ڈپلومیسی سے بھارت کے ناپاک عزائم ناکام بنانے والی شخصیت
24 ستمبر 2019 (21:27) 2019-09-24

الطاف حسن قریشی کی کتاب ”ملاقاتیں کیا کیا! .... اہم شخصیات کے جیتے جاگتے انٹرویوز“ سے اقتباس

جنرل ضیاءالحق کو میں جب علما و فضلا کے درمیان بیٹھے اور حرمِ کعبہ میںان کی خشوع و خضوع والی کیفیات دیکھتا، تب ذہن میں سوال پیدا ہوتا کہ انہوں نے اس قدر سنگ دلی سے بھٹو صاحب کو کیسے پھانسی پر لٹکا دیا۔ جب میں نے گہرائی سے تجزیہ کیا، تب محسوس ہوا کہ ان کی شخصیت دو حصوں میں تقسیم تھی۔ شخصیت کا ایک پہلو وہ تھا جو اقتدار کے تحفظ اور استحکام سے تعلق رکھتا تھا ۔ دوسرا وہ جس میں اسلامی نظام کو نافذ کرنے اور فوج اور معاشرے کے سدھار کی تڑپ پائی جاتی تھی۔ اقتدار کو بچانے کے لیے انہوں نے مسٹر بھٹو کو تختہ¿ دار پر لٹکا اور پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لیے تمام ظالمانہ حربے استعمال کیے۔ 1984ءمیں مضحکہ خیز ریفرنڈم کا ڈرامہ رچایا، 1985ءمیں غیر جماعتی انتخابات کروائے، دستور کا تیا پانچہ کیا، طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی۔ ہم اُنہیں ہر غلط اقدام پر ٹوکتے رہے، مگر اقتدار کے کھیل پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ ہماری تاریخ میں بڑے دلفگار واقعات ملتے ہیں۔ اورنگزیب عالمگیر جسے مولانا مودودی نے مجدِدین کی صف میں شامل کیا، اس نے اقتدار کی خاطر اپنے والد کو قید کیا اور بھائی کو قتل کروایا۔ بھٹو صاحب کے درد ناک انجام تک پہنچنے میں ان کا اپنا ہاتھ بھی تھا ۔ عوام کے اندر ان کی حمایت بہت کم رہ گئی تھی اور ’ پاکستان قومی اتحاد‘ کی تحریک نے ایک زبردست جذباتی فضا پیدا کر دی تھی۔ ہمیں دکھ ہے کہ بیسویں صدی کے آخری ربع میں پاکستان کے اندر سیاست دان کو پھانسی دینے کا سانحہ پیش آیا۔

ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے فروغ سے متعلق تھا۔ اس ضمن میں انہوں نے فوجی افسروں کو قرآن ، حدیث، سیرت اور اسلامی تاریخ پر اچھی کتابیں فراہم کرنے کا ایک مستقل بدو بست کیا۔ اس انتظام کے تحت ہماری فوج اپنی تاریخ و تہذیت اور اسلامی روایات سے متعارف ہوئی۔ یہی باشعور فوج آج مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نبرد آزما ہے اور بے مثال قربانیاں دے رہی ہے۔ فوجی یونٹوں کی مسجدوں میں تعلیم یافتہ خطیب مقرر کرنے کے بہت فائدے بھی ہوئے مگر ’زاویے‘ بھی قائم ہوئے جن میں حکومت پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھے گئے۔ جنرل عبد الوحید کا کڑ فوجی بغاوت سے بال بال بچے تھے۔ جہادِ افغانستان نے سوویت یونین کو افغانستان سے پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ مختلف مسلم ملکوں اور پاکستان سے مجاہدین افغانستان گئے اور اپنے افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ سوویت یونین کے بارے میں دفاعی تجزیہ نگار بتاتے تھے کہ وہ جس ملک میں داخل ہوا، وہاں سے آگے ہی گیا اور کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ اس اعتبار سے پاکستان براہ راست خطرے کی زد میں تھا اور اس نے دنیا کے ’آزاد ملک‘ کی سیاسی اور مالی اعانت سے ’سرخ ریچھ‘ کو واپس جانے پر مجبور کیا۔ میں جنرل ضیاءالحق کی اس بریفنگ میں شامل تھا جس میںان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ان کی آواز ابھرا گئی تھی، کیونکہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو معاہدہ¿ جنیوا کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ان کی رائے کے برعکس جنرل ضیاءالحق کا استدلال یہ تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے نکلنے سے پہلے روس اور امریکہ کے مابین ایک وسیع البنیاد حکومت کے قیام کا معاہدہ ازبس ضروری ہے، ورنہ وہاں برسوں خون بہتا رہے گا۔ انہوں نے دل گرفتہ لہجے میں کہا اگر ہم یہ مقصد حاصل نہ کر سکے تو یہی کیا جائے گا کہ کوئلے کی دلالی میں ہم اپنا منہ کالا کرتے رہے ہیں۔

