نئے پاکستان میں شہری بھی نئے ؟
24 ستمبر 2018 2018-09-24

وزیراعظم عمران خان نے غیرقانونی تارکین بنگالیوں، برمیوں اور افغانیوں کو قومی شناختی کارڈ اور ملکی شہریت دینے کااعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کی سندھ اور بلوچستان میں مخالفت کی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں صوبے سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کے اثرات سب سے زیادہ انہی کو بھگتنے پڑیں گے۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس پرجلد بازی کی بجائے اس کے مختلف پہلوؤں پر غیر جذباتی انداز میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ نقل مکانی یا دیس بدل کسی آبادی کا سائز بدل دیتی ہے۔ برما، بنگلہ دیش، افغانستان سے غیر قانونی نقل مکانی اور ان کی سندھ میں آبادکاری کی وجہ سے سندھ کے لوگوں کی شناخت کو سنجیدہ خطرہ ہے۔ یہ نقل مکانی سندھ کے سماجی معاشی اور سیاسی ماحول پر بری طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں جہاں یہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ زبان، مذہب ثقافت یہ کسی علاقے کی سماجی و معاشی اور سیاسی پیٹرن کو بھی بدل دیتے ہیں۔
مضبوط قوانین اور سیاسی قوت فیصلہ کی عدم موجودگی میں غیر قانونی تارکین وطن کو واپس ان کے ملک بھیجنا مشکل کام رہا۔ کیونکہ سیاسی جماعتیں ان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اور ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن صوبے میں معاشرتی اور لسانی تشدد کی بڑی وجہ رہے ہیں۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان ملکی سالمیت اور صوبے کی وحدت کے لئے اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ کی ورلڈ پاپولیش پالیسی 2005 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 32 لاکھ سے زائد تارکین وطن ہیں ۔ 2012 کی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تعداد پچاس لاکھ ہے۔ جن میں بیس لاکھ بنگلادیشی، پچیس لاکھ افغانی اور پانچ لاکھ دوسرے ممالک کی شہریت رکھنے والے ہیں۔ نقل مکانی اور ترک وطن دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک اندرون ملک اور دوسری غیر ممالک سے ۔ سندھ گزشتہ چار عشروں سے ان دونوں طرح کی نقل مکانی کرنے والوں کی آبادکاری سے گزر رہا ہے۔ پہلی نقل مکانی قیام پاکستان کے ساتھ ہوئی۔ لاکھوں کی تعداد میں بھارت سے مہاجرین سندھ میں آکر آباد ہوئے۔ ابھی مہاجرین پورے طور پر بحال اور ضم ہی نہیں ہوئے تھے کہ مشرقی پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ سندھ آگئے جن میں سے اکثریت نے کراچی میں ہی سکونت اختیار کی۔ یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں نوے کے عشرے تک جاری رہا۔ ابھی اس واقع کو دس سال ہی نہیں گزرے تھے کہ ضیاء الحق کی قیادت میں پاکستان امریکہ کی پراکسی جنگ کے لئے افغان جنگ میں کود پڑا۔ نیتجے میں عالمی اداروں اور عالمی قوتوں کی فرمائش پر لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں پناہ دینی پڑی۔ صرف اتنا ہی نہیں اس جنگ کی آڑ میں دنیا بھر سے ہزاروں جنگجو پاکستان پہنچ گئے۔ پاکستان کی حکومت ان کی سہولتکار بنی ۔ جن کی سرگرمیوں سے پاکستان تاحال نبرد آزما ہے۔غیر متوازن ترقی اور صنعت و تجارت کے ایک ہی صوبے میں ارتکاز کی وجہ سے اندرون وطن نقل مکانی ملک کے بالائی حصے سے سندھ کی طرف ہوئی۔ بعد میں شمالی علاقہ جات وغیرہ میں آپریشن کی وجہ سے بھی سندھ کے دارالحکومت کی طرف نقل مکانی ہوئی۔
متعدد تجربات موجود ہیں ۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ غیر قانونی دیس بدلی یا ترک وطن سیاسی عدم استحکام، سماجی، معاشی، لسانی اور گروہی کشیدگی کو جنم دیتی ہے اور اس میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ پاکستان کے کیس میں بنگلہ دیشی سیاسی طور پر اس پوزیشن میں ہیں کہ سندھ ، بلوچستان اورکے پی کے بعض حلقوں کے نتائج پر اثرانداز ہوں۔
