Source : File Photo

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ۔۔۔دیامر بھاشا ڈیم
24 ستمبر 2018 (23:41) 2018-09-24

رانا اشتیاق احمد:
انسان اور پانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انسان جب ملکی سرحدوں کی قید سے آزاد تھا تو وہ پانی کی تلاش میں میلوں کا سفر طے کرکے اس جگہ کو اپنا مسکن بنا لیتا جہاں یہ نعمت موجود ہوتی۔ شائد اسی لئے دنیاکے بیشتر ممالک کسی نہ کسی دریا یا پھر سمندرکے کنارے آباد ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب ملکی حد بندیاں مضبوط اور ان پر عمل درآمدکے اصول و ضوابط سخت ہونے لگے تو دریائی پانی کی تقسیم کا مسئلہ بھی شروع ہوگیا۔ کیونکہ پانی جہاں غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، وہیں نقل وحمل کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ آہستہ آہستہ مختلف ممالک نے بارش اوردریاو¿ں کا پانی جمع کرنے کے لئے بند باندھنے اور ڈیم بنانے کا سلسلہ شروع کردیا تاکہ پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکے۔ کبھی وہ وقت تھا....آج بھی دنیا کے بعض خطوں میں ایسا ہوتا ہے....کہ زمین کی سیرابی اور اس میں بوائی کا کام بارش پر ہی منحصر ہوتا تھا۔ اگر بارش ہو جاتی توکھانے کے لئے اناج میسر ہوتا ورنہ نوبت فاقوں مرنے تک پہنچ جاتی۔ حالات کی اس ستم ظریفی سے بچنے کے لئے بھی انسان نے پانی ذخیرہ کرنے کا سوچا۔ اب دور جدیدکے ممالک بھی پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمزکی تعمیرکو اوّلین ترجیح دیتے ہیں۔ بعض ممالک تو ہزاروں کی تعداد میں ڈیم بنا چکے ہیں جن سے زرعی اورگھریلو ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں بجلی بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ بعض ممالک کے پاس پا نی وافر مقدارمیں موجود ہے جبکہ بعض اس کی بوندبوندکو ترس رہے ہیں اور بعض ممالک ایسے ہیں جن کو مستقبل قریب میں پانی کی قلت جیسے سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان ممالک نے اگر پانی ذخیرہ کرنے کے لئے تیز ترین اور مو¿ثر حکمت عملی اختیار نہ کی تو ان کے لئے بڑا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان ہی ممالک میں ایک وطن عزیز پاکستان بھی ہے، جہاں اس کے قیام سے کر اب تک چھوٹے بڑے صرف ایک سو پچاس کے قریب ہی ڈیم بنائے جا سکے ہیں جب کہ موجودہ ضرورت کو دیکھا جائے تو پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیموں کی یہ تعداد ناکافی ہے۔کئی سالوں سے مختلف ڈیمزکی تعمیرکا مسئلہ ہاٹ ایشو بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے تمام حکومتوں نے اپنے تئیں کوششیں کی ہیں، مگر بعض سیاسی مجبوریوں اور مصلحتوں کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ انہیں مجبوریوں، سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے آخرکار عدالت عظمیٰ کو میدان میں آنا پڑا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے7 جون2018ءکو ملک بھر میں پانی کی قلت کا ازخود نوٹس لے لیا جس کے بعد دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈ قائم کیاگیا تھا۔


