جنسی درندوں کاعلاج مگرکیسے۔۔؟
24 ستمبر 2020 (09:01) 2020-09-24

بادشاہ تو ہم میں سے بہت بنے مگرافسوس کمہارکوئی نہیں بنا۔وہ کمہارتوآپ کویادہوگاجس نے گدھوں کوسیدھارکھنے کارازبادشاہ کوبتایاتھا۔یہ ذکرہم پہلے بھی کسی کالم میں کرچکے ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے گدھوں کوقطارمیں چلتے دیکھاتوکمہارسے پوچھا،تم انہیں کس طرح سیدھارکھتے ہو۔؟کمہارنے جواب دیاکہ ،جوبھی گدھالائن توڑتاہے،میں اسے سزادیتاہوں،بس اسی خوف سے یہ سب سیدھاچلتے ہیں۔بادشاہ نے کہا،کیاتم میرے ملک میں امن قائم کرسکتے ہو۔؟کمہارنے حامی بھرلی،بادشاہ نے اسے منصب عطاءکردیا۔پہلے ہی دن کمہارکے سامنے ایک چوری کامقدمہ لایاگیا۔کمہارنے فیصلہ سنایاکہ،چورکے ہاتھ کاٹ دو،جلادنے وزیرکی طرف دیکھااورکمہارکے کان میں بولاکہ،جناب یہ وزیرصاحب کاخاص آدمی ہے۔کمہارنے دوبارہ کہاکہ ،چورکے ہاتھ کاٹ دو۔اس کے بعدخودوزیرصاحب کمہارکے قریب ہوئے اورکان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہاکہ جناب تھوڑاخیال کریں۔یہ اپناخاص بندہ ہے۔وزیرکی یہ بات سنتے ہی کمہاربولا۔چورکے ہاتھ اوروزیرکی زبان کاٹ دی جائے۔کہتے ہیں کمہارکے اس ایک فیصلے کے بعدپھرپورے ملک میں امن قائم ہوا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف سے لیکرموجودہ وزیراعظم عمران خان تک بادشاہ،خان اورنواب ٹائپ کے حکمران توہمیں بہت ملے لیکن اس کمہارکی طرح گدھوں کوسیدھاکرنے والاکمہاریاحکمران ہمیں کوئی نہیں ملا۔ہمیں اگران حکمرانوں میںکوئی ایک بھی حکمران اس کمہارکی طرح گدھوں کوسیدھاکرنے والاملتاتوآج اس ملک میں انسانی گدھوں کی نہ اتنی کثرت ہوتی اورنہ ہی یہ اس طرح ظلم ،بربریت اوردرندگی کامظاہرہ کرکے لائنوں پرلائنیں توڑتے۔موٹروے پرمعصوم بچوں کے سامنے خاتون کی آبروریزی یہ اس ملک میں نہ کوئی پہلاواقعہ ہے اورنہ ہی کوئی آخری۔برسوں سے اس ملک میں نہ صرف ہماری ماﺅں،بہنوں اوربیٹیوں کی عزتیں تارتارہورہی ہیں بلکہ ہمارے وہ معصوم اورپھول جیسے بچے وبچیاں جن کودیکھ کرشیطان بھی حیاکرتاہوگا کوبھی اس ملک کی گلیوں اورمحلوں میں جنسی ہوس اوردرندگی کانشانہ بناکرروزقیامت پرایک نئی قیامت برپاکی جارہی ہے۔اب تواس ملک میں شائد ایساکوئی علاقہ اورچپہ بچانہیں جہاں ماﺅں،بہنوں اوربیٹیوں کی عزت اورعصمت سے کھیلانہ گیاہو۔روزہماری کوئی ماں،کوئی بہن 

