آل پارٹیز کانفرنس اور سیاسی پینترے
24 ستمبر 2020 (09:05) 2020-09-24

آو¿ کہ اپنی مختصرف تاریخ میں ایک حیران کن چیز کا جائزہ لیں۔ 1977 ءکے انتخابات کے نتائج پر اپوزیشن کو شدید تحفظات تھے۔ انتخابات کے چند ہی دنوں بعد ملک ایک خوفناک صورتحال سے دوچار ہوا۔ ہوا کیا تھا یہ سمجھنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔ پی این اے میں نو پارٹیاں شامل تھیں اور مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ انتخابات ہوئے ' نتائج کا اعلان جب کیا گیا تو میں نہیں مانتا کی گردان شروع ہوئی ۔ اس وقت بھٹو مرحوم نے خود اپنے قریبی دوستوں کے سامنے اس بات کا کھلے عام اظہار کیا تھا کہ چالیس سیٹوں پر شدید دھاندلی ہوئی ہے اور اپوزیشن سے رابطہ بھی ہوا تھا کہ ان چالیس سیٹوں پر اگر آپ چاہے تو ہم دوبارہ انتخابات کرسکتے ہیں لیکن اپوزیشن میں موجود تمام پارٹیاں ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں تھیں۔ 

ہمارے ملک کی بدقسمتی ملاحظہ ہو حکومت اور اپوزیشن دونوں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ کسی طرح ایک ساتھ بیٹھ کر اس نئے ملک کو جو چند سال پہلے سقوط ڈھاکہ جیسے سانحے کا سامنا کرچکا تھا ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ 

بھٹو اپنی اناءکے سامنے مجبور تھا اور اپوزیشن میں موجود رہنماو¿ں کی یہ شدید خواہش تھی کہ کسی طرح بادشاہی کی ہماءان کے سروں پر بیٹھ جائے بہرحال انتخابات کے فوراً بعد ہی احتجاج شروع ہوا۔ 

ہماری ہر حال میں یہ خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان سے تمام مسائل کا خاتمہ ہواور اس وقت بھی عام آدمی یہی چاہتا تھا کہ ملک میں حکومت کے حصول کے لئے برسوں سے جاری یہ رسّہ کشی ختم ہوجائے۔ عام آدمی کو اس وقت یہ خبر تھی اور نہ اب ہے کہ ہمیشہ اس کے ذہن کے کمزور حصے ہی کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ خاص لوگ اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ تاریخ کے ان صفحات پر صرف خون کے دھبے اور ذاتی مفادات کا حصول ہی موجود ہے۔ 

احتجاج کرنے والوں پر حد سے زیادہ ظلم کیا گیا۔ ملک میں انارکی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ املاک کا نقصان ہوا لیکن غیر سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی ایک دوسرے کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ بعد کے حالات دنیا نے پھر دیکھے جن لوگوں نے 1977 ءکے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا اور تحریک نظام مصطفیٰ کے نام سے تحریک چلائی وہ بار بار حکومتوں میں آئے اور اگر وہ چاہتے تو قلم کی ایک جنبش سے اس نظام کے نفاذ کو ممکن بناسکتے تھے لیکن چونکہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا اس لئے اس نظام کے سنجیدہ نفاذ پر سوچ بچار نہیں کی گئی۔ 

اس وقت یہ خیال عام آدمی کے ذہن پر بھی حاوی ہوچکا تھا کہ صرف بھٹو کو منظر عام سے ہٹانا ہی تمام مسائل کا حل ہے اس لئے ان کو ہٹا دیا گیا ۔

ہم آج کے حالات پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کے اب بھی تیار نہیں ۔ موجودہ حکومت سے عام آدمی کے بھی شدید اختلافات ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ حکومت ڈیلیور نہیں کرپارہی۔ اس حکومت کو بھی ملک چلانے کے لئے شائد اہل لوگ نہیں ملے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پوری آبادی شدید پریشان ہے لیکن کیا ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ اس حکومت کو ہی چلتا کیا جائے۔ اپوزیشن میں موجود تمام رہنماءایک بار پھر بیٹھک کر رہے ہیں کہ عام آدمی کے مسائل حل ہوجائیں لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ کسی کو بھی یہ فکر نہیں کہ حقیقی طور پر ان مسائل کا حل ڈھونڈا جائے۔ 

ہمارا بنیادی المیہ یہ رہا ہے کہ ہماری تاریخ میں موجود ہر سیاسی پارٹی کا اپنا ایک سیاسی نعرہ ہے جس کو وہ بوقت ضرورت استعمال کرتے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ اور میری اپنی یہ سوچ ہے کہ حقیقت میں یہ لوگ خود بھی نہیں چاہتے کہ جن نظریات کے لئے یہ لوگ برسوں سے لڑ رہے ہیں ان کا نفاذ ہو۔ 

جس مرحومہ بے نظیر بھٹو پر گستاخ رسول کا الزام لگا تھا اسی بے نظیر بھٹو کے ساتھ بعد میں الزام لگانے والے خود حکومت میں بیٹھ گئے تھے۔ میں سمجھتا ہوں عام آدمی کو ورغلانے کا یہ کام اب ختم ہونا چاہیئے۔ ملک کے حقیقی مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ غورو فکر کرنے کی جتنی شدید ضرورت اب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ اب یہ بات کہ موجودہ حکومت ہی کو ختم کرنا چاہیئے وہی تاریخ دہرانے کا عمل ہے جس سے ہم چھٹکارا پانے میں ناکام ہیں۔ 

ملک کے مسائل پر حکومت کو بھی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اگر حکومت کام نہیں کرے گی تو انارکی کی یہ آگ دن بہ دن گرم ہوتی جائے گی جس سے خود کو بچانا کسی کے لئے بھی آسان نہیں ہوگا۔ 


ای پیپر