حکومت اور ملکی اداروں کی سنجیدگی
چیف جسٹس کے نوٹس کے بعد نئی آنے والی حکومت نے بھی اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے فنڈ ریزنگ کا آغاز کیا۔ ستمبرکے آغاز میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی عوام خصوصاً اوور سیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ڈیم کی تعمیرکے لئے چندہ دیں۔ عوام اور بعض مخیر حضرات نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم کی اپیل پر اس قومی اہمیت کے حامل منصوبے کے لئے قائم فنڈ میں حصہ ڈالا ہے۔ تاہم تادم تحریر تین ارب 33کروڑکے لگ بھگ رقم جمع ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت ڈیمز کے معاملے میں ماضی کی حکومتوں سے زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے ، اس بات کاایک ثبوت گزشتہ دنوںقومی اسمبلی میں نئے ڈیموں کی قراردادکا منظور ہونا بھی ہے۔ ڈیموں کی قرارداد کے وقت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پوری قوم تسلیم کرتی ہے کہ ملک میں پانی کا سنگین بحران ہے، پانی کے نئے ذخائر نہ بنائے گئے تو ملک اندھیروں میں چلاجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ، بلوچستاناور خیبر پختون خوا نے کالاباغ ڈیم پر اختلاف کیا تو ان کا احترام کریں گے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نواب یوسف تالپور نے اس موقع پراحتجاج کیا اورکہا کہ دیامر بھاشا قبول ہے،کالاباغ ڈیم قبول نہیں۔

حز ب اختلاف اور ڈیم
آہستہ آہستہ ڈیم بنانے کی جانب اپوزیشن رہنماءبھی متحرک ہو رہے ہیں، اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ بھاشا ڈیم سے متعلق دستاویز میں سب کچھ واضح ہے، چندہ جمع کرنا بھی احسن اقدام ہے، ڈیموں کے معاملے کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔ادھر حکومت نے مالی سال 2018ء کا سپلیمنٹری بجٹ پیش کرتے ہوئے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بھاشا ڈیم چھ سالوں میں تعمیر کیا جائے گا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اس رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم پر کم و بیش تمام جماعتیں متفق ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کیا اس رفتار سے چندہ جمع کرکے ڈیم جیسا میگا پراجیکٹ پایہ تکمیل تک پہنایا جا سکتا ہے، کیا عوام اور مخیرحضرات اتنا پیسہ دے پائیں گے جس سے ڈیم کی تعمیر ممکن ہوسکے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ڈیم کی تعمیرکا جذبہ بے مثال ہے، فنڈ ریزنگ مہم بھی کمال ہے، مگر زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا کبھی اورکسی صورت بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔


خلوص نیت اورچندے سے ڈیم بننا!
اس فنڈکے تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا ڈیم جس کی تعمیرکا تخمینہ کم از کم 18 سے 20 ارب ڈالر یعنی اٹھارہ سو سے دوہزار ارب روپے ہواور تعمیرکا دورانیہ 12 سے 14 سال ہو،کیا وہ محض چندے کی رقم سے بن سکتا ہے؟ بھاشا ڈیم کی تعمیرکا تخمینہ کم ازکم 18سو سے 2000 ارب روپے ہے۔ برطانوی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف ماہرین نے چیف جسٹس ثاقب نثارکی جانب سے شروع کیے گئے دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے لیے قائم کیے گئے فنڈ پر اپنے تحفظات کا اظہاراور اس کی افادیت پر سوال اٹھا چکے ہیں۔کالم نویس اور لندن کے کنگزکالج سے وابستہ دانش مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے اس فنڈ نے انہیں نوے کی دہائی میں نواز شریف حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سکیم ”قرض اتارو ملک سنوارو“ کی یاد دلا دی ہے۔”دنیا میں کسی ملک نے ایسے منصوبے پرکام شروع نہیں کیا جس کی مالیت اس ملک کی مجموعی قومی پیداوارکے تقریباً دس فیصد حصے کے برابر ہو“۔ آبی امورکے ماہر حسن عباس نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں کہاکہ ان کی معلومات کے مطابق دنیا میں کہیں بھی اتنا بڑا منصوبہ چندے کی مدد سے تعمیر نہیں کیا گیا ہے اور ان منصوبوں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے جاتے ہیں۔” دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے کے لیے اگر آپ پاکستان کے تمام شہری، بشمول نوزائیدہ بچے، اس فنڈ کے لیے 30000 روپے دیں تو شاید کچھ بات بنے۔ لیکن کیا ہمارے ملک میں اوسط تنخواہ اتنی ہے؟ اس فنڈ بنانے کا خیال ناقابلِ عمل لگتا ہے“ ماحولیاتی امورکے ماہر وکیل رافع عالم کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات میں پاکستان میں آج تک ایسا کوئی ڈیم تعمیر نہیں ہوا ہے جس کے لیے عوام سے چندہ لیا گیا ہو۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر پرویز عامر نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے فنڈ سے ڈیمزکی تعمیرکی کل لاگت کا بمشکل پانچ فیصد حصہ جمع ہو سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر سپریم کورٹ بونڈ جاری کر دے تو مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر فنانشل منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کی مدد سے زیادہ رقم حاصل ہو سکتی ہے۔”عوام سے چندے کی اپیل کرنا جذباتی فیصلہ لگتا ہے، نہ کہ کوئی سنجیدہ مشورہ“۔لیکن اس حوالے سے پراُمید رہنا چاہیے کہ جس کام کا آغاز خلوص نیت سے کیا جائے وہ یقینا تکمیل تک بھی پہنچتا ہے۔ ہو سکتا ہے چند ارب روپے سے ا س ڈیم کا آغاز ہو جائے مگر جلد ہی غیر ملکی ادارے بھی فنڈنگ کرنے کے لیے رضامند ہو جائیں۔

محل وقوع.... دیا میرڈیم
دیامیرکے محل وقوع کی بات کی جائے تو چلاس سے 40 کلو میٹر نیچے کی جانب گلگت بلتستان میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر آف دیامیر ہے، جہاں 32 دیہاتوں میں 4 ہزار 266 گھر ہیں، جن میں 30 ہزار 350 افراد مقیم ہیں۔اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 37 ہزار 419 ایکڑ زمین درکار تھی، جس میں کاشت کاری، بنجر اور دیگر استعمال کے لیے 19 ہزار 62 ایکڑ سرکاری اور 18 ہزار 357 نجی زمین شامل ہے۔


بھاشا ڈیم کی تعمیر کا سلسلہ: کب،کیا ہوا؟
2001ءمیں مشرف حکومت نے بھاشا ڈیم کا تخمینہ لگانے کا کام شروع کروایا تھا۔ جب کہ اس منصوبے پرکام 2006ءسے جاری ہے۔یہ بھی پرویز مشرف ہی کا دور حکومت تھا۔ 2010ءمیں مشترکہ مفادات کونسل نے اس کی منظوری دی۔ ڈیم کے تفصیلی نقشے تیارکئے جانے لگے۔ 30 دیہات اس ڈیم کی زد میں آ رہے تھے اور 20 ہزار لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑ رہی تھی جنہیں حکومت نے یقین دلایا تھاکہ ان کا نقصان پورا کیا جائے گا۔ 25 مارچ 2008 ءکو جب پاکستان پیپلزپارٹی کے سید یوسف رضاگیلانی نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت بھاشا ڈیم کے تفصیلی نقشے بن چکے تھے۔نومبر 2008 ءمیں یوسف رضا گیلانی نے ایکنک سے بھاشا ڈیم کے لئے منظوری حاصل کر لی۔ 18 اکتوبر 2011ءکو یوسف رضا گیلانی نے بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اُس وقت منصوبے کی تعمیرکے لئے تقریباََ 1200ارب کی ضرورت تھی۔ ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو قرض کے لئے درخواست دی گئی جسے منظورکرکے ان بنکوں نے رقم دینے کی حامی بھر لی۔ جیسے ہی منصوبے پرکام شروع ہوا تو بھارت نے حسب روایت چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ بھاشا ڈیم گلگت بلتستان میں بنایا جا رہا تھا۔ بھارت نے ورلڈ بنک اورایشیائی ترقیاتی بنک کو درخواستیں دینا شروع کردیں کہ اس منصوبے کے لئے رقم فراہم نہ کی جائے کیونکہ یہ منصوبہ ایک ایسی جگہ پر بنایا جا رہا ہے جوکشمیر کا حصہ ہے اورکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اگست 2012 ءمیں ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے بھاشا ڈیم کی تعمیرکے لئے دی جانے والی رقم روک لی اور پاکستان سے کہا کہ بھارت لکھ کر دے دے کہ اسے اس منصوبے پرکوئی اعتراض نہیں تو یہ رقم جاری کر دی جائے گی۔ اس کے بعد 20 اگست 2013ءمسلم لیگ ن کے دور حکومت میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعوی کیا کہ حکومت نے ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو رقم فراہم کرنے کے لئے راضی کر لیا ہے اور یہ بنک بھارت کی پروا کئے بغیر ہمیں بقیہ قرض جلد جاری کر دیں گے۔27 اگست 2013 ءکو اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ بھاشا ڈیم پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا اور یہ منصوبہ 10 سے 12 سال میں مکمل ہو جائے گا۔ لیکن ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک بھاشا ڈیم کے لئے قرضہ دینے پر راضی نہ ہوئے۔ پھر جون 2017 ءکو خبر آئی کہ چائنہ نے بھاشا ڈیم بنانے میں دلچسپی ظاہرکی ہے۔ چین کی ناقابل قبول شرائط کی وجہ سے بھاشا ڈیم نومبر2017ء کو سی پیک منصوبے سے نکل گیا۔ اس کے بعد2018ءمیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے فیصلہ کیاکہ بھاشا ڈیم اپنی جیب سے بنایا جائے گا۔ اس وقت ڈیم کی تعمیر پرکل لاگت 1370ارب تھی۔ لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے بھاشا ڈیم کے منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا: نمبر 1: بند باندھ کر پانی جمع کرنے کا منصوبہ اور نمبر 2: بند کے اوپر بجلی کی ٹربائنیں لگانے کا منصوبہ۔ پہلے منصوبے کے لئے 625 ارب جبکہ دوسرے منصوبے کے لئے 744 ارب کا حساب لگایا گیا۔ 20 مارچ 2018ءمیں حکومت نے بند باندھ کر پانی جمع کرنے والے حصے کی منظوری دے ۔ یہ طے ہوا کہ کل 625 ارب روپے میں 472 ارب روپے وفاقی حکومت اور واپڈا مل کر ادا کریں گے جب کہ باقی 153ارب روپے کی رقم بیرونی قرضہ لے کر پوری کی جائے گی۔ بند باندھنے والا کام ختم کرنے کا وقت 5 سال رکھا گیا۔

