Source : Yahoo

منی بجٹ کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں گے،شہباز شریف
24 ستمبر 2018 (19:30) 2018-09-24

اسلام آباد : اپوزیشن نے حکومت سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے پاکستان کی نوید لگانے والوں نے آنکھوں میں دھول جھونکی جن ٹیکس چوروں کو ہم نے روکا تھا ان کو موجودہ حکومت نے چھوٹ دےدی .

امریکی سیکرٹری سے ٹیلی فون پر گفتگو کرکے قوم سے غلط بیانی کی گئی، سی پیک کے حوالے سے جو کنفیوژن پیدا کی اور بعض مشیروں نے دنیا کے اخباروں میں جو باتیں کیں وہ پاکستان کےساتھ بدترین دشمنی کے مترادف ہے ہم سی پیک کو کہیں نہیں جانے دیں گے اور اس کے راستے میں دیوار چین کی طرح کھڑے ہوں گے .

حکومت کی جانب سے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کےلئے کمیشن کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں  امید ہے کمیشن نتائج پر پہنچ کر رپورٹ پیش کریگا , پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منی بجٹ کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں گے ۔پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کےلئے کمیشن کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں، امید ہے کہ کمیشن نتائج پر پہنچ کر رپورٹ پیش کرے گا اور حکومت سے بھی امید کرتے ہیں کہ اس کمیشن کی رپورٹ کو جلد سے جلد مکمل کرکے ایوان اور قوم کے سامنے لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کو دوام بخشنے ایوان میں نہیں آئے ¾ ہم جمہوریت کو فروغ دینے اور اس کی شمع جلائے رکھنے کےلئے آئے ہیں، یقین دلاتا ہوں کہ حزب اختلاف اس معاملے میں حقائق کی روشنی میں بھرپور تعاون کرےگی۔شہبازشریف نے کہا کہ کسی بھی ملک کی طاقت اس کی معاشی حالت سے جڑی ہوتی ہے، انتہائی اعتماد سے کہتا ہوں کہ 2013 میں (ن) لیگ کی حکومت نے نواز شریف کی قیادت میں حکومت کو ملنے والے دہشت گردی اور بدترین لوڈشیڈنگ جیسے چیلنجز کو شکست دی، ملک کی خوشحالی سے جڑے منصوبوں کو مکمل کیا، ملکی تاریخ میں زراعت کا سب سے بڑا پیکج (ن) لیگ نے دیا جس میں اربوں روپے کی کھاد کی سبسڈی، بجلی سے چلنے والی ٹیوب ویلز پر ساڑھے پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی بھی شامل ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ تاریخ میں پہلی بار کسانوں کو بلا سود اربوں کے قرضے دیئے گئے، ملک کی زراعت کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کیا گیا، فخر ہے نوازشریف کی قیادت میں قوم کی بھرپور خدمت کی۔شہبازشریف نے کہا کہ کوئی دو رائے نہیں اور قوم کو اچھی طرح علم ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے ووٹوں کی نہیں بلکہ دھاندلی کی پیداوار ہے، عام انتخابات میں تبدیلی کے علم برداروں نے الف لیلیٰ داستانیں سنائیں، مجبور ہوکر یا جوش خطابت کے تحت بڑے سبز باغ دکھائے اور وعدے وعید کیے تبدیلی کی آس پر جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے وہ بھی آج پریشان ہوکر جگہ جگہ واویلا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کی نوید سنانے والے اور ملک کے اندر میرٹ کو یقین بنانے کا نعرہ لگانے والوں کے ذاتی دوست، خدمت گار اور امپورٹڈ مشیر ہرجگہ نظر آتے ہیں، پی ٹی آئی کے وہ لوگ جنہوں نے اس پارٹی کی بنیاد رکھی ان سے آج کوئی ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پروٹوکول نہ لینے اور سادگی کی دھول آنکھوں میں جھونکی گئی، امریکی سیکریٹری سے ٹیلی فون پر گفتگو کرکے قوم سے غلط بیانی کی گئی، چین کے وزیر خارجہ کو بجائے سرآنکھوں پر بٹھایاجاتا بلکہ انہیں انتہائی بے رخی سے خوش آمدید کہا گیا، سی پیک کے حوالے سے جو کنفیوژن پیدا کی اور بعض مشیروں نے دنیا کے اخباروں میں جو باتیں کیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ پاکستان کے ساتھ بدترین دشمنی کے مترادف ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ سی پیک ملک کی ترقی خوشحالی کا پیکٹ ہے، یہ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے سنہری موقع ہے، سی پیک سے متعلق اس حکومت کو ایسا کرنا زیب نہیں دیتا تھا، ہم سی پیک کو کہیں نہیں جانے دیں گے اور اس کے راستے میں دیوار چین کی طرح کھڑے ہوں گے۔شہبازشریف نے کہا کہ وزیر خزانہ نے منی بجٹ کی صورت میں مںی مہنگائی کا بم گرایا .

اسد عمر سے یہ توقع نہیں تھی اس طرح کا عوام دشمن بجٹ لائیں گے، متوسط طبقے کے لیے گیس کی قیمت بڑھادی گئی، آپ اشرافیہ کےلئے قیمت بڑھاتے تو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن نچلے طبقے پر اتنا بوجھ ڈالنا ظلم و زیادتی ہے، (ن) لیگ نے اس طبقے کے لیے پانچ سالہ دور میں ایک دھیلا گیس کی قیمت نہیں بڑھائی تھی، گیس کی قیمت بڑھے گی تو غریب کسان مارا جائے گا۔شہباز شریف نے کہاکہ ہم نے دنیا کی تاریخ کے سستے ترین بجلی منصوبے لگائے، دنیا کے ٹرائم فریم میں سب سے برق رفتار یہ منصوبے لگائے گئے،اس وقت وافر بجلی ملک میں موجود ہے لیکن جب گیس کی قیمت بڑھائیں گے تو پیداوار اور ایکسپورٹ مہنگی ہوں گی۔

اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے گیس کی قیمتیں فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بھی اس اضافے کو رد کردیا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم خوش قسمت ہیں کہ انہیں ورثے میں کوئی بحران نہیں ملا جب ہم آئے تو لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ایک چیلنج تھا، نوازشریف نے ایک بہترین سیاسی فیصلہ کیاجس کے بعد مسلح فواج، پولیس اور دیگر فورسز کی عظیم کامیابی اورقربانی سے ملک سے دہشت گردی کا کافی حد تک خاتمہ ہوچکا ہے، ضرب عضب اور رد الفساد نے ملک میں دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کےلئے بے پناہ کامیابی حاصل کی، اس طرح ملک میں امن قائم ہوا۔

شہبازشریف نے جب حکومت کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیا تو حکومت بنچوں کی جانب سے شور شرابا کیا گیا اور اپوزیشن نے بھی اس موقع پر اپوزیشن لیڈر کے حق میں بولنا شروع کردیا تاہم ڈپٹی اسپیکر نے معاملے کو رفع دفع کرکے اجلاس کو آگے بڑھایا۔قبل ازیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ تبدیلی کے دعوے دار حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بم گرایا ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منی بجٹ کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں گے ۔اجلاس کے دور ان فیصلہ کیا گیا نوازشریف کلثوم نواز کے چالیسویں تک سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں کریں گے ، مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کلثوم نواز کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔


ای پیپر