ان کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔ افغانستان خون میں نہاتا اور پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہا۔ اس دوران کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ ان کے زمانے میں نو جوان مجاہدین ریاست کی ایما پر افغانستان میں جاتے اور ایک نظم کے پابند رہتے تھے۔ ان کے بعد غیر ریاستی عناصر منظر پر حاوی ہوتے گئے۔ جنرل ضیاءالحق نے ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت کے نا پاک عزائم خاک میں ملا دیے۔ ایک بار 1984 ءمیں اندرا گاندھی نے پاکستان پر چڑھائی کا منصوبہ تیار کیا۔ وہ حملے کا حکم دینے ہی والی تھیں کہ اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ اس کے بعد 1986ءمیں بھارت اپنی فوجیں پاکستان کی سرحدوں پر لے آیا۔ مجھے یاد ہے کہ 1987ءمیں سارک سربراہ کانفرنس ڈھاکا میں ہوئی۔ میں بھی اس کانفرنس میں شریک ہوا۔ ہم صحافی ڈھاکا سے کالمبو (سری لنکا) آئے اور وہاں تین روز ٹھہرے۔ ان دنوں یہ ملک پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ جنرل صاحب مالدیپ ہوتے ہوئے واپس کالمبو آئے اور وہاں سے نئی دہلی گئے جہاں ایک عظیم الشان تقریب میں راجیو گاندھی نے صدر پاکستان کا خیر مقدم کیا۔ ہم نے دیکھا کہ ایک گھنٹے کی نشست میں وہ اپنی دانائی اور مستقبل بینی سے پورے منظر پر اس انداز سے حاوی ہو گئے کہ وہ گرو اور راجیو گاندھی ان کا چیلہ نظر آنے لگا۔ ایک معاہدے پر دستخط ہوئے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ یہ بھی عہد کیا گیا کہ ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کریں گے۔ اس آن پاکستان ایک بلند مقام پر کھڑا تھا جبکہ بھارتی قیادت پر ہیبت طاری تھی۔

جنرل ضیاءالحق اسلامی قدروں کا نفوذ چاہتے تھے، مگر انہیں مناسب ٹیم دستیاب نہیں ہوئی، کیونکہ ان کا زیادہ تر انحصار سول اور ملٹری بیورو کریسی پر تھا جس کے مزاج اور عادات میں ایک جوہری تبدیلی لانا کوئی سہل کام نہیں تھا۔ انہوں نے پیہم کوششوں سے او آئی سی میں ایک مدبر حکمران کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ وہ جگرِ لخت لخت جمع کرنے اور مسلم بلاک میں جان ڈالنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ اسرائیل کو تسلیم کر لینے پر جب مصر او آئی سی سے خارج کر دیا گیا، تب جنرل ضیاءالحق کی درد میں ڈوبی ہوئی تقریر نے منظر نامہ یکسر بدل ڈالا اور مصر دوبارہ مسلمانوں کی اس تنظیم میں واپس آ گیا۔ پھر جنرل ضیاءالحق کو یہ منفرد اعزاز ملا کہ انہوں نے پورے عالمِ اسلام کی طرف سے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور ان کی تقریر سے پہلے قرآن کی تلاوت ہوئی جو عالمی تاریخ میں ایک منفرد واقعہ تھا۔ وہ ایران عراق جنگ بند کروانے کے لیے سات آٹھ سال کوشاں رہے۔ عالم اسلام کے ممتاز علما اور اہل دانش کے ساتھ ان کے ذاتی روابط قائم ہو گئے تھے۔

داخلی سطح پر جنرل ضیاءالحق کو جنیوا معاہدہ ہو جانے کا بہت قلق تھا اور اس ہیجانی کیفیت میں انہوں نے جناب محمد خان جونیجو کی حکومت برطرف کی۔ وہ ایک ہفتہ پہلے مجھے اس کا اشارہ دے چکے تھے۔ میں نے اس اقدام سے پیدا ہونے والے نتائج کے بارے میںکھل کر بات کی۔ اپنے ہی تراشیدہ وزیر اعظم کی بر طرفی سے ان کی طاقت میںبہت بڑا شگاف پڑ گیا اور وہ اپنے آپ کو بے دست و پا محسوس کرنے لگے۔ راقم الحروف اور مجیب الرحمن شامی نے ایک رات انہیں جناب مصطفی صادق اور عزیزم حسین حقانی کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔ مصطفی صادق وزیر مملکت بنا لیے گئے، تاہم جناب زیڈ اے سلہری کی مخالفت پر حسین حقانی اس منصب سے محروم رہے۔ جنرل ضیاءالحق 7 اگست 1988 ءکی صبح کوٹ لکھپت فلائی اوور کا افتتاح کرنے لاہور آئے، تو غیر معمولی سخت حفاظتی انتظامات سے دم گھٹنے لگا۔