متاثرین کی آباد کاری کا مسئلہ
منصوبے کے حوالے سے واپڈا کے جنرل منیجر (انسانی وسائل کی ترقی، زمین کے حصول اور آباد کاری) بریگیڈیر (ر) شعیب تقی کا کہنا تھا کہ ”ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کل زمین کا 85 فیصد حصہ حاصل کرلیا ہے اور ذخائرکے لیے تقریباً 95 فیصد زمین درکار تھی اور یہ اس منصوبے کے لیے ضروری تھا، تاہم ایک سال کے دوران اس زمین کے حصول کو واپڈا کا ایک بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں“۔ خیال رہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے تین دیہاتوں کے مجوزہ ماڈل، خیبرپختونخوا اورگلگت بلتستان کی سرحد پر زمین کے حصہ کا حصول ایک اہم مسئلہ ہے۔ تاہم ان تین مجوزہ دیہاتوں کے درمیان ہرپن داس کے لیے 687 ایکڑز زمین کا حصہ پہلے ہی حاصل کیا جاچکا ہے، جہاں واپڈا نے متاثر ہونے والے افراد کے لیے کمیونٹی انفرا اسٹرکچر تعمیرکیا ہے۔ اسی تناظر میں اس منصوبے کی رفتارکو متاثرکرنے والے مخصوص مسائل کے باعث مجوزہ گاو¿ں کے لیے دوسری دو سائٹس پر زمین ابھی تک حاصل نہیں کی جا سکی۔ تاہم کمیونٹی کے بنیادی ڈھانچے، سماجی خدمات جیسے سکول، صحت کی سہولیات، سڑکوں کی تعمیر، مساجد، کمیونٹی سینٹر، بازار مکمل کیے جا چکے جب کہ 1350 رہائشی پلاٹوں کا لے آو¿ٹ پلان بھی تیارکیا جاچکا ہے۔ اس حوالے سے بریگیڈیر(ر) شعیب تقی کا مزیدکہنا تھا کہ اس منصوبے سے خان باری، تھور، ہدر، اور چلاس کے 2 ہزار 937 خاندان متاثر ہوئے ہیں، جو ہرپن داس میں رہنا چاہتے ہیں لیکن اس صوبے کی گنجائش 1350 رہائشی پلاٹس تک ہے، لہٰذا ہم نے یہ تجویزدی کہ ان افراد کی ہرپن داس میں آباد کاری دیگر مجوزہ 2 گاو¿ں تھک داس اور ساگاچل داس کی تکمیل سے جوڑی جائے۔ یاد رہے کہ تھک داس کی جگہ کا تعین 2009 ءمیں ضلعی انتظامیہ، واپڈا حکام اور دیامیر بھاشا ڈیم کے کنسٹلٹنس نے مشترکہ طور پرکیا تھا۔ تھک داس میں ماڈل گاو¿ں کے لیے 1522 ایکڑ زمین درکار تھی جو ابھی تک حاصل نہیں کی جا سکی اور اس جگہ کے مکین ماڈل گاو¿ں کی تعمیر کے لیے زمین دینے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسرے ماڈل گاو¿ں سگاچل داس کی بات کی جائے تو یہ چلاس ٹاو¿ن سے 80 کلو میٹر دو ہے اور یہ حصہ گوہرآباد کے مکینوں کی زمین ہے اور اس کا کل حصہ 526 ایکڑ ہے، تاہم یہاں کے مکینوں نے متاثرہ افراد کو ماڈل گاو¿ں میں رہنے کی اجازت دینے سے انکارکردیا۔ واپڈا کے جنرل منیجر نے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہمیں سرکاری اور نجی دونوں زمینوں کا بڑا حصہ حاصل کرنے میں کامیابی ہوگئی ہے لیکن ماڈل گاو¿ں اور ذخائرکے لیے بقیہ زمین کا حصول ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کا حصول حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ہم ان کے ساتھ برابرکا تعاون کرر ہے ہیں لیکن اگر قلیل مدت میں یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اس منصوبے میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔

پیداواری صلاحیت
یہ ہائیڈ روپاور منصوبہ 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیم کی لمبائی 35 سو فٹ، چورائی 2 ہزار فٹ، اونچائی 660 فٹ اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 35 سو فٹ ہوگی اور 6.4 ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ ڈیم کی دیوارکی اونچائی 270 میٹر ہوگی، دریائے سندھ کے پانی کے سال بھرکے بہاو¿ کا 15فیصد اس میں ذخیرہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں سب سے ز یادہ بلندی پر بنائے جانے والے اس ڈیم کی عمر 100سال ہوگی اور اس میں ریت جمع نہیں ہوگی۔ دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید 35سال کا اضافہ ہوگا۔ دیا مر بھاشا ڈیم سے زیریں علاقوں میں واقع پن بجلی منصوبوں سے بجلی کی پیداوار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق موجودہ پن بجلی گھروں بشمول تربیلا، غازی بروتھا، جناح اور چشمہ سے بجلی کی سالانہ پیداوار میں 2 ارب 50 کروڑ یونٹ اضافہ ہوگا ، جبکہ داسو ، پٹن اور تھا کوٹ جیسے مستقبل کے منصوبوں سے بھی بجلی کی سالانہ پیداوار میں مزید 7 ارب 50 کروڑ یونٹ اضافہ ہو جائے گا۔