پاکستان میں بنگالیوں اور روہینگا (برمیوں) کی آمد 1980کے عشرے میں شروع ہوئی اور 1988 تک جاری رہی۔ برمی آبادی کراچی کی ساٹھ سے زائد بستیوں مثلا برمی کالونی کورنگی، ارکن آباد، مچھر کالونی، بلال کالونی، ضیاء الحق کالونی اور گودھرا کیمپ میں رہائش پذیر ہے۔
2017 کے اعداد وشمار کے مطابق 14 لاکھ رجسٹرڈ افغانی ابھی تک پاکستان میں رہائش پزیر ہیں۔ وہ خیبرپختونخوا، کوئٹہ اور کراچی میں مقیم ہیں۔ ان میں سے اکثر پاکستان میں ہی پیدا ہوئے اور لسانی طور پر پختون ہیں۔ حالیہ مردم شماری میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آبادی کی شرح میں اضافہ افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق عرب نژاد ہزاروں افراد 1979میں سوویت یونین کے خلاف’’
افغان جہاد‘‘ اور بعد میں افغانستان میں امریکہ مداخلت کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لئے آئے تھے، وہ بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ سندھ کے سابق ایڈووکیٹ جنرل ضمیر گھمرو کے مطابق صوبے میں بائیس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ یہ تعداد سندھ کی آبادی کاپانچ فیصد بنتی ہے یعنی گلگت بلتستان کی آبادی سے دگنی تعداد میں ہیں۔غیر ملکی تارکین وطن کی پاکستان میں موجودگی غیر قانونی ہے لیکن حکومت پاکستان نے ان کو ملک سے نکالنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ 2010 میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں اضافے کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے وارننگ دی کہ تارکین وطن خود کو رجسٹر کرائیں یا ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ یہ فیصلہ ملک میں کام کرنیو الے غیر ملکی دہشتگرد گروپوں کے خلاف قدم کا حصہ تھا۔ لیکن اس اعلان پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں مضبوط قوانین کی عدم موجودگی میں غیر قاونی تارکین وطن میں اضافہ ہوتا رہا ہے جو بلا روک ٹوک ملک کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔
بنگالیوں، افغانیوں اور روہینگا کی آبادی کے کوئی مستند اعداوشمار موجود نہیں۔ تاہم بعض سروے ، تحقیق اور ان کے رہنماؤں سے انٹریوز کے نتیجے میں پتہ چلتا ہے کہ سولہ لاکھ بنگالی اور چار لاکھ روہینگا کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ شیخ محمد فیروز چیئرمین پاکستان بنگالی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں بنگالیوں کی دو سو سے زائد بستیاں ہیں جن میں سے 132 کراچی میں ہیں۔ باقی ٹھٹھہ، بدین، ٹنڈو آدم اور لاہور میں ہیں۔ بنگالی اور روہینگا زبان اور ثقافت کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ لیکن روہینگا عام طور پر خود کو بنگالی کے طور پر شناخت کراتے ہیں تاکہ یہ تاثر دے سکیں کہ وہ سقوط ڈھاکہ سے پہلے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔ یہ بات ان کو نیچرلائیز ڈسٹیزن شپ حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ان دو آبادیوں کی نمائندگی دو سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ پاکستان مسلم الائنس اور پاکستان مسلم لیگ شیر بنگال۔ روہینگا آبادی بڑی حد تک جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور اہل سنت والجماعت سمیت مذہبی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتی ہے۔
سیاسی طور پر یہ تارکین وطن صوبے کے دارالحکومت کی مختلف نشستوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔ 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں یونین اور تحصیل سطح پرکئی بنگالی اور روہینگا رہنما مختلف پارٹیوں کے ٹکٹ پر یا آزاد حیثیت میں ناظم اور کونسلرز کے طورپر منتخب ہوئے۔ پاکستان مسلم الائنس 2001 کے انتخابات سے پہلے قائم کی گئی اور مسلم لیگ شیر بنگال مارچ 2006 میں ۔ برمی اور بنگالی کمیونٹیز نے 2002 کے عام انتخابات میں ان پارٹیوں نے اپنے اپنے پلیٹ فارم سے حصہ لیا۔ پاکستان مسلم الائنس کوئی نشست تو حاصل نہیں کر سکا۔ تاہم کورنگی اور بن قاسم میں ان کو اچھے ووٹ ملے۔ بنگالی کمیونٹی کے ایک رہنما کے مطابق مشرف دور کے بلدیاتی انتخابات میں ہمارے 75لوگ منتخب ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم نے 2002 میں بنگالی اور برمیوں کے لئے ایک خصوصی کمیٹی ’’ پاکستان بنگالی کمیٹی‘‘ تشکیل دی۔ جس کے بعد پاکستان مسلم الائنس نے اپنی سرگرمیاں ترک کر دیں۔ ایم کیو ایم یا اس طرح کے لسانی سیاست کرنے والے گروپوں کے لئے ان کی سیاسی بقا کا بھی مسئلہ ہے۔