اورکوئی بیٹی ان درندوں اورشیطانوں کی شیطانیت اورخباثت کانشانہ بن کرعمربھرکے لئے زندہ درگورہوجاتی ہے۔یہ درندے جنگلی بھیڑیوں، آوارہ کتوں اورچالاک لومڑیوں کی طرح روزانہ ہمارے اس آنگن اورچمن سے ہمارے پھول جیسے بچوں وبچیوں کواپنے منحوس پنجوں میں اٹھاکرلے جاتے ہیں اورہم پھر ان کی ہڈیاں اور بوٹیاں ہی تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ قصور، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام اور راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں اور علاقوں سے اب تک ہم نے درندگی کانشانہ بننے والے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں پھولوں کی نعشیں اٹھائیں۔۔گندگی کے ہر ڈھیراورخالی پلاٹوں سے ہم نے فرشتوں جیسے اپنے ان معصوموں کے خون آلودکپڑے،جوتے اور کھلونے اٹھائے۔ یہ درندے ماﺅں کی گودسے جومعصوم فرشتے غائب کرگئے انہیں جنگلوں اوربیابانوں سے لیکرشہرکے سبزہ زاروں تک ہم نے پھر کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔؟ ان ظالموں اوردرندوں سے ہمارے بچے محفوظ رہے نہ ہی ہماری بچیاں ان کے شر اور ظلم سے بچیں۔ ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کے دامن کوداغدارکرنے کے ساتھ ان ظالموں نے ماﺅں کی گودکوبھی سلامت نہیں چھوڑا۔ درجنوں نہیں بلکہ ہماری سینکڑوں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں فرشتہ، کلثوم، زینب، رباب، ہاجرہ، ارسلان، عرفان، وقار، راشد اور اسد پکار کر ننگے پاﺅںاپنے پھول اورلخت جگرڈھونڈتی رہیں مگریہ درندے مرغیوں کی طرح انہیں ذبح اورلکڑیوں کی طرح جلاکرایسے غائب کرگئے کہ جیسے فرشتہ،کلثوم،زینب،رباب اورہاجرہ جیسے پھول اس دنیا میں پیدا ہی نہ ہوئے ہوں۔ موٹروے پرمعصوم بچوں کے سامنے ماں کی عصمت دری یہ اگرظلم،بربریت اور درندگی کا کوئی پہلایاآخری واقعہ ہوتا تو شائدکہ ہم اسے بھول جاتے مگر ہماری کتابیں، کاپیاں، دل ودماغ تو ایسے خوفناک، اندوہناک اور افسوسناک واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ظلم کی یہ داستانیں اورکہانیاں لکھتے لکھتے ہمارے ہاتھ تھک چکے۔۔۔ اپنی ماﺅں، بہنوں اوربیٹیوں کوبے آبرواوربے توقیردیکھ کرکلیجے دردوغم سے ہمارے پھٹ چکے۔۔ اپنے معصوم اور پھول جیسے بچوں وبچیوں کی خون آلوداورتشددزدہ نعشوں ولاشوں پرآنسوبہاتے بہاتے آنکھیں ہماری خشک ہوچکی ہیں۔ درندوں کی درندگی اورظلم کی بھینٹ چڑھنے والے بچوں اوربچیوں کے جنازے اٹھا اٹھاکر کندھے ہمارے بے جان ہوچکے ہیں۔واللہ ۔اب مزیدہم میں نہ کسی پھول کے جنازے کواٹھانے کی طاقت اورسکت ہے اورنہ ہی کسی ماں،بہن اوربیٹی کی داﺅپرلگی چادر اٹھانے کی کوئی ہمت۔واللہ۔دل ہمارے ریزہ ریزہ۔۔ اور۔۔ بدن۔۔ سر سے پاﺅں تک زخموں سے چور چور ہےں۔۔ ہم قصورکی زینب ، اسلام آبادکی فرشتہ، پشاور کی پلوشہ، حویلیاں کی فریال ودیگردرندگی تلے روندے گئے پھولوں کوبھولے ہیں نہ ہی بٹگرام کے عاطف وعدنان اورنہ ہی ہریپورکے عمرہمارے دل ودماغ سے ایک لمحے کے لئے بھی کبھی نکلے ہیں۔ایسے میں معصوم بچوں کے سامنے ظلم اوربربریت کانشانہ بننے والی اس بدقسمت ماں کوہم کیسے بھول پائیں گے۔۔؟ ہمارے بادشاہوں جیسے حکمران توشائدکچھ دن پرجوش تقریریں کرنے اوربیانات جاری کرنے کے بعدماضی کی طرح اس واقعہ کوبھی اقتدارکی غلام گردشوں میں ہمیشہ کے لئے بھول جائیں لیکن اس ملک کے عوام کے لئے اس واقعے کو بھولنا ہرگزممکن نہیں۔کیونکہ ماں،بہن اوربیٹی ہرگھرمیں ہوتی ہے اوربھلاماں،بہن یابیٹی کوبھی کوئی بھول سکتاہے۔۔؟پھرماں توماں ہوتی ہے چاہے وہ اپنی ہو یا پرائی۔ ویسے ماں تو کبھی پرائی نہیں ہوتی ہے۔ اس واقعہ پرپوری قوم رنجیدہ اورغمزدہ ہے۔ہم درندوں کے ساتھ یہ کرلیں گے وہ کرلیں گے۔اس قسم کے ڈائیلاگ ہم پچھلے کافی عرصے سے سن رہے ہیں۔ہمارے ان بادشاہ حکمرانوں نے جنسی بھیڑیوں اوردرندوں کے ساتھ اب تک جوکچھ کیاوہ نہ صرف قوم بلکہ پوری دنیاکے سامنے ہے۔ہمارے حکمران اگراس کمہارکی طرح کسی ایک درندے کی گردن اڑااوران کی ترجمانی کرنے والے کسی ایک شیطان کی زبان کاٹ دیتے توآج یہ دن ہمیں کبھی دیکھنانہ پڑتا۔ملک میں جنسی درندوں اوربھیڑیوں کی اس طرح دیدہ دلیری کودیکھ کرلگتاہے کہ ہمیں نوازشریف،آصف علی زرداری اورعمران خان کی طرح بادشاہوں کی نہیں بس اس کمہارجیسے ایک کمہارکی ضرورت ہے جو ڈنڈا لیکر ہمارے درمیان موجودان انسانی گدھوں کو سیدھا کر دیں۔ جب تک یہ گدھے سیدھانہیں ہوں گے اس وقت تک اس ملک میں نہ ہماری ماﺅں،بہنوں اوربیٹیوں کی عزتیں وعصمتیں محفوظ ہونگی اورنہ ہی گلی محلے میں کھیلنے اورگھومنے والے ہمارے بچے وبچیاں ان درندوں سے محفوظ رہیں گی۔ملک کوان جنسی بھیڑیوں سے پاک کرنے کے لئے ان گدھوں کوسیدھاکرناضروری ہے اوران گدھوں کو ہمارے حکمرانوں کی طرح کوئی بادشاہ نہیںبلکہ کوئی کمہارہی سیدھاکرسکتاہے۔اس لئے ہمیں بادشاہ نہیں کوئی ایساکمہارچاہیئے جوان گدھوں سے ہمیشہ کے لئے ہماری جان چھڑادے ۔


ای پیپر