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے لہٰذا اگر یہ مفروضہ قائم کر لیا جائے کہ وہ چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں گے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ میاں نوازشریف جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کسی انڈر سٹینڈنگ کے نتیجے میں ملک سے باہر گئے تھے۔ ان کی تقریر اس Mythکا پردہ چاک کرتی نظر آتی ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے ساتھ کسی سمجھوتے کے موڈ میں نہیں ہیں۔اگر یہ بات تھی تو انہیں پاکستان سے بیماری کا جواز بنا کر باہر نہیں جانا چاہیے تھا ۔ 71سال کی عمر میں ان کی ہشاش بشاش صحت ظاہر کرتی ہے کہ وہ چوتھی اننگ کھیل سکتے ہیں۔اس لئے اگر وہ جیل میں رہنے کو تر جیح دیتے تو ان کے سیاسی قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوجاتا اور انہیں جیل میں رکھنے والوں پر اخلاقی اورعوامی دباﺅ اتنا زیادہ ہوتا جس کی وہ تاب نہ لاپاتے۔

 لیکن میاں نوازشریف اب چوتھی بار وزیراعظم بننے کی بجائے مریم کو وزیراعظم بنانے کے خواشمند ہیںاور یہی وہ خواہش ہے جس کی وجہ سے انہیں خود اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔ڈان لیکس فوج اور میاں صاحب کے درمیان اختلافات کا نقطہ¿ آغاز تھا مگر اس وقت چونکہ جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے ، انہوں نے اس پر نرم مو¿قف اختیار کیا مگر ان کی رخصتی کے بعد وہ لاوا جو بڑی دیر سے پک رہا تھا بالآخر پھٹ گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ 

میاں صاحب نے لگی لپٹی کے بغیر براہ راست یہ کہہ دیا ہے کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ ان کو لانے والوں کے ساتھ ہے جس کے جواب میں آرمی چیف کو فوری بیان جاری کرنا پڑا کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے جو آنے والے سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات چھوڑے گی۔ 

آل پارٹیز کانفرنس کی ساری پارٹیاں بظاہر تو سیاسی مطالبات پر متفق ہیں مگر اندرون خانہ سب کے مقاصد الگ ہیں۔ میاں نواز شریف کی تقریر جتنی دھواں دار تھی، آصف زرداری کی تقریب اتنی ہی مصالحانہ تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فوج کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ 

آصف زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ ن لیگ اور فوج کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر خود کو متبادل کے طور پر پیش کریں تا کہ جب تحریک انصاف کی رخصتی کا وقت آئے تو پیپلزپارٹی اس کی جگہ لے سکے۔ یہ پیپلزپارٹی کے تاریخی مو¿قف کے خلاف ہے مگر پاور پالیٹکس میں اصولوں کی سیاست نہیں اقتدار کے سرچشموں کی سیاست ہوتی ہے۔ ورنہ آصف زرداری اپنے دور میں جنرل کیانی کو تین سال کی توسیع دے کر ایک نئی روایت قائم نہ کرتے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگلے انتخابات تک پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف مزید کتنا گرتا ہے۔ جب عمران خان کو واضح ہو جائے گا کہ وہ اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر دوبارہ نہیں جیت سکتے تو ان کی خواہش ہو گی کہ انہیں کسی نہ کسی طرح جاری رکھنے دیا جائے۔ اس سلسلے میں عمران خان کی حیثیت نوا زشریف سے برعکس ہے۔ میاں صاحب فوج کے ذریعے آئے ضرور ہیں مگر اس کے بعد انہوں نے طاقت کے ایوانوں میں اپنے پنجے اتنے مضبوط کر لیے کہ وہ یہ سمجھنے لگ گئے کہ چونکہ عوام ان کے ساتھ ہیں لہٰذا کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن ہر دفعہ ان کے راستے گھبرا جاتے ہیں اور نتیجہ ان کے خلاف جاتا ہے۔ اس وقت بھی صورت حال یہ ہے کہ اگر آزادانہ انتخابات کرائے جائیں تو ن لیگ اقتدار میں آجائے گی لیکن عملاً ایسا نظر نہیں آتا۔ ن لیگ میں اگر کسی کا decline ہوا ہے تو وہ شہباز شریف ہیں ۔ وہ آہستہ آہستہ بیک گراو¿نڈ میں جا رہے ہیں جبکہ مریم نواز تیزی سے آگے آ رہی ہیں۔ چچا اور بھتیجی کی سیاست میں 180 درجے زاویے جتنا فرق ہے۔ ن لیگی ورکرز کا فیصلہ مریم نواز کے حق میں ہے۔ 

سوال یہ بھی ہے کہ کیا نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مقتدر اداروں سے ٹکر لے کر اگلا الیکشن جیت سکتے ہیں؟ جن لوگوں کو نواز شریف کی طاقت کا اندازہ ہے وہ جانتے ہیں کہ لندن جا کر انہوں نے سپر پاورز کے ساتھ اپنی lobbing بڑے مو¿ثر طریقے سے جاری رکھی ہوئی ہے۔ امریکی انتخابات کے بعد ہو سکتا ہے وہ وہاں ٹرمپ کا اقتدار ختم ہو جائے۔ دوسری طرف پاکستان میں حالیہ آرمی چیف کی مدت میں بھی 2 سال باقی ہیں اور ضروری نہیں کہ نیا آرمی چیف جنرل باجوہ کی پالیسیوں کا تسلسل ہو لہٰذا اگلے انتخابات کے اپنے dynamics ہوں گے۔ میاں نواز شریف کاconfidence بتا رہا ہے کہ انہیں کہیں نہ کہیں سے کوئی یقین دہانی یا امید کی کرن نظر آتی ہے۔ 


ای پیپر