بنگالیوں کے بعض رہنما سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں بنگالیوں کو اپنے سیاسی جلسے کامیاب کرانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ 2012 میں ہزاروں بنگالیوں اور روہینگا لوگوں نے قائد مزار پر جمع ہوئے جہاں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کا اعلان کیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سابق صدر مشرف نے اپنے دور اقتدار میں ان کمیونٹیز کی پاکستان میں آکر آباد ہونے میں مدد دی ہے۔
روہینگا سالیڈرٹی آرگنائزیشن جماعت اسلامی سے منسلک ہے۔ کیونکہ برمی آبادی مذہبی سوچ رکھتی ہے۔ جبکہ دیگر مذہبی جماعتوں کی بھی حمایت اس آبادی میں موجود ہے۔ روہینگا اور بنگالی آبادی سمجھتی ہے کہ کراچی میں عسکریت پسند گروپوں کے خلاف آپریشن کے بعد بلدیاتی انتخابات آزادانہ ہونگے لہٰذا یہ لوگ اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کر پائیں گے۔
اندرونی اور بیرونی نقل مکانی کی وجہ سے سندھ کے آبادیاتی توازن میں تبدیلی واقع ہو گئی۔ سندھ کے لوگ اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ کہیں ا وہ اپنے ہی صوبے میں اقلیت میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ جیسے انڈیا کے تریپورہ اور سکم میں ہوا۔ شناخت ثقافتی تحفظ کے ساتھ سیاسی اور حکومتی کنٹرول ہاتھ سے نکل کر ایک غیر آبادی کے پاس نہ چلا جائے۔صورتحال اس وجہ سے بھی گمبھیرہو جاتی کہ باہر سے آئے ہوئے لوگ نہ ضم ہو رہے ، نہ مین اسٹریم میں آرہے ہیں۔ مضبوط قوانین کی عدم موجودگی اور موجود قوانین پر موثر عمل درآمد نہ ہونیکی وجہ سے معاملات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ ماحولیات کی تباہی، سرکاری زمینوں پر قبضے، اور کمیونٹیز کے درمیان کشیدگی نے بھی نت نئے مسائل پیدا کئے ہیں۔ پاکستان ویسے ہی آبادی کی شرح میں اضافہ کا شکار ہے ۔ آبادی کی شرح میں کمی کے لئے کروڑہا روپے خرچ کر رہا ہے۔یوں مزید تارکین وطن کو شہریت دینے سے اپنی آبادی میں مزید اضافہ کرے گا۔
غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے مجموعی طور پر زمین اور وسائل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ تنخواہیں کم ہو جاتی ہیں کیونکہ سستا مزدور دستیاب ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے لئے ملازمت کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں۔ان میں سے کئی ایک سرکاری شعبے کی سہولیات مثلا صحت تعلیم وغیرہ کی سہولیات بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس کی قیمت ٹیکس دہندگان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ ان سہولیات پر دباؤ بڑھ جانے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لئے ان سہولیات کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ غیر قانونی تارکین وطن نہ ہوں تو مقامی آبادی کے لئے متعدد ملازمتیں اور کاروبار کے مواقع نکل سکتے ہیں۔
افغانی، بنگالی اور روہینگا کمیونٹیز کے لئے شناختی کارڈ کا اجراء سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ نقل مکانی کا رجحان کراچی کی طرف زیادہ ہے۔ بڑے شہر ہونے کی وجہ سے روزگار اور کاروبار کے مواقع اور شہری سہولیات زیادہ ہیں اس کے ساتھ ساتھ شہر کے میٹروپولیٹن ہونے کی وجہ سے نئے آنے والے اپنی شناخت آسانی سے چھپا سکتے ہیں۔ بڑی تعدا دمیں اور بھانت بھانت کے غیر قانونی طور تارکین وطن کی موجودگی میں غیر ملکی قوتوں کو موقع ملے گا کہ وہ پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوں۔اس کے اثرات معیشت، سیاست، وسائل اور شہری سہولیات پر تو پڑیں گے ہی لیکن قومی سلامتی پر بھی پڑیں گے۔


ای پیپر