یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کٹوتی۔۔۔بے حسی کی انتہاءیا حکومتی مجبوری ؟
24 ستمبر 2019 (21:35) 2019-09-24

ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ تعلیم کے بغیرترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا

ہمایوں سلیم :

وفاقی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے جامعات کی فنڈنگ میں کٹوتی کر دی جس کی وجہ سے ملک بھر کی 200 جامعات شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔200 جامعات کو سالانہ 103 ارب روپے فراہم کیے جانے تھے لیکن وفاقی حکومت نے گرانٹ میں کمی کرتے ہوئے ملک بھر کی جامعات کے لیے بجٹ میں کمی کر دی ہے۔کیا یہ ہی ہے تبدیلی؟ اگر ایسا ہی کرنا تھا تو کسی اور بجٹ میں کٹوتی کر دی جاتی، کسی اور لگژری آئیٹم پر ٹیکس بڑھا دیا جاتا مگر تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی سراسر زیادتی ہے، اور چونکہ پہلے ہی ریسرچ میں ہماری کارکردگی دنیا کے سامنے صفر ہے اس لیے شاید ہم نے آج تک پہلی سیڑھی چڑھنے کے بارے میں بھی نہیں سوچا ۔

خیر ایک وقت آئے گا جب (خاکم بدہن ) پاکستان دنیا کا ناخواندہ ترین ملک بن جائے گا؟ جانتے ہیں ایسا کب ہو گا؟ ایسا اُس وقت ہو گا جب پاکستان میں شرح خواندگی 5 فیصد تک مزید کم ہو جائے گی اور ایسا ہونا ”ناممکن“ بھی نہیں ہے کیوں کہ جس انداز میں حکومتی پالیسیاں سابقہ حکومتوں کی طرح جاری ہیں وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کا ناخواندہ ترین ملک ہو گا، تب یہاں کرنے کو کچھ نہیں ہو گا! دنیا اس ملک کے ساتھ افریقہ کے پسماندہ ممالک کی طرح سلوک کرے گی، ہم 20 سال پرانی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہوں گے اور دنیا مریخ پر بھی پہنچ چکی ہو گی۔ ایک اُمید موجودہ حکومت سے تھی کہ وہ اس ٹیلنٹڈ قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے اس ملک پر احسان کرے گی مگر اُس نے بھی سب سے پہلے تعلیمی بجٹ پر کٹ لگا دیا ہے۔ یعنی 14ارب روپے کی کٹوتی لگا کر 43 ارب روپے تعلیم کے لیے مختص کیے گئے ہےں۔ لیکن پچھلے مالی سال 2018-19ءمیں وفاق کی سطح پر یہ بجٹ 57 ارب روپے رکھا گیا تھا۔ اس لیے اب سمجھ سے باہر ہے کہ تعلیم ہی کے ساتھ ہر آنے والی حکومت کھلواڑ کیوں کرتی ہے؟ حالانکہ تحریک انصاف کو اگر اُن کا منشور یاد کروایا جائے کہ عمران خان نے الیکشن سے قبل جہاں کئی وعدے کیے تھے وہیں یہ کہا تھا کہ تعلیم کیلئے قومی بجٹ کا 20 فیصد مختص کیا جائیگا۔