مزیدکیا کیا جائے؟
آئی ایم ایف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا اب تیسرا نمبر ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات نہ کئے گئے تو آنے والے وقتوں میں حالات کیا رخ اختیارکر سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو ہر سال پانی کے ضائع جانے کی وجہ سے 25 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان کے دریا ہر سال 145ملین ایکٹر فٹ پانی حاصل کرتے ہیں جس میں سے صرف 14ملین ایکٹر فٹ پانی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے جبکہ باقی سب پانی ضائع جاتا ہے۔ اگر اس پانی کو محفوظ کر لیا جائے تو نہ صرف زمین کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ ملک میں جاری بجلی کے بحران پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے، جو روز بروزخطرناک صورت حال اختیارکرتا جا رہا ہے۔ اب جب کہ سپریم کورٹ کی مداخلت سے ڈیم کی تعمیرکا ذکر بچے بچے کی زبان پر ہے تو حکومت کو چاہئے کہ صرف چندے پرانحصارکرنے کی بجائے دیگر پارلیمان کے مشورے سے ایسا لائحہ عمل اختیارکرے کہ تعمیرکام مثبت صورت میں پایہ¿ تکمیل کی طرف گامزن ہو۔ ہمیں ڈیم بنانے کے لئے ایسے جذبے اور حکمت عملی کی ضرورت ہے جس پر حکومت کی تبدیلی کا کوئی اثر مرتب نہ ہو۔کوئی بھی حکومت آئے، یہ منصوبہ احسن طریقے سے جاری و ساری رہے کیونکہ قومی نوعیت کے منصوبے اسی وقت ثمرآور ثابت ہوتے ہیں جب انہیں سیاسی مصلحتوں، مفادات اور چپقلش سے ماورا رکھا جائے۔

پانی کے ذخیرے کے حساب سے دنیا کے بڑے ڈیم
کاریبا ڈیم : زمبابوے پانی کے ذخیرے کے حساب سے کاریبا ڈیم دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔ یہ زمبابوے میں سابقہ کاریوا گارج پر واقع ہے اور یہ نہر کاریبا بناتا ہے جس کے پانی کا ذخیرہ 185بلین کیوبک میٹرز ہے اور اس کا رقبہ5580 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ نہر کاریبا280 کلومیٹر لمبی ہے۔ ڈبل کنکریٹ آرچ ڈیم دریائے زمبیزی اتھارٹی کی ملکیت ہے۔یہ ڈیم اٹلی نے 1955 سے 1959تک کے عرصے میں تعمیر کیا۔ یہ ڈیم اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والے سینکڑوں سالوں کے سیلابوں کو بھی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


براسک ڈیم : روس روس کے علاقے سائبیریا میں واقع براسک ڈیم دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم ہے۔ اس کا ذخیرہ 169.27بلین کیوبک میٹرز ہے۔دریائے انگارا پر قائم یہ ڈیم5540 مربع کلومیٹر علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔براسک ڈیم کو براسک گیسٹرائے نے1954 سے 1964تک تعمیر کیا۔
اکوسومبوڈیم، گھانا :گھانا کا اکوسومبو ڈیم دنیا کا تیسرا بڑا ڈیم ہے (پانی کے ذخیرہ کے حسا ب سے)۔دریائے وولٹا پر واقع یہ ڈیم آٹھ ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر وولٹاجھیل بناتا ہے جو کہ اپنے رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ جھیل کا پانی144 بلین کیوبک میٹر کے برابر ہے۔ پتھروں سے بنے اس ڈیم کی لمبائی تقریبا سات سو میٹر اور بلندی 134میٹر ہے۔ ابتدائی طور پر یہ بجلی کی پیداوار کیلئے تعمیر کیا گیا لیکن بعد میں مچھلی کی افزائش نسل کیلئے بھی استعمال کیا جانے لگا جو کہ مقامی لوگوں کے کاروبار کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ اس ڈیم کو 1961 سے 1966 تک کے عرصے میں تعمیر کیا گیا۔
ڈینئیل جانسن ڈیم ، کینیڈا ڈینئیل جانسن ڈیم مینک ڈیم کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے 14بڑے پشتے اور13 محرابیں ہیں۔ اس کو تعمیر کرنے میں2.2 ملین کیوبک میٹر کنکریٹ استعمال کیا گیا۔ جانسن ڈیم ہائیڈرو کیو بیک کی ملکیت ہے اور یہ نو سال کے عرصے میں تعمیر ہوا۔
گوری ڈیم : وینزویلا گوری ڈیم دنیا کا پانچواں بڑا ڈیم ہے اور اس کا ذخیرہ135 بلین کیوبک ہے۔ ڈیم ایک ہزار تین سو میٹر لمبا اور16 میٹر بلند ہے۔ یہ ملک کی ستر فیصد بجلی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔


ای پیپر