ذرا سنبھل کر چلیں
24 ستمبر 2018 2018-09-24

بھارتی آرمی چیف نے ایک اور شوشہ چھوڑا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کو آزادی کی امید دیکر اکسا رہا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا بدلہ لیا جائے اس لیے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے اسی لیے حکومت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کر کے پیغام دیا ہے۔ یہ سب کچھ تو مودی سرکار کو معلوم تھا۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ادھر سے خیر سگالی اور مبارک باد کا پیغام آیا۔ اچھی بات تھی ، دو ایسے ملکوں کے درمیان ایسے پیغام آنا جو دشمنی کی 71 سالہ تاریخ رکھتے ہوں جو تنازعات کے حل کے لیے دو بڑی جنگیں لڑ چکے ہوں پھر تاشقند سے اعلان لاہور تک تین معاہدے کر چکے ہیں۔ کارگل کی صورت حال نے نواز شریف کو مجبور کیا کہ وہ کلنٹن کے ساتھ اس روز ’’ اعلان واشنگٹن کریں جب وہائٹ ہاؤس میں بھی چھٹی تھی اور پوری قوم امریکی آزادی کا جشن منا رہی تھی۔ معاملہ بھی ایسا تھا کہ کار گل جنگ میں بھارتی فوج نے کافی نقصان اٹھایا تھا اس کی کارکردگی پر بھارت میں سوالات اٹھ رہے تھے۔ پھر کارگل جنگ کا ایسے موقع پر سوال چھیڑنا نامناسب سا لگتا ہے مگر مشرف کے فیصلے کی قیمت نواز شریف کو ادا کرنا پڑی تھی۔ مشرف کے ساتھی اس سوال پر بتا رہے ہیں کہ نواز شریف تو اس معاملے میں گناہ گار نہیں تھا مشرف کے سپہ سالار بنتے ہی سیاسی عزائم کھل کر سامنے آ گئے تھے نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو نواز شریف خطے میں امن کے لیے مودی کی وزیر اعظم بننے کی تقریب میں شریک ہوئے ۔ یہ بات تو نواز شریف سمجھتے ہیں اور پاکستانی قیادت کو علم ہے بھارت عالمی دباؤ پر مذاکرات کرتا ہے۔ تجارت شروع ہوتی ہے۔ بارڈر بھی کھل جاتے ہیں لوگوں اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آنا جانا شروع ہو جاتے ہیں اب پاک بھارت تعلقات جو کافی عرصے سے سرد خانے میں پڑے تھے بہتری کی طرف اس وقت بڑھے جب پاکستان میں ایک انتخاب کے ذریعے انقلاب برپا ہو گیا مسلم لیگ ن کی جگہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف مرکز بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی قائم ہو گئی۔ عمران خان وزیر اعظم بن گئے اس تبدیلی میں بھارتی سفیر مبارک باد کا پیغام لے کر آیا عمران خان نے بھی ویسے ہی جذبات کا اظہار کیا یہ امریکہ کی بھی خواہش تھی مگر یہ سب کچھ سفارتی آداب کی ضرورتوں کے مطابق تھا۔ اب پاکستان امریکہ کے لیے ماضی جیسا نہیں رہا۔ سیاسی حکومتوں کو اب سوچ سمجھ کر چلنا پڑتا ہے۔ عمران خان خارجہ پالیسی کے حوالے سے آگے بڑھ رہے تھے بھارت نے بھی پہلے تو نرمی دکھائی اور عمران خان نے ایک خط لکھ دیا مودی سرکار کو کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں کسی ایک کونے میں ششما سوراخ اور شاہ محمود قریشی ڈپلومیسی کے جو ہر دکھائیں گے۔ مگر اچانک بھارت کا یوٹرن سامنے آ گیا ایک پرانے قصے کا بہانہ بنا کر اس نے مذاکرات کی وہ میز ہی الٹ دی جو اقوام متحدہ کے کسی کونے میں سجائی جائے والی تھی۔ جس کا پاکستان کو کافی افسوس ہے ردعمل آیا وزیر اعظم کی طرف سے ۔ ہماری سول حکومتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہوئے بھی وہ کام کرتی ہیں جو ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اس معاملے میں سٹیک ہولڈر ہے یہ بات نواز شریف نے بھی نظر انداز کرتے ہوئے ماضی کے برعکس نریندر مودی کی تقریب میں جا پہنچے۔ دشمنوں سے تعلقات بحال کرنے کا اچھا موقع تھا پھر موقع جان کر بھارتی وزیر اعظم اچانک لاہور آ گئے اور ان کا استقبال بھی ہوا اور وہ جاتی عمرہ بھی گئے یہ کوئی نئی یا انہونی بات نہیں تھی اس سے پہلے آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کو نواز شریف اپنے دوسرے دور حکومت میں لائے تھے جہاں بھارتی وزیر اعظم نے مینار پاکستان کی بنیادوں پر لکھی ہوئی تحریروں کی تائید کر کے مانا کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہی پاکستان معرض وجود میں آیا پھر امریکہ نے نواز شریف کے موجودہ گزرے ہوئے دور میں نواز شریف کو افغانی ایشو کو حل کرنے کے لیے چنا۔ کافی پیش رفت ہوئی مگر اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے بھارت کے اشارے پر مذاکرات کی یہ میز ہی الٹ دی کہ میری شمولیت کے بغیر افغان ایشو کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود امریکہ، چین ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بیک ڈور سے مذاکرات ہوتے رہے مگر نواز شریف کے دور میں جب ملا منصور حملے میں مارا گیا تو یہ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ نواز شریف کے پورے دور میں ان واقعات کے بعد کوئی پیش رفت نہ ہو سکی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے افغانستان میں نائن الیون کے بعد کافی کچھ بدل گیا ہے طالبان مضبوط ہو رہے ہیں وہاں ایک پوری نسل 18 سال کی عمر کو پہنچ کر جوان ہو چکی ہے بھارت نے تعلیم اور کلچر کے ذریعے اپنی جڑیں افغانستان میں پکڑی ہیں طالبان جس نظام کی مخالفت کرتے رہے ہیں اب افغانستان میں بچیاں انگلش میڈیم سکولوں میں جاتی ہیں میڈیا اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ ٹی وی چینل اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ مگر انغانستان میں روشن خیالی کے ابھرتے ہوئے سورج کو طالبان بھی دیکھ رہے ہیں۔ انہیں بھی سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کو چنا تو کابل جا پہنچے۔ کابل نے تو امن کے لیے عمران خان سے مدد مانگ لی مگر یہاں تو مشکل یہ ہے کہ موجودہ حکومت امن کے لیے کس حد تک آگے جا سکتی ہے ۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں کافی اشارے ہیں ’’ سی پیک کو متنازعہ بنانے کے لیے پی ٹی آئی نے جو حکمت عملی بنائی تھی بلکہ اس پر متنازعہ سوالات رزاق داور نے اپنے ایک انٹرویومیں اٹھائے چین کا ردعمل اتنا سخت تھا کہ چینی سفیر نے سپہ سالار سے ملاقات کی اور تحفظات بتائے تو معاملے کو سیدھا کرنے کے لیے جو جوابی حکمت عملی تھی وہ سپہ سالار جنرل باجوہ کے تین روزہ دورہ چین کے بعد
سامنے آ گئی پھر کیا تھا پی ٹی آئی کی حکومت نے یو ٹرن لے لیا۔ اب موجودہ پاک بھارت تعلقات میں اب بھارت کی فوج بھی درمیان میں آ گئی ہے۔ وزیر اعظم نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے بعد سی پیک میں سعودی عرب کا جو نعرہ لگایا ہے اس میں پیش رفت ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ کیونکہ اب خاموشی کے بعد پاک بھارت تعلقات بہتر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اگر ملاقات ہو جاتی تو بہتر تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت کو ڈپلومیسی کے آداب کا علم نہیں ہے اس میں اسے مہارت کی ضرورت ہے اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ شاہ محمود قریشی کی ملاقات سے تعلقات کی جمی برف پگھلنے کا امکان تھا مگر بھارت نے امن کی کوشش کو ناکام ہی نہیں بنایا بلکہ بھارت کے آرمی چیف درمیان میں کود پڑے ہیں اور انہوں نے دھمکیاں دی ہیں اصل سوال تو کشمیر کا ہے۔ 71 سال پر پھیلی ہوئی کہانی ہے بھارت کو یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ وہ تحریک جو آزادی کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی کشمیریوں کی تیسری نسل اس کی رکھوالی ہے۔ بھارتی فوج کے سربراہ کو شاید احساس نہیں ہے وہ درمیان میں کود کر کشمیر ایشو کو ایک اور جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان کی
آزادی کا ایجنڈا نا مکمل ہے۔ دنیا بھر میں نئے اصول طے ہو رہے ہیں امکان ہے پاکستان بھارت کے درمیان موجودہ ماحول میں کوئی ملک جنگ نہیں جیت سکتا مگر یہ ضرور ہے کہ اس وقت اربوں لوگوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ کیا یہ سب کچھ مودی کو دوبارہ وزیر اعظم بنانے کی تیاریاں تو نہیں ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور کا بھارتی چیف کے لیے بر وقت مشورہ ہے، بھارت اور ان کے آرمی چیف کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیں امن خراب نہیں کرنا کیونکہ امن رہے گا تو سب ترقی کریں گے۔
یہ معاملہ تو بھارت کا ہے مگر اسے عمران خان کے لیے اندرونی طور پر مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ بیوروکریسی اور افسران کے لیے شکنجہ بتا رہے ، یہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی خود مختاری کا سوال ہے کہ پنجاب حکومت اور کابینہ کو بنی گالہ سے چلایا جا رہاہے بڑے اور اہم فیصلے کپتان خود کر رہے ہیں۔ تاثر ہے کہ استحقاق کے بغیر وزیر اعظم اپنے دوستوں کو نواز رہے ہیں 342 کے ایوان میں اسے اپنی ٹیم نہیں مل سکی یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ ٹیکنو کریٹس لائے گئے ہیں کسی نے وزیر اعظم کو غلط مشورہ دیا ہے کہ ایوب خان نے ملک کی حالت سنوارنے کے لیے کمیشن قائم کیے تھے آپ بھی ’’ ٹاسک فورس ‘‘ بنائیں۔ یہ بات تاریخی طور پر نا قابل تردید ہے کہ ایوب خان کے بنائے ہوئے سارے کمیشن ناکام اور بیکار تھے ان پر بے دریغ قومی خزانہ لٹایا گیا۔ ایسا ہی اب ہو رہاہے۔ ناکامی کا منظر ہر جگہ نظر آ رہا ہے۔ ایک بھگدڑ سی مچی ہے۔ کسی کے پاس یہ بات سوچنے کے لیے وقت ہے یا نہیں کپتان کی ’’ ریاست مدینہ‘‘ میں عوام کے حالات تبدیل نہیں ہو رہے۔ سب کچھ وہی نہیں بلکہ معاملات خراب ہو رہے ہیں۔ غریب کا چولہا آج بھی ویسا ہے۔ ہسپتالوں میں دوائیاں غائب ہیں۔ یوٹیلٹی بلوں نے تو غریب کا جیسے حشر ہی کر دیا ہے۔ مگر حکومت کی یہ حالت ہے کوئی شہری صدر کے پروٹوکول پر آواز بلند کرے تو اس کو پکڑ کر اندر کر دیا جاتا ہے۔ ایسی ہی حکمت عملی اپوزیشن کے بارے میں تیار ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دھاندلی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے جا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا کو حکومت کے خلاف ویسی آزادی ملے گی جیسی عمران خان لیتے رہے ہیں۔


ای پیپر