دنیا کے مستقبل کو صرف پانچ ممالک کے ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتا:ترک صدر
24 ستمبر 2019 (23:28) 2019-09-24

نیویارک : ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا۔ ترکی نے ہر معاملے میں خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام و خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود 80 لاکھ افراد مقبوضہ کشمیر میں محصور ہیں، محفوظ مستقبل کیلئے مسئلہ کشمیر کا جنگ کے بجائے مذاکرات سے حل لازمی ہوگیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو انصاف اور سچائی کی بنیاد پر مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قرادادوں کے باوجود کشمیر اور کشمیریوں کا محاصرہ جاری ہے اور 80 لاکھ افراد بدقسمتی سے آج بھی اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے۔

صدر طیب اردوان نے کہا کہ کشمیریوں، پاکستانیوں اور بھارتیوں کی سلامتی کے لیے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو عالمی سطح پر ناانصافی کا سامنا ہے جس کے سبب دنیا میں قوت اور اقتدار حاصل کرنے کی رسہ کشی شرو ع ہو جاتی ہے۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ دنیا کے مستقبل کو صرف پانچ ممالک کے ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتا، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے ذہنوں اور اپنے قواعد کو بدلیں۔

انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں پر سب کے لیے پابندی ہونی چاہیے یا پھر سب کو تیار کرنی کی اجازت ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شام، کشمیر، فلسطین، نسل پرستی، اسلام فوبیا اور پناہ گزینوں جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔قبل ازیںامریکا میں مسلم کمیونٹی اور ترک شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اروان کا کہنا تھا کہ ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنا والا بے زبان شیطان کی طرح ہے، ترکی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر کوئی خاموش ہو تو ہم آواز بلند کریں گے، ترکی آج بھی اپنا تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے ملکی شناخت کی تمیز کیے بغیر مظلوم کے ساتھ ہے، دنیا بھر میں آج ترکی سب سے زیادہ مظلوموں کی مدد کرنے والا ملک کہلاتا ہے۔رجب طیب کا کہنا تھاکہ ہمارے اور ملک کے دروازے ہر مظلوم کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر کے درمیان سلامتی کونسل کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمران خان نے ترک صدر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور مودی حکومت کے اقدامات سے وہاں جنم لینے والے انسانی المیے پر تفصیلی آگاہ کیا اور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔


ای پیپر