یہ 20 جون 1988ءکی ایک چمکیلی دوپہر تھی جب مجیب الرحمن شامی، سید فضل اور سراج منیر ظہرانے پر میرے ہاں علامہ اقبال ٹاﺅن میں جمع ہوئے۔ سید فضل زائچے سے پیش گوئی کا عمل جانتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا آپ کو پاکستان اور فوج کے حالات کیسے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے زائچے کا علم جناب سراج منیر سے سعودی عرب میں سیکھا تھا۔ وہ زائچے بناتے اور کاغذ پھاڑتے رہے۔ میں نے پوچھا ماجرا کیا ہے ؟ کہنے لگے مجھے 17 اگست کے بعد کچھ جرنیل نظر نہیں آ رہے۔ میں نے سوال کیا: کیا فوج میں تظہیر ہونے والی ہے؟ وہ بولے مجھے تو ضیاءالحق بھی نظر نہیں آ رہے۔ ہم دونوں سناٹے میں آ گئے، مگر سراج منیر نے تکیے سے سر اٹھاتے ہوئے کہا یہ منظر نامہ آگے چل کر بدل بھی سکتا ہے۔ سید صاحب نے جواب دیا کہ جو علم آپ نے مجھے سکھایا ہے، اس کے مطابق یہی اصل تصویر بنتی ہے ۔ وہ تصویر ایسی تھی جس کا ہم کسی سے ذکر بھی نہیں سکتے تھے۔

وقت بے یقینی کی حالت میں گزرتا گیا اور 16 اگست 1988ءکو گیارہ بجے شب مجھے سید فضل کا فون آیا۔ کہنے لگے طبیعت میں بہت اضطراب ہے اور کسی پہلو نیند نہیں آ رہی، میں آپ کی طرف آنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا شوق سے آیے، مگر مجھے صبح کی فلائٹ سے اسلام آباد جانا ہے۔ کیا آپ جنرل ضیاءالحق سے ملنے جا رہے ہیں؟ انہوں نے بے تاب ہو کر پوچھا۔ میں نے بتایا کہ بریگیڈیئر صدیق سالک سے اگلی شام سہ پہر ملاقات طے ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ہم علی الصباح ملتان جائیں گے اور تین چار بجے تک واپس آجائیں گے۔ اس کے بعد فون کر کے گھر آ جانا۔ سید صاحب نے بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا آپ صدر صاحب کو کل کے سفر پر جانے سے روک سکتے ہیں؟ میں نے کہا صدر اور آرمی چیف کا دورہ کئی روز پہلے طے ہوتا ہے اور سنا ہے کہ وہ ٹینکوں کی مشق دیکھنے جا رہے ہیں۔ سید صاحب نے اصرار کیا کہ آپ انہیں روکنے کے لیے ضرور کوشش کریں۔ میں نے ملٹری ہاﺅس فون کیا۔ آپریٹر کی جانی پہچانی آواز آئی کہ جنرل صاحب کے پاس شریف الدین پیر زادہ بیٹھے ہیں۔ وہ جونہی فارغ ہوتے ہیں، کال ملا دوں گا۔ میں ڈیڑھ بجے رات تک فون کرتا رہا۔ جواب یہی ملا کہ ابھی پیر زادہ صاحب ملاقات کر رہے ہیں۔ آخری بار اس نے بتایا کہ جنرل صاحب آرام کے لیے چلے گئے ہیں اور اب کال نہیں ملائی جا سکتی۔

میں صبح کی پرواز سے اسلام آباد گیا اور بلوچستان ہاو¿س میں ٹھہرا۔ کوئی تین بجے سہ پہر اپنے عزیز دوست میجر غلام مصطفی شاہین کے ہاں چلا گیا کہ ان کا گھر پریگیڈیئر صدیق سالک کی رہائش گاہ سے قریب تھا۔ میں انہیں فون کرنے والا تھا کہ ٹیلی ویژن پر طیارے کے حادثے کی خبر نشر ہوئی۔ دل بری طرح دھڑکنے لگا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ میں نے غلام اسحاق خان سے پوچھا کہاں پر دفنانے کے انتظامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوستوں کا خیال ہے کہ جنازہ بڑا نہیں ہو گا، اس لیے انہیں فوجی قبرستان میں دفتا دیا جائے، مگر میں نے فیصل مسجد کے پہلو کا انتخاب کیا ہے۔ تین روز بعد جب نماز جنازہ ادا ہوئی، تب انسانوں کا ایک سمندر امڈا چلا آ رہا تھا۔ نمازی پانچ لاکھ سے کسی طرح کم نہ تھے۔ دور دراز علاقوں سے قافلے کشاں کشاں چلے آ رہے تھے۔ ایک گروہ انہیں راندہ¿ درگاہ سمجھ بیٹھا تھا، مگر وہ تو مرجعِ خلائق نکلے۔ انہوں نے ایک تاریخ رقم کی، پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کا نقش ثبت کیا اور یہی نقش ان کی پہچان بن گیا ہے۔


ای پیپر