ہائے ہمارے بچے!
24 ستمبر 2019 2019-09-24

اگلے روز سندھ سے قومی اسمبلی کے رکن سید خورشید شاہ کو نیب نے گرفتار کرلیا۔ اُن پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ زرداری، نواز شریف اور ان کے کچھ ساتھیوں کے بارے میں کوئی ایک شخص بھی حلفاً یہ نہیں کہہ سکتا اُنہوں نے لوٹ مار نہیں کی۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے موجودہ نیم سیاسی حکمرانوں کی مسلسل نااہلیوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ لوگوں کا اس یقین سے اعتبار اُٹھتا جارہا ہے کہ مذکورہ بالا ”چوروں اور ڈاکوﺅں“ کو کرپشن کی سزا مل رہی ہے، یہ ”چور اور ڈاکو“ عوام کو اِس یقین میں مبتلا کرنے میں مسلسل کامیاب ہوتے جارہے ہیں کہ اصل میں اُنہیں سزا کرپشن کی نہیں اس ملک کی اصلی قوتوں کے سامنے سراُٹھانے کی مل رہی ہے، میں سمجھتا ہوں جیسے جیسے موجودہ نیم سیاسی حکمرانوں کی نااہلیاں بڑھتی جائیں گی ویسے ویسے عوام کا اس اٹل حقیقت سے یقین اُٹھتا جائے گا کہ ان ”چوروں اور ڈاکوﺅں“ کو سزا کرپشن ہی کی مل رہی ہے، وزیراعظم کے ”بیانیے“ کو تقویت صرف اس صورت میں مِل سکتی ہے وہ باتوں کے علاوہ بھی کچھ کرکے دکھائیں، ویسے آپس کی بات ہے ان چوروں اور ڈاکوﺅں کو سزا بھی مل رہی ہے ؟ جیل میں اُنہیں ہرطرح کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں، حتیٰ کہ ”خودساختہ بیماری“ کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ جیل سے ہسپتال منتقل ہو جاتے ہیں اور سیاست میں مسلسل جو تھکاوٹ یا بے آرامی انہیں ہوتی ہے چند روز ہسپتال میں یا جیل میں رہ کر وہ آرام کرلیتے ہیں، عوام کے مسائل حل نہ کرنے کا بہانہ اُنہیں الگ سے مل جاتا ہے، سو ہم ہاتھ جوڑ کر اپنے محترم ”نیم سیاسی وزیراعظم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں اگر وہ چاہتے ہیں کرپشن پر گرفتارسیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کے ساتھ عوام کی نفرت میں ویسے ہی اضافہ ہو جیسی نفرت وہ خود اُن سے کرتے ہیں تو اُس کا واحد حل یہ ہے وہ اپنی کارکردگی درست کریں، وہ جس تبدیلی کا نعرہ لگاکر، یا جو خواب دکھا کر اقتدار میں آئے یا لائے گئے تھے وہ کہیں نظر نہیں آتی، ہاں اس حدتک تبدیلی ضرور نظر آتی ہے ہر شعبہ پہلے سے زیادہ زوال پذیر ہے ،....”نیبی سزائیں“....” عیبی سیاستدان“ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ ویسے بھی جس طرح کی ہمارے عوام کی ذہنیت ہے یہ لوگ جیل سے ہمیشہ ”ہیرو“ بن کر ہی نکلتے ہیں، اُس کے بعد اُنہیں بڑے بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے، میرا تو ایمان ہے یہ گرفتار بھی ”باعزت بری“ ہونے کے لیے ہی ہوتے ہیں، گزشتہ تیس برسوں کی تاریخ میں یہی ہوتا آیا ہے، مگر ایک سزا بہرحال قدرت کی بھی جس سے وہ بچ نہیں سکیں گے۔اپنی صحت کے لحاظ سے یہ اُس سزا کے قریب پہنچے ہوئے ہیں، ....اگلے روز سندھ کے ہرقسم کی سہولتوں سے محروم ایک علاقے میں ایک معصوم بچے نے کتے کے کاٹنے کی ویکسین سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہ ہونے پر جس طرح اپنی ماں کی گود میں سسک سسک کر جان دی اُس کی سزا زرداری اینڈ کمپنی کو جلدبھگتنا پڑے گی، ہماری دعا ہے یہ سزا اُنہیں دنیا میں ہی بھگتنا پڑے۔ ان کا کوئی بچہ اپنے دادے کے کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہ ہونے پر اپنی ماں کی گود میں اسی طرح سسک سسک کر دم توڑے تاکہ انسانیت سے محبت کرنے والوں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑے۔ ظاہر ہے اگلے جہان میں ان کا ہونے والا حساب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے ۔ہماری دعا ہے برس ہا برس اقتدار کے باوجود سندھ کے عوام کو بنیادی سہولیات سے جان بوجھ کر محروم رکھنے کی سزا اُنہیں دنیا میں ہی بھگتنا پڑے، معصوم بچے نے جس طرح بلک بلک کر اور سسک سسک کر اپنی ماں کی گود میں دم توڑا، جس طرح اس کی ماں بے بسی سے منہ دوسری طرف کرکے منہ پر کپڑا رکھ کر آنسو بہارہی تھی خدا کی قسم جب سے یہ منظر دیکھادل خون کے آنسو رورہا ہے۔ کلیجہ مسلسل منہ کو آیا ہوا ہے، سندھ کے حکمران اتنے بے حس ہوچکے ہیں اُن کا کوئی ایک وزیر نہیں اس ظلم پر جس نے استعفیٰ دیا ہو، .... ہمارے سیاسی واصلی حکمران ذاتی مفادات کے لیے قانون توڑنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، جہاں عوام کے حقوق، مفادات یا محرومیوں کا کوئی واقعہ یا سانحہ ہوتا ہے وہ ”فرمانِ حکمرانی“ جاری کردیتے ہیں ”قصور واروں کو قانون کے مطابق سزادی جائے گی“ ،....بے شمار معاملات میں اس ”قانون“ نے ہمارا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے، .... اس قانون کے مطابق لُوٹ مار سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والوں کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی.... اِس قانون کے مطابق کسی ایم این اے یا