اس کے علاوہ عوام کو یاد ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں جب 22 نکاتی تعلیمی منشور کا اعلان کر کے خوب واہ واہ سمیٹی تھی مثلاََ انہوں نے اپنے منشور میں لکھا تھا کہ پاکستان میں دو کروڑ بیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں جنہیں سکولوں میں لانا اوّلین ترجیح ہو گی....ہیومین کیپٹل ڈویلپمنٹ کے لیے قومی وزارت یا کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کا کام تعلیم کے مختلف شعبوں میں ملکی اور غیر ملکی افرادی قوت کی کمی یا زیادتی اور ضروریات کا جائزہ لینا ہوگا.... تعلیمی معیار کے لیے قومی کمیشن بنایا جائے گا جو 6 ماہ کے اندر کم از کم معیارات کی نظر ثانی شدہ فہرست جاری کرے گا .... تعلیمی میدان میں بہتری کے لیے ترقی پذیر دنیا کا سب سے بڑا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبہ شروع کیا جائے گا.... دور دراز علاقوں میں تعلیم تک رسائی کے لیے نوجوان کاروباری طبقے کے لئے ایجوکیشن فنڈ قائم کیا جائے گا جس کا مقصد ٹیکنالوجی اور کیمونیکیشن پر مبنی سلوشنز تیار کرنا ہو گا.... ملک کے جن علاقوں میں شرح خواندگی زیادہ ہے، وہاں ہر سال لڑکیوں کے سکولوں کو سیکنڈری کی سطح پر اپ گریڈ کیا جائے گا اور سیکنڈری طلباءکے لیے ملک بھر میں ریڈیو، ٹیلی ویژن، اور آن لائن سیلف سرفنگ پروگرام شروع کیے جائیں گے.... تعلیم میں راہ میں حائل رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے سکول جانے والی طالبات کو وظیفہ دیا جائے گا....نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی جو امتحانی بورڈ بنائے گی پھر یکساں مرکزی امتحانی سکیم تشکیل دی جائے گی....کم از کم 10 تکنیکی یونیورسٹیاں قائم کریں گے....وغیرہ وغیرہ۔

حد ہے بھئی کہ اگر ان پراجیکٹس کو بجٹ میں ڈسکس ہی نہیں کرنا تھا تو عوام کو تعلیمی لالی پاپ کیوں دیا گیا؟ ہم تحریک انصاف کی ”تبدیلی“ کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں کہ ان چوروں لٹیرے حکمرانوں سے جان چھوٹ جائے جو گزشتہ 35 سال سے اس ملک کو دونوں ہاتھوں لوٹتے رہے لیکن تعلیم و صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے۔ چونکہ یہ ملک لوٹنے والوں کا سب سے بڑا طریقہ واردات رہا ہے کہ عوام کو ناخواندہ رہنے دیا جائے تاکہ وہ کسی معاملے پر فہم و فراست سے کام نہ لے سکیں۔ کسی معاملے پر اُن کی اپنی سوچ نہ ہو، غلامانہ سوچ کی محتاج رہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام بزدل رہےں .... لیکن تحریک انصاف کب سے ان روایتی سیاستدانوں کی ڈگر پر چل پڑی ہے کہ تعلیمی وہیلتھ بجٹ پر کٹ لگانا شروع کر دیے ہیں.... وہ باتیں کہاں گئیں جو تعلیمی بجٹ کو 20 فیصد تک بڑھانے کے لیے کی جاتی تھیں؟ اگر محض باتیں ہی کرنا تھیں تو عوام کو ”تبدیلی“ کا خواب ہی کیوں دکھایا گیا۔ جب سے حکومت آئی ہے تب سے لے کر آج تک ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے یونیورسٹیوں کے چھ بڑے پراجیکٹس بند کر دیے ہیں۔ ان پراجیکٹس میں نوجوان فیکلٹی پر پی ایچ ڈی کرنے پر پاپندی بھی شامل ہے۔

حالانکہ چند ماہ قبل شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں تعلیم پر سب سے کم سرمایہ خرچ کرنے والا ملک ہے۔پاکستان تعلیم پرجی ڈی پی کا 2.14 فیصد خرچ کرتا ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔ مسئلہ صرف بجٹ کا ہی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ جو پیسہ مختص کیا جاتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں اور کرپشن میں چلا جاتا رہا ۔ حالانکہ امریکا میں تعلیمی بجٹ 17فیصد ، برطانیہ میں 14.5فیصد، جاپان میں 13فیصد اور بھارت جیسے غریب ملک میں 3.7 فیصد رکھا جاتا ہے اور حیرت کی بات ہے کہ امریکا کی ایک یونیورسٹی کا تعلیمی بجٹ پاکستان کے کل تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔ آپ امریکا کی مثال لے لیں ، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس وقت دنیا کی ٹاپ ٹین یونیورسٹیوں میں سے 8 یونیورسٹیاں امریکا کی ہےں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 2003ءسے2008ءکے دور کو اعلیٰ تعلیم کا سنہری دور کہا گیا تھا۔ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں۔ لیکن آج ہم دنیا میں 135ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

