Source : File Photo

حضورصلی اللہ کی آنکھوں کا نور سیدہ زینب 
24 ستمبر 2018 (23:37) 2018-09-24

کریم اللہ چشتی :
خاتونِ کربلاحضرت سیدہ زینب ؓ نے باب العلم حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم ؓ کے گھر5 ہجری کو جنم لیا ۔آپ ؓ کا نام آقائے دوجہاں نے زینب رکھا ۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ ؓ کا نام آپ ؓ کی پیدائش کے کئی دن بعد رکھا گیا۔ سرکارِ مدینہ آپ ؓ کی پیدائش کے وقت سفر میں تھے۔ سیدة النساءالعالمین سیدہ فاطمة الزہرؓا نے امیرالمومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کہا کہ وہ بیٹی کا نام تجویزکریں۔ امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے کہاکہ میں اس کا نام کیسے رکھوں، اس کا نام توآپ خود رکھیں گے ۔ چنانچہ آپ جب سفر سے واپس تشریف لائے تو آپکو یہ خوش خبری سنائی گئی توآپ فوراً سیدة النساءالعالمین سیدہ فاطمة الزہراؓ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت زینب ؓ کوگود میں اٹھا کر پیارکیا اور نام (زینب) رکھا۔

آپ ؓ اپنی تمام صفات میں بے مثل تھیں اور سیدة النساءالعالمین سیدہ فاطمة الزہراؓ کی سیرت پاک کا عملی نمونہ تھیں۔ آقائے دوجہاں ؓ کوآپؓ سے بے تحاشہ محبت تھی۔ آپ ؓ حضور نبی کریم کی آنکھوں کا نور تھیں۔آپ ؓ کے نانا نبی اکرم ، آپ ؓ کی والدہ خاتونِ جنت ؓ تھیں۔ آپ ؓ کے والد حضرت سید ناعلی المرتضی ؓ، بھائی حضرت سیدنا امام حسن ؓ اور سیدنا امام حسین ؓ جنتی نوجوانوںکے سردار تھے۔ سیدہ زینب ؓ کا نکاح اپنے چچا حضرت جعفرطیارؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ ابن جعفرؓ سے ہوا۔ آپ ؓ نے زندگی میں بے شمار مصائب برداشت کئے ۔ ابھی آپ ؓ کی عمر چھ سال کی بھی نہ ہوئی کہ آپ ؓ کے نانا حضور نبی کریم وصال فرما گئے۔ پھر چند ماہ بعد ہی آپ ؓ کی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمة الزہراؓ رحلت فرما گئیں۔ جب آپ ؓ جوان ہوئیں تو والد محترم امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی شہادت ہوئی اور پھر بھائی حضرت سیدنا امام حسن ؓ کی شہادت، ان سب مصائب کی وجہ سے آپ ؓ کوام المصائب کی کنیت سے پکارا جانے لگا۔

آپ ؓ اپنی والدہ کی طرح صابروشاکر تھیں اور پردے کا نہایت خیال رکھتی تھیں۔ ایک مرتبہ بچپن میں قرآن مجید فرقان حمیدکی تلاوت کرتے ہوئے آپ ؓ کے سر مبارک سے چادر سرک گئی تو سیدة النساءالعالمین سیدہ فاطمة الزہرا ؓ نے فرمایا کہ بیٹی سر پر چادر کرو کیونکہ تم اللہ پاک کی مقدس کتاب قرآن مجید فرقان حمید پڑھ رہی ہو اور اس کے ادب کا تقاضا ہے کہ عورت کا سرڈھانپا ہوا ہو۔ آپ ؓ فہم وفراست ،عقل ودانش اورتدبرکی مالک تھیں۔ حضرت علی المرتضیٰ ؓ کے عہد خلافت میں کوفہ میں درسِ قرآن دیا کرتی تھیں۔ آپ ؓ غریب پرور تھیں۔ آپ ؓ نے کبھی دنیاوی لذتوں کو فوقیت نہ دی اور دنیاوی عیش وآرام کی نسبت آخرت کی زندگی کو ترجیح دی۔ آپ ؓ کی عبادت وریاضیت کا یہ عالم تھا کہ ساری زندگی کبھی تہجدکی نمازنہ چھوڑی۔ حضرت سیدناامام زین العابدین ؓ فرماتے ہیں کہ واقعہ کربلاکے خونی واقعات اوراس کے بعدکے مصائب کے باوجود سیدہ زینب ؓ نے نماز تہجدکبھی ترک نہ کی ۔

جس سے آپؓ کے زاہد وتقویٰ کااندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ حضرت سیدنا امام حسینؓ آپ ؓ سے درخواست کرتے تھے کہ اے میری بہن ! میں تجھ سے دُعا کی درخواست کرتا ہوں اور تم میرے لئے دُعا کیا کرو۔ واقعہ کربلاکے بعد آپ ؓ اکثرو بیشتر یہ دُعا فرمایا کرتی تھیںکہ الٰہی ! آلِ رسول کی اس قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہماری اس قربانی کورائیگاں نہ جانے دے ۔ حضرت سیدناامام حسین ؓ کے ساتھ آپ ؓ کی محبت بے مثل تھی ۔آپ ؓ نے سیدنا امام حسینؓ کا ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دیا۔ جب حضرت سیدناامام حسینؓ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے توجذبہ ایثار اور محبت حسین ؓ کے تحت آپ ؓ ان کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ آلِ رسول ؓ کی یہ قربانی اللہ پاک نے قبول فرمائی اور تاقیامت ان کے فضائل ومناقب امت محمدیہ کی زبانوں پر جاری فرما دیے۔

کربلاکے میدان میں آپ ؓ کے صاحبزادوں حضرت محمد بن عبداللہؓاور حضرت عون بن عبداللہؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ امیرالمومنین حضرت سیدناعلی المرتضیٰ ؓ جب مدینہ منورہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے تو آپ ؓ اس وقت اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ کوفہ چلی گئیں۔ پھر امیرالمومنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا امام حسن ؓ اپنے تمام گھر والوں کو لے کر مدینہ منورہ واپس آگئے۔ آپ ؓ ان کے ساتھ مدینہ منورہ آگئیں۔ جب سیدنا حضرت امام حسین ؓ مدینہ منورہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے تو آپ ؓ کے شوہر حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کسی وجہ سے ساتھ نہ جا سکے تو انہوں نے دو بیٹوں کو ماں کے ساتھ بھیج دیا۔ واقعہ کربلامیں آپ ؓ کی آنکھوں کے سامنے آپ ؓ کے بیٹوں، بھانجوں اور بھائی کو شہید کر دیا گیا۔ آپ ؓ نے اس موقع پر بھی صبرواستقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور ان کی شہادت پرکسی قسم کا ماتم نہ کیا۔ ا لمختصر واقعہ کربلاکے بعد سیدہ زینب ؓ کو یزیدکے دربارمیں پیش کیا گیا تو آپ ؓ نے وہاں نہایت فصیح وبلیغ خطبہ دیا جو تاریخ میں سنہری حروف میں رقم ہے


یزید کے دربار میں سیدہ زینبؓ کاخطبہ
”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والاہے اور درودو سلام حضور نبی کریم ؓ اوران کے اہل بیت ؓ پر۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ ان لوگوں کا انجام برُا ہے جو بُرے کام کرتے ہیں اوراس کے احکامات کو جھٹلاتے اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اے یزید! تو نے ہم پر زمین تنگ کر دی اور ہمیں قید کیا اور توُ سمجھتا ہے کہ ہم ذلیل ہوئے اور تو برتر ہے تو یہ سب تیری اس سلطنت کی وجہ سے ہے اور تو نے شاید اللہ پاک کا فرمان نہیں سنا کہ کفار یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے ان کے ساتھ جونرم رویہ رکھا ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے بلکہ صرف یہ مہلت ہے تا کہ وہ دل کھول کرگناہ کریں پھر ان کے لئے ایک دردناک عذاب ہے۔ تو نے آلِ رسول اور بنی عبدالمطلب کا ناحق خون بہایا اور عنقریب تو بھی ایک دردناک انجام سے دو چار ہوگا۔