ایم پی اے پر یہ پابندی عائد نہیں کی جاسکتی کہ تم نے چونکہ پانچ برسوں میں اپنے حلقے کے لیے کچھ نہیں کیا، لہٰذا تم ساری عمر کے لیے اب الیکشن نہیں لڑسکتے، .... اُس کا معاملہ عوام عرف ”ہجوم“ پر چھوڑ دیا جاتا ہے جو ایک پلیٹ بریانی یا قیمے والے نانوں پر ووٹ دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، ....جس علاقے کے سرکاری ہسپتال میں کتا کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہ ہونے پر ایک بچے نے سسک سسک کر ماں کی گود میں دم توڑا، خدا کی قسم میرا بس چلے میں اُس علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کی بوٹیاں نوچ لُوں۔ اور اُس ہسپتال کے ایم ایس یا محکمہ صحت کے دیگر ذمہ داروں کو چوکوں میں سرعام پھانسی پر لٹکا دوں.... پر ظاہر ہے میرا پیارا ”قانون“ مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا.... جب تک اس طرح کی سزائیں ان ظالموں اور درندوں کو نہیں ملیں گی، ہمارے بچے اسی طرح سسک سسک کر بلک بلک کر مرتے رہیں گے، ....اپنی مفاداتی اور لُوٹ مار کی سیاست چمکانے کے لیے ”جیئے بھٹو“ کا نعرہ لگانے والوں نے بھٹو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مار دیا ہے، پیپلزپارٹی کے رہنما مرحوم ملک معراج خالد فرمایا کرتے تھے ”جنرل ضیاءالحق پورا زور لگاکر بھٹو کو نہیں مارسکا مگر بھٹو کا داماد یہ کام بغیر زور لگائے کردے گا“ .... یہ تو ایک ویڈیو ہے جو سامنے آگئی اللہ جانے اس طرح کے کتنے واقعات بلکہ سانحات روز سندھ اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ہوتے ہوں گے؟ اللہ جانے کتنے لوگ کتنے بچے محض بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ایسے ہی دم توڑ جاتے ہوں گے؟ مجھے یاد ہے ایک بار تقریر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کی اپنی ماں کی شہادت کے غم میں آنکھیں چھلک پڑی تھیں، کل کلاں اس نے خود ”ماں“ بننا ہے، کاش وہ اس ماں کا درد بھی محسوس کرسکتا ہوتا جس کے بچے نے اُس کی گود میں سسک سسک کر جان دی، ایسی تصویریں اور ایسی ویڈیو دیکھ کر مجھے احسان دانش یاد آتے ہیں جنہوں نے فرمایا تھا ” کچھ ایسے مناظر بھی گزرتے ہیں نگاہ سے .... جب سوچنا پڑتا ہے خدا ہے کہ نہیں ہے“ .... خدا یقیناً ہے مگر خدا کا خوف کرنے والے اب کہیں نہیں ہیں، سندھ میں تو بالکل ہی نہیں ہیں، .... کاش ہمارے ” ٹویٹر وزیراعظم“ ایک آدھ ٹویٹ سندھ کے ایک علاقے میں ماں کی گود میں سسک سسک کر دم توڑنے والے بچے کے لیے بھی کردیتے، ممکن ہے انہوں نے یہ ٹویٹ اس لیے نہ کیا ہو کہ پنجاب جہاں ان کی حکومت ہے وہاں کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی ویسی ہی ہوتی جارہی ہے جیسی سندھ کے سرکاری ہسپتالوں کی ہے۔ ”بزدار پرستی“ اللہ جانے کب تک رہے گی ؟؟؟ (جاری ہے)


ای پیپر