در کھلا جب گورنر ہاؤس پنجاب کا
24 ستمبر 2018 2018-09-24

پنجاب کے گورنر ہاؤس کے دروازے کھلے تو ایک بار پھر معلوم ہوا کہ ہم تہذیب وتمدن کی کس انسانی معراج پر پہنچ چکے ہیں۔ نئی حکومت نے اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے یہ عمل اس دعوے کے ساتھ کیا کہ حکومت میں شامل ہم لوگ سادہ زندگی گزاریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ’’نواقتداری رہبر‘‘ بڑھ چڑھ کر گورنر ہاؤس میں داخل ہونے والی تعداد کے اعلانات کررہے تھے۔
28اگست 2018ء کو میرا ایک کالم بعنوان’’پاکستانی سیاحوں سے خوف‘‘ شائع ہوا جس میں مَیں نے قومی کردار پر روشنی ڈالی تھی کہ میں ملک کے اندر جن نامعلوم یا غیر معروف مقامات کی سیاحت کرتا ہوں، اُن کا ذکر اپنے کالموں اور تحریروں میں کرنے سے ان نام نہاد پاکستانی سیاحوں سے ڈرتا ہوں جو قدرت کے عطاکردہ ان مناظر کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا ذوق ہی نہیں رکھتے۔ ہمارے کلچر میں تماش بینی نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ سڑک پر برپا موت سے لے کر کسی خوشی کے جشن تک، تماش بینی کی ہی ثقافت کو فروغ ملا ہے۔ اس کا سبب جہالت، ناخواندگی اور بوسیدہ تعلیم ہے۔ اور اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلم دنیا کا فخر قرار دیتے ہیں۔ اگر ’’محب وطن تارکین وطن‘‘ برا نہ منائیں تو وہ لٹل پاکستان جو نیویارک اور برطانیہ میں تارکینِ وطن نے آباد کیے ہیں، وہاں بھی اسی قومی کردار کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ ایسا سان فرانسسکو کے چائنا ٹاؤن یا پیرس میں چینی حتیٰ کہ ویتنامی تارکینِ وطن کے علاقے میں ممکن نہیں جو اِن ’’لٹل پاکستانوں‘‘ کا حشر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کی مقامی حکومتیں بھی ان ’’لٹل پاکستانوں‘‘ کو اسی انداز میں ڈیل کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ آپ نیویارک، بیروت یا استنبول سے پاکستان کے لیے اڑیں، وہی جہاز کی کمپنی جب استنبول یا دبئی سے فلائٹ بدلتی ہے تو فضائی کمپنی کا عملہ پاکستانیوں سے اُن کے قومی کردار کے مطابق ’’برتاؤ‘‘ شروع کردیتا ہے۔ اور پاکستانی مسافرین جہاز کی کرسیوں سے لے کر ٹائلٹ تک اپنے قومی کردار کے نشانات مرتب کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بیماریوں کی تشخیص نہ کی جائے تو علاج ممکن نہیں۔ مجھے اکثر جہازوں پر سفر کرنے والے ایسے کروڑپتی ملتے ہیں اور اُن کی درخواست ہوتی ہے کہ آپ پڑھے لکھے ہیں، ذرا یہ سفری فارم پُر کردیں۔ پہلے میں بھر دیا کرتا تھا، اب سبق کے طور پر کہتا ہوں، کروڑوں کمانے کی فکر ہے، کچھ علم بھی حاصل کرلیتے۔ جی، میں نہیں بھرتا۔
ہم نے تعلیم و علم کے بغیر ترقی کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اورنج ٹرین، میٹرو بس جیسے منصوبے، حکمرانوں کی اسی اپروچ کے آئینہ دار ہیں۔ اور ایسے ہی گورنر ہاؤس کے دروازوں کو کھول دینا۔ استنبول کا گُل حانے پارک ہزار نہیں، دوہزار سال قدیم حکمرانوں کے محل کا حصہ ہے۔ وہاں پر کیوں ایسا حشر نہیں ہوتا؟ اس لیے کہ قوم تعلیم وعلم سے بنتی ہے، شعبد ہ بازی سے نہیں۔ میٹرو بس یا اورنج ٹرین سے نہیں اور نہ ہی گورنر ہاؤس کے دروازے کھول دینے سے۔ یہ دونوں ہی عمل دراصل ایک ہی طرزِحکمرانی کی عکاسی ہے۔ چوