Source : File Photo

ٹیکس اصلاحات : صرف ”سسٹم“ موثر بنا لیں!
24 ستمبر 2018 (23:32) 2018-09-24

حافظ طارق عزیز:
ٹیکس حکومت کے پاس ریونیو اکٹھاکرنے کا سب سے اہم اور مو¿ثر ترین ذریعہ ہوتا ہے۔ دنیا بھرکے ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں ٹیکس ایک قومی فریضہ سمجھ کرادا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں کہ وہ جتنا زیادہ ٹیکس ادا کریں گے، حکومت کی طرف سے انہیں اتنی ہی زیادہ سہولیات دی جائیں گی۔ ہمارے ہاں لیکن معاملات اس کے برعکس ہیں۔ یہاں ٹیکس اداکرنے کی بجائے ٹیکس چوری کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔ جہاں عوام اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں وہیں حکومت بھی اس ضمن میں ٹھوس اور مو¿ثر پولیسی سازی سے گریز برتتی دکھائی دیتی ہے۔ بہر حال موجودہ حکومت اس معاملے میں کافی سنجیدہ نظرآرہی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے مئی جون کے بجائے اپریل ہی میں بجٹ پیش کیا تو یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ الیکشن کے بعد بننے والی نئی حکومت اس بجٹ پر نظر ثانی کرے گی اور اپنا الگ بجٹ پیش کرے گی۔ بالکل ویسا ہی ہوا اور تحریک انصاف کی حکومت نے 18ستمبرکونیا نظرثانی شدہ بجٹ پیش کر دیا۔ جس میں نئی ٹیکس اصلاحات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صاحب حیثیت افراد پر ٹیکس بڑھا دیا۔ اسد عمر نے وزیراعظم، وزراءاور گورنرز کو ٹیکس سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ان اعلیٰ حکام سے بھی ٹیکس لیا جائے گا، مہنگے موبائل فونز، سگریٹ مہنگی گاڑیاں، زیادہ تنخواہ لینے والے افراد، نان فائلرز پر بھی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس اصلاحات کے لیے لائحہ عمل تیارکر لیا ہے۔ اصلاحاتی لائحہ عمل کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو FBRکو ختم کرکے اس کی جگہ نیشنل ٹیکس اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اصلاحاتی عمل میں ٹیکسزکو سادہ اور شفاف بنانے کے لیے بعض تبدیلیوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ پاکستان کی مالیاتی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ سرکاری مشینری کی ٹیکس جمع کرنے کی ناقابل اعتبار صلاحیت ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس تمام مسئلے کا محور رہا ہے۔ صوبائی اور وفاق کی سطح پر درجنوں ادارے ہیں جو پیداوار، تجارت، درآمد برآمد، خدمات، خریدوفروخت، تنخواہوں اور املاک پر ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔ ہر محکمے کی ٹیکس مشینری نے سرکاری ضابطوں کے متوازی اپنے اصول اور ضابطے ترتیب دے رکھے ہیں۔


تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان اداروں کے ہوتے ہوئے ہر سال پاکستان میں 5000 ارب روپے بدعنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ٹیکس سے متعلقہ محکموں کے اہلکار شاہانہ طرز زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی رہائش،گاڑیاں اور رہن سہن ان کی آمدن سے کئی گنا زیادہ کا پتہ دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے انہیں ٹھیک کرنے والے سیاستدان اس محکمے کے ساتھ مل کر ٹیکس چوری کرنے کے بڑے بڑے تجربے کرتے رہے۔ اور حالات یہاں تک جا پہنچے کہ منتھلی لینے والے ملازمین نے مختلف اداروں سے اپنا حصہ دوگنا کر دیا اور علی اعلان یہ کہا جانے لگا کہ ”اوپر“بھی حصہ پہنچانا ہے اس لیے رشوت کی رقم دوگنا کردیں ورنہ آپ کے لیے حالات خراب تر ہو سکتے ہیں۔


جب ٹیکس اکٹھا کرنے والا محکمہ ہی مکمل طور پرکرپٹ ہو گا تو ریونیوکیسے اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ اور ویسے بھی ہر ریاست کو نظام چلانے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے، حکومتیں اس رقم کے حصول کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہیں، لیکن زیادہ تر انحصار عوام سے ملنے والے ٹیکس پر ہوتا ہے۔ حکومت اس کے لیے ریونیوکے مواقع پیدا کرتی ہے، سیلز پرچیز پر ٹیکس لاگوکرتی ہے، عوام کی سالانہ آمدنی پربھی ٹیکس عائد کرکے ”اخراجات“ کی مد میں صحت، تعلیم سبسڈیز، انفراسٹرکچر اور قرض فراہمی وغیرہ جیسی سروسز فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی ٹیکس کا باقاعدہ ایک نظام ہے۔ جس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حکومت عوام کی سہولیات جیسے تعلیم، صحت، انفراسٹریکچر اور سبسڈیز مہیا کرنے پر صرف کرتی ہے۔ ٹیکس کا ایک باقاعدہ طریقہ کار اور قانون ہوتا ہے جس کا نام انکم ٹیکس آرڈیننس2001 ءہے۔ آزادی کے بعد انڈیا اور پاکستان نے Undiveded ٹیکس ایڈاپٹ کر لیا تھا، جس کا نام انکم ٹیکس ایکٹ 1922 ءتھا۔ پھر پاکستان نے 32 سال بعد اپنا ٹیکس کا قانون بنایا، جس کا نام انکم ٹیکس آرڈیننس 1979ءتھا۔ 2000 ءتک یہی قانون چلتا رہا۔ 2001 ءمیں ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا، جس کا نام انکم ٹیکس آرڈینیس 2001ءہے، اس کے بعد سابقہ حکومت نے فنانس ایکٹ 2018ءایکٹ متعارف کروایا ۔


یہاں ٹیکس کے لیے دو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، جن کی وضاحت ناگریز ہے۔ ایک”ایکٹ“اور دوسرا ”آرڈیننس“ ہے۔ ایکٹ ایسا قانون ہے جو پارلیمنٹ پاس کرتی ہے یعنی ملک کا وزیر اعظم پاس کرتا ہے اور ”آرڈیننس“ وہ قانون جسے صدر مملکت پاس کرتا ہے۔ اب اگر ماضی کی بات کی جائے تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ٹیکس کے حوالے سے جتنے بھی قوانین پاس ہوئے ہیں وہ صدارتی نظام کے تحت ہوئے ہیں۔ جس سے بڑے ٹیکس چوروں کو فائدہ دیا جاتا رہا جبکہ عام آدمی پر زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر ریونیو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ اور موجودہ حکومت کی ترامیم سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ موجودہ حکومت عام آدمی یعنی کم آمدنی والے افراد پر کم سے کم بوجھ ڈال رہی ہے اور زیادہ آمدنی والوں پر اُن کی استطاعت کے مطابق بوجھ ڈال رہی ہے۔


ا سٹیٹ بنک کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں 5کروڑ 75لاکھ افراد ملازمت پیشہ ہیں۔ ان کی بڑی تعداد ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام آئی ہے کہ ملک میں ایسی 54 ہزار کمپنیاں ہیں جو ٹیکس ادا نہیں کرتیں یا ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرا رہیں۔ نئی حکومت کے اصلاحاتی پروگرام میں عوام کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ شہریوں کو ان کی آمدن کے حساب سے مخصوص ایک ہی ٹیکس کی ادائیگی خوشگوار ثابت ہو سکتی ہے تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کا بہت زیادہ استعمال ٹیکس تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے فعال اور تیز رفتار ٹیکس ٹربیونلزکی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا حکومت ٹیکس اصلاحات متعارف کراتے ہوئے ٹیکس ٹربیونلزکی تعداد بڑھانے کا فیصلہ بھی کرے تو نئے تنازعات سے احسن طور پر نمٹا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ600 سے 800 ارب روپیہ سمگلنگ کی وجہ سے ٹیکس میں شامل نہیں ہو پاتا۔ لگ بھگ700 ارب روپیہ انڈر انوائسنگ کی وجہ سے سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہو رہا۔ ایک ٹیکس متعارف کرانے کے لیے شرح آمدن کا فارمولا معقول دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ بہت سے لوگ ٹیکس سے متعلقہ دستاویزات پیچیدہ اورگنجلک ہونے کے باعث ٹیکس نہیں دیتے۔


ہمیں غورکرنا چاہئے کہ ترقی یافتہ ممالک جن میں امریکہ سر فہرست ہے اس میں ٹیکسوںکی وصولی کا رازکیا ہے؟ اس کا جواب ہے کہ وہاں لوگ دیانتداری سے اپنا انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ امریکہ میں انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد100فیصد ہے اور شرح ٹیکس دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ چین اور یورپین ممالک میں بھی بچوں بوڑھوں کے علاوہ ہر فرد اور ادارہ انکم ٹیکس ادا کرتا ہے۔ بھارت ہم سے غریب اورکم وسائل کا ملک ہے جہاں 40 فیصد عوام فٹ پاتھوں اور پارکوں میں رات بسرکرتے ہیں۔ وہاں انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد 2کروڑ ہے جو انکم ٹیکس کا گوشوارہ داخل کرتے ہیں۔گویا کل آبادی کا 2 فیصد حصہ ٹیکس دہندہ ہیں۔ جبکہ پاکستان میں2000ءمیں انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد33لاکھ تھی جواب2018ءمیں گھٹ کر20لاکھ رہ گئی ہے جو کل آبادی کا صرف ایک فیصد بنتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ہر پاکستانی قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنا انکم ٹیکس قانون کے مطابق مقررہ وقت پر ادا کرے تو اتنا کثیر سرمایہ وصول ہو سکتا ہے کہ کسی دوسرے ٹیکس یا سرچارج وغیرہ لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔


بہرکیف حکومت کی اپنی ترجیحات ہیں وہ اگر وزیراعظم ہاوس کی بھینسیں فروخت کرکے اپنے وسائل بڑھانا چاہتی ہے تو اس کی مرضی ہے لیکن ٹیکس نیٹ کو منطقی اصولوں کے تحت وسیع کئے بغیر طویل المدت مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ ٹیکس کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ امرا سے وصول کیا جائے اور غریبوں پر خرچ کیا جائے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت بھی نکتہ چینی سے بچی رہے گی اور مطلوبہ مقاصد بھی حاصل ہو جائیں گے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے اور براہ راست ٹیکسوں میں معقول اضافہ کرکے اگر ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان یہ دعویٰ بار بار کرتے رہے ہیں کہ اگر اوپر دیانتدار آدمی بیٹھا ہو تو لوگ خوشی سے ٹیکس دیں گے اب چونکہ یہ شرط پوری ہوگئی ہے اس لئے انہیں اتنے براہِ راست ٹیکس لگا دینے چاہئیں کہ ٹیکسوں کا موجودہ ہدف دو یا تین گنا بڑھ جائے لیکن ترمیم شدہ بجٹ میں رکھی گئی شرح نمو کا ہدف تو کم کر دیا گیا ہے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف فی الحال نہیں بڑھایا گیا حالانکہ اشیائے تعیش پر ٹیکس لگا کر ٹیکسوں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے لیکن ہدف یہ ہونا چاہیے کہ غریب پرکم از کم ٹیکس لگے۔


سو ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلی بات ایف بی آر اور اس کے تمام ذیلی اداروں بشمول انکم ٹیکس میں تنظیم نوکرکے سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔ چونکہ کہنہ مشق ٹیکس افسران ملنا قدرے مشکل ہے اس لیے اگر سسٹم مضبوط ہوگا تو ٹیکس دینے والوں کی شرح خود بخود بڑھ جائے گی۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ 1980ءتک ٹیکس اداروں میں بھرتی ہونے والے افراد کو باقائدہ امتحانات کے ذریعے ملازمت دی جاتی تھیں مگر بعد میں یہ شرط ختم کرکے سیاسی بھرتیاں شروع ہوگئیں جس سے ٹیکس اداروں میں ٹیکس چوری عام ہوئی اور رشوت کو فروغ ملا۔

لہٰذا محکمہ انکم ٹیکس اور ایف بی آرکے تمام دیگر ذیلی ملحقہ اداروں کے افسران اور سٹاف کے لئے محکمانہ امتحانات حسب سابقہ لازمی قرار دیئے جائیں اور ان امتحانات سے ان کی تقرری اور ترقی مشروط ہوتا کہ کارکردگی کا اعلیٰ معیار قائم ہو سکے۔ ویلتھ ٹیکس ایکٹ 1962ءبحال کیا جائے۔ اس کے نفاذ سے ہر پاکستانی پر چیک اینڈ بیلنس قائم ہوگا جس سے کالے دھن سے اثاثوں میں اضافہ کی نشاندہی ہو سکے گی جو قابل مواخدہ ہوگا۔ انکم ٹیکس گوشوارے (ریٹرن) کو سادہ آسان بنایا جائے جو قومی زبان اردو میں ہو جسے کم تعلیم یافتہ تاجر خود سمجھ سکے اور پر کر سکے۔ ٹیکس چوری کی اطلاع دینے والوں کو حسب سابق ٹیکس چھپانے والے سے وصول ہونے والی ٹیکس کی رقم کا 25 فیصد انعام دیا جائے۔اگر ایسا کر دیا گیا تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہمیں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، امریکی امداد، چینی قرضے، سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔


ای پیپر