نئے ممکنہ قوانین: نیب آزاد ہوگا یا پابند؟
24 ستمبر 2019 (21:15) 2019-09-24

حافظ طارق عزیز:

ایک کہاوت ہے کہ کسی علاقے سے ایک بادشاہ اور اس کے چند خواص کا گزر ہوا۔ بادشاہ سلامت کو پیاس محسوس ہوئی، اس نے پانی کا تقاضا کیا تو خواص اسے قریب ایک باغ میں لے گئے، وہاں موجود آدمی سے پانی مانگا تو اس نے پانی نہ ہونے پر باشاہ اور اس کے ساتھیوں کو پینے کے لئے جوس پیش کیا۔ وہ ایک انار نچوڑتا تو اس سے ایک گلاس بھر جاتا۔ بادشاہ اپنی پیاس بجھانے کے بعد جب دوبارہ سفر پر روانہ ہوا تو ایک وزیر نے مشورہ دیا کہ اتنے رس سے بھرپور پھلوں پر مشتمل درختوں والا باغ تو شہنشاہ کی ملکیت میں ہونا چاہئے۔ بادشاہ کو وزیر کی تجویز پسند آئی اور اس نے باغ کے مالک سے باغ لینے کا ارادہ کر لیا۔ جب وہ واپس باغ میں آئے تو ایک بار پھر جوس پینے کا مطالبہ کیا، مالی نے ایک انار نچوڑا، دو نچوڑے، تین، چار حتیٰ کہ پانچ انار نچوڑے تو ایک گلاس جوس نکلا۔ بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہوا، پہلے ایک انار نچوڑنے سے ایک گلاس بھر گیا تھا اور اب اس مقصد کے لئے پانچ اناروں کی ضرورت پڑی ہے۔ مالی کوئی عام انسان نہیں بلکہ ایک صاحب نظر بزرگ تھا، اس نے جواب دیا، ایسا لگتا ہے کہ حاکم وقت کی نیت میں فتور آ گیا ہے اس لئے انار کے پھل سے برکت اٹھ گئی ہے۔

اگر حاکم وقت کی نیت میں فتور آنے سے نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو جہاں ہیرا پھیری، وعدہ خلافی، ناجائزمنافع خوری، ملاوٹ یا پھر کمیشن خوری رسیا ”خواص“ ہوں اس معاشرے کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ کیا ہم ایسی ہی صورتحال سے دوچار نہیں رہے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے معاشرے میںبکثرت پائے جاتے ہیں، ہمارا یہ اجتماعی رویہ یک دم کسی حادثے کا شاخسانہ نہیں بلکہ ایسے رویے بننے میں برسوں لگتے ہیں، اورچونکہ جیسی حکمرانوں کی ”نسل“ آپ پر حکومت کر رہی ہو ویسا ہی رویہ رعایا میں آجائے تو اس میں حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ 35 سال سے ہمارے اوپر کرپٹ سیاستدان مسلط رہے تو ہمارا اجتماعی رویہ بھی کرپٹ ہو گیا، سرکاری ادارے چھپ چھپا کر کرپشن کرنے کے بجائے کھل کر اور اونچی آواز میں ”بولی“ میں کرپشن کرنے لگے۔ زیادہ منافع کمانے کے لالچ کی وجہ سے ہر شے جعلی بنانے کے خیالات پروان چڑھنے لگے، تاجر اور صنعتکار حکومت سے اپنا منافع چھپانے لگے، سیاستدانوں کے منہ کو کمیشن کا ”خون“ لگ گیا، اور یہ عادات رستے رستے عام عوام تک پہنچنے لگیں اور ہم ایک دوسرے کا خون چوسنے کے عادی بن گئے۔ گزشتہ 35 سال کے عالمی انڈیکس دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس انڈیکس میں 1985ءمیں ہمارانمبر180ممالک میںمحض11واں تھا۔ 1994ءمیں یہ انڈیکس 39 واں تھا اور آج یہ انڈیکس 117پر موجود ہے۔

کرپشن کا اور ہمارا تعلق پرانا ہے۔ یہ کوئی آج کی پیداوار نہیں بلکہ آج تو اس صرف اس کے القاب وغیرہ ہی بدلے ہیں، رشوت کو مٹھائی، تحفہ اور کمیشن کے نام دئے گئے ہیں۔ اس کرپشن کو دور کرنے کے لیے ہر دور میں” اقدامات“ بھی اُٹھائے گئے مگر بے سودرہے ۔ ایوب خان کے”ایبڈو“ قانون سے لے کر آج تک احتساب ہمیشہ متنازع رہا۔ نوازشریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ”احتساب کمیشن“ قائم کیا تو پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس کی کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ جنرل پرویزمشرف نے قومی احتساب بیورو ( نیب ) بنایا تو اسے سیاست دانوں کی وفاداریاں تبدیل کرانے کا آلہ کار ادارہ کہا گیا۔ لیکن اسی نیب کی بدولت کرپٹ سیاستدانوں کی کھربوں کی کرپشن عوام کے سامنے آئی۔ مگر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ کرپشن ہی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آج جب ملک کے بڑے بڑے سیاستدان اور بیوروکریٹ نیب کی بدولت پابند سلاسل ہیں تو اس کے ”پر“ کاٹنے کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ اسی حوالے سے ایک مسودہ ہاتھ لگا ، جسے پڑھ کر یوں لگا کہ یہ تو بہت بڑا NROدیے جانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یہ NROتو مشرف کے این آراو کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