میں اللہ پاک سے امید رکھتی ہوں کہ وہ ہمارا حق ہمیں دے گا اور ہم پر ظلم کرنے والوں سے بدلہ لے گا اور ان پر اپنا قہر نازل فرمائے گا۔ تو عنقریب اپنے گناہوں کے ساتھ حضور نبی کریم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوگا اور جو اللہ کے راہ میں شہید ہوئے۔ ان کے بارے میں اللہ ہی کا فرمان ہے کہ وہ زندہ ہیں انہیں رزق ملتا ہے اور جن لوگوں نے تمہارے لئے تمہارا راستہ آسان کیا وہ بھی عنقریب تیرے ساتھ برباد ہونے والے ہیں ۔ اے یزید! اگر تو ہماری ظاہری کمزوری کو خود کے لئے غنیمت سمجھتا ہے توکل بروز ِقیامت تو اپنا کیا ہوا پائے گا۔ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ اور نہ ہی ہم اس سے کوئی شکوہ کرتے ہیں بلکہ ہم ہر حال میں صابر اور اس پر بھروسہ کرنے والے ہیں تو اپنے مکروفریب سے جو چاہے کر لے مگر تو ہرگز ہمارے ذکرکومٹا نہیں سکے گا اور نہ ہی ہمارے مقام کی بلندی کو چھو سکے گا۔ تیری یہ سلطنت عارضی ہے اور عنقریب منادی کرنے والا منا دی کرے گا اور لعنت ہو ایسی قوم پر جس نے یہ ظلم وستم کیا۔ پس اللہ پاک کی حمدوثناءہے جس نے ہمارے پہلوں کا ایمان کے ساتھ اور شہادت کے ساتھ خاتمہ فرمایا اور وہ نہایت مہربان اور رحم والاہے اور ہمارے لئے کافی ہے کیونکہ وہ بہترین کارسازہے“۔


واقعہ کربلا کے بعد آپ ؓ نے قیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔کتب سیرکی کثیر روایات میں ہے کہ آپ ؓ کا وصال 15رجب المرجب 62ھ میں ہوا۔ آپ ؓ اس وقت اپنے شوہر حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کے ہمراہ شام کی جانب سفر فرما رہی تھیں۔ آپ ؓ کا وصال دمشق کے نزدیک ہوا جس مقام پرآپ ؓ کا وصال ہوا وہ مقام زینبیہ کے نام سے مشہورہے ۔ وہاں پرآپ ؓ کا مزار پاک مرجع گاہ خلائق خاص وعام ہے۔ اس کے علاوہ آپ ؓ کا ایک مزار مصر میں بھی بتایا جاتا ہے جب کہ کچھ روایات کے مطابق آپ ؓ کا وصال مدینة المنورہ میں ہوا اورآپ ؓ کی قبرمبارک جنت البقیع میں ہے ۔کتابِ عشق ووفا کے دو باب ہیں: ایک کربلادوسرا کوفہ ودمشق کا ۔کربلاکا باب سیدالشہداءحضرت امام حسین ؓ نے لکھا اورکوفہ ودمشق کاباب المصائب سیدہ زینب ؓ نے رقم کیا۔

آپ ؓ نے واقعہ کربلامیں کبھی علی المرتضیٰ ؓ کا رنگ بھرا اورکبھی امام حسین ؓ بن کر تسلیم ورضا کے نقوش کو ابھارا ۔ آپ ؓ کے عزم واستقلال میں امام حسین ؓ کے عزم واستقلال کی ایک جھلک تھی۔آپ ؓ نے کوفہ وشام کے دربارمیں جابر اور دشمن حکمرانوں کا سامنا کیا جہاں اسلامی شریعت کی توہین ہو رہی تھی وہاں امربالمعروف نہی عن المنکرکے فریضہ کو انجام دیا اورکلم¿ہ حق بلند کیا۔ اپنی حق گوئی اور جدوجہد سے سیدہ زینب ؓ نے اسلام کی تعلیمات کوبقاءکی معراج پر پہنچایا۔ سیدہ زینب ؓ نازک سے نازک موقع پر بھی حضرت علی المرتضیٰؓ کے جاہ جلال کے ساتھ حسینؓ بن کر بولیں تو باطل کا سرکچل دیا اور حق کا بول بالاکردیا۔ اللہ پاک کی آپ ؓ پر رحمت ہو اور آپؓ کے صدقے ہماری خطائیں معاف ہوں۔


ای پیپر