سمجھ اس بات کی نہیں آرہی کہ کیا بجٹ بنانے کا مکمل اختیار وزیر اعظم نے چند بڑوں کو دے دیا ہے؟ اور ساتھ فری ہینڈ بھی دے دیا ہے؟ یا وزیر اعظم نے خود چیک اینڈ بیلنس کا نظام ختم کر دیا ہے.... ورنہ انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے نمل یونیورسٹی جیسے ادارے کا قیام عمل میں لا کر مثال قائم کی ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ میں ہمیشہ ساتھ رہیںگے۔ لیکن یہ کیا ہے؟ آپ یقین مانیں میں نے تحریک انصاف کی کے پی کے میں حکومت کے گزشتہ پانچ سالہ دور کا جائزہ لیں تو یقین مانیں اعداد و شمار دیکھ کر بندہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پہلے سال (2013ء) میں تعلیم ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس نے تعلیم کے شعبے کے لیے منصوبہ 2015-20ءبھی تیار کیا تھا۔ تاہم آبادی کے تناسب سے سکولوں کی کم تعداد، خدمات اور سہولتوں کی فراہمی میں صنفی اور علاقائی عدم توازن اور سرکاری سکولوں کی نجی سکولوں کے مقابلے میں فروتر کارکردگی جیسے مسئلے اب بھی توجہ اور مزید وسائل کے منتظر ہیں۔

ہم اکثر جنگ بدر کے حوالے سے پڑھتے ہیں ، جنگ بدر کے جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں کسے علم نہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔”تو آپ معاف فرماتے رہئے ان کو اور درگزر فرمایئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو۔“حضور نے اسیران بدر کو صحابہ ؓ میں تقسیم کر کے انہیں آرام سے رکھنے کا حکم دیا۔ صحابہ کرام ؓ نے اپنے محبوب کے فرمان پر اس حد تک عمل کیا کہ خود کھجوریں اور سوکھی روٹی کھا کر قیدیوں کو کھانا کھلایا۔ یہ قیدی صحابہ ؓکے حسن سلوک سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان میں بہت سے مشرف بہ اسلام ہوئے جن میں عباس بن عبد المطلب ؓاور عقیل بن ابو طالب ؓ وغیرہ شامل تھے۔ ان قیدیوں کے بارے میں حضور نے صحابہ کرام ؓ سے مشورہ طلب فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا۔ آپ نے ابوبکر ؓ سے اتفاق کرتے ہوئے اسیرانِ جنگ سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ جوقیدی غریبی کی وجہ سے فدیہ نہیں دے سکے اور وہ پڑھے لکھے تھے، تو آپ نے دس دس صحابہ ؓکو پڑھانے کے عوض رہا کرنے کا حکم فرمایا۔ مسلمان تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں۔ حالانکہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ کافر تھے اور اسلام کی تعلیمات سے بالکل نابلد تھے ، پھر بھی آپ نے دنیاوی تعلیم کا احساس کرتے ہوئے صحابہ ؓکو دنیاوی تعلیم سے بھی روشناس کروایا تاکہ وہ زندگی کے کسی عمل میں پیچھے نہ رہ جائےں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا جس میں آداب نہیں اس میں دین نہیں۔

خیر آپ مانیں یا نہ مانیں یہ پاکستان کے خلاف سب سے بڑی سازش ہو رہی کہ یہاں کہ عوام کو ایجوکیٹ ہونے سے روکا جائے اور یہ سازش کون کر رہا ہے؟ اس حوالے سے عمران خان کو پتہ لگانا ہوگا۔ کیا بیرونی قوتیں اس کار خیر میں حصہ دار ہیں؟ یا یہ سازشیں پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہیں،کیا اس کام میں ہمارے اپنے لوگ ملوث ہیں؟ جو ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک کے عوام پڑھ لکھ جائیں،میرے خیال میں عمران خان کو اندھیرے میں رکھ کر سازش کی جا رہی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے کیوں کہ ہر چیز پر کمپرومائز ہو سکتا ہے تعلیم پر نہیں! اس لیے تعلیمی بجٹ پر کٹوتی لگانے کے فیصلے کو واپس کیا جائے اور اسے فی الوقت اسمبلی سے منظور نہ ہونے دیا جائے تاکہ موجودہ حکومت اور خاص طور پر عمران خان عوام کے سامنے تعلیم کا فروغ کرکے ، تعلیم میں بہتری لا کر عوام میں سرخروہ ہوسکیں!اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو(آمین)!


ای پیپر