اس ”این آر او“ کے مطابق نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ کاروباری برادری کو بلاوجہ خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ اسے اپوزیشن کو دبانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، کرپشن کے الزامات لگا کر لوگوں کو گرفتار پہلے کیا جاتا ہے اور ثبوت بعد میں تلاش کئے جاتے ہیں۔ نیب کی سختیوں کی وجہ سے بیورو کریسی نے کام کی رفتار سست کر دی ہے وغیرہ۔ لہٰذا نئی ترمیم کے بعد بیوروکریسی اور کاروباری طبقے کو نیب کی گرفت سے باہر کر دیا جائے گا اور سیاست دانوں کی گردن پر اس کا پاﺅں رہے گا۔ اس مسودے میں نجی شہریوں کو احتساب کے دائرہ کار سے خارج کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ نیب کے قانون میں پیش کی گئی تیسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ’ نیب قوانین کے اطلاق کی توسیع ایسے نجی شخص یا ادارے تک نہیں کی جا سکتی جس کا براہ راست یا بالواسطہ سرکاری عہدے کے حامل شخص سے کوئی تعلق نہ ہو‘۔ ترمیمی بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ٹرائل اور احتساب عدالتوں کو قبل از گرفتاری اور بعد از گرفتاری، ضمانت کی درخواستوں کے فیصلے کرنے کے اختیارات حاصل ہو سکیں گے۔ مسودے میں غبن کی رقم کی رضاکارانہ واپسی اور پلی بارگین کے تحت ملزم کی رہائی سے متعلق ترمیم بھی پیش کی گئی ہے، اس میں تجویز دی گئی ہے کہ: پلی بارگین کے ملزم کی درخواست کی منظوری وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی دے سکے گی۔ چوری شدہ رقم کی رضاکارانہ واپسی اور پلی بارگین کے لیے ہدایات جاری کی جائیں گی۔پلی بارگین اور غبن کی رقم رضاکارانہ طور پر واپس کرنے والا ملزم 10 سال یا اس سے زائد عرصے تک سرکاری عہدے یا ملازمت کے لیے نااہل ہو سکتا ہے۔ترمیمی بل کے مسودے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ 50 کروڑ روپے کی کرپشن پر بھی کارروائی کرنے کی اجازت متعارف کروائی جا سکتی ہے۔ نیب کے نئے قانون میں یہ عمل بھی زیرِغور آئے گا کہ عہدیداران کی کونسی کوتاہیاں جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ تجویز کردہ ترمیم میں کہا گیا کہ نیب کسی کام میں کوتاہی کو اس وقت تک جرم نہیں مانے گا جب تک اس حوالے سے شواہد موجود نہ ہو کہ عہدیدار نے اس کوتاہی یا فیصلے سے کسی کو مادی فائدہ پہنچایا ہے۔موجودہ قانون میں ’اختیارات کے ناجائز‘ استعمال سے متعلق سیکشن سے کے حوالے سے نیا قانون کہتا ہے کہ جرم کا ارادہ اور ایسا عمل جس سے سرکاری افسر کے اثاثوں میں غیرقانونی اور بلاجواز اضافہ ہوا ہے، عدالت کے دائرکار میں آئے گا۔ مزید برآں، عوامی عہدہ رکھنے والے ملزم کے خلاف 90 دن کے جسمانی ریمانڈ کی مدت کو 45 دن تک لایا جائے گا۔

کیا ان ترامیم کے بعد احتساب جس برق رفتاری سے جاری تھا کیا یہ جاری رہ سکے گا؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت وائٹ کالر کرائم کو پکڑنے کے لیے نیب کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی، نیب کو مزید وسائل فراہم کیے جاتے، پنجاب کے بعد دیگر جگہوں پر بھی فرانزک لیبارٹریز قائم کی جاتیں۔ لیکن ایک سال کے عرصے میں تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب کے زمرے میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر وہ فخر کر سکے۔ دنیا کے کسی بھی قانون میں کاروباری شخصیات یا ادارے احتساب سے مبرا نہیں ہوتے، امریکہ میں جب چاہے، متعلقہ ادارے فیس بک، گوگل ، مائیکروسافٹ یا کسی بھی بڑی کمپنی کے سربراہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں اور بھاری جرمانے بھی عاید کیے جاتے ہیں گزشتہ سال ہی مارک زکر برگ(بانی فیس بک) کو 11ارب ڈالر جرمانہ عاید کیا گیا ہے۔ جبکہ سام سنگ کمپنی کو ایک ارب ڈالر جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ چین میں سب سے بڑی آن لائن مارکیٹینگ کمپنی کے آنر علی بابا کو کئی بار سزا کا سامنا رہا ہے۔ امیزون کے سی ای اوز کو کئی بار عدالتی جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس میں اسے سزا بھی ہوئی ہے۔

لہٰذامقدمات میں کلاس نہیں دیکھی جاتی بلکہ رقم کا حساب لگایا جاتا ہے۔ اور ہاں اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے تو اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے جیسے ادارے موجود ہیں۔ بھئی یہ ادارے اگر فعال ہوتے تو آج ” نیب “ وغیرہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ کیسے ممکن ہے کہ ایک سرکاری ملازم دوسرے پیٹی بھائی کی کرپشن کی تحقیق کر سکے، کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی کرپشن کے مقدمے میں شفاف انکوائری ہو۔ سوچنے والی بات ہے کہ جن اداروں میں سیاسی بھرتیاں عروج پر رہیں وہاں کیسے ممکن ہے کہ آپ شفافیت کی قسمیں کھا سکیں، یا تو ان اداروں کے ڈی جی باہر سے لائے جائیں جن پر کس کا اختیار نہ ہو تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ قدرے شفافیت کا عمل ہوگا، اب جس ادارے میں ڈی جی کو خوف ہو کہ اُسے شفاف انکوائری پر اُسے اپنے عہدے کی قربانی دینی پڑ سکتی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ ایمانداری سے کام کرے۔ بہرکیف تبدیلی کی حکومت میں تو یہ بات ختم ہوجانا چاہیے تھی کہ اگر کسی کو پکڑ کر جیل میں ڈالا تو اسٹاک ایکس چینج گرجائے گا۔یا کسی کی کرپشن پکڑنے پر چند جیالے یا کارکن حکومت کا راستہ روکیں گے، یا چیئرمین نیب کو سازش کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اب نئے قانون کے تحت یہ کیسے ممکن ہے کہ آصف زرداری کا تو احتساب ہو مگر اُن کے شریک کاروبار یوں کو اس لیے چھوڑ دیا جائے کہ وہ عوامی عہدہ نہیں رکھتے، ایسے تو آپ جعلی اکاﺅنٹس کیس جیسے بے شمار کیسوں کو دفنانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ وہ نیب کو مضبوط کرے، سیاستدان اس میں اپنا مفاد دیکھنے کے بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھیں اور ادارے مضبوط کریں۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس پر بذات خود نظر ثانی فرمائیں تاکہ یہ مسودہ مشرف کے این آر او سے بڑا این آر او نہ بن جائے جو ساری زندگی کے لیے اُن کے ماتھے کا ”جھومر“ بنا جائے۔

یہاں ہر باشعور اور درددل رکھنے والے شہری کے دل میں یہ سوال جنم لے سکتا ہے کہ اگر اب مختلف حیلوں بہانوں سے نیب کو پابندیوں میں جھکڑنا تھا، کہاں نیب کارروائی کر سکے گا اور کہاں نہیں.... اگر یہ بناتا تھا، تو اس عمل کو اتنت زور وشور سے شروع کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور کیا جو اب تک کیا گیا، اس کا کچھ فائدہ بھی ہوا؟

ہر باشعور اور درددل رکھنے والے شہری کے دل میں یہ سوال جنم لے سکتا ہے کہ اگر اب مختلف حیلوں بہانوں سے نیب کو پابندیوں میں جھکڑنا تھا، کہاں نیب کارروائی کر سکے گا اور کہاں نہیں.... اگر یہ بناتا تھا، تو اس عمل کو اتنت زور وشور سے شروع کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور کیا جو اب تک کیا گیا، اس کا کچھ فائدہ بھی ہوا؟

۰۰۰

کرپشن کا اور ہمارا تعلق پرانا ہے۔ یہ کوئی آج کی پیداوار نہیں بلکہ آج تو اس صرف اس کے القاب وغیرہ ہی بدلے ہیں، رشوت کو مٹھائی، تحفہ اور کمیشن کے نام دئے گئے ہیں۔ اس کرپشن کو دور کرنے کے لیے ہر دور میں” اقدامات“ بھی اُٹھائے گئے مگر بے سودرہے


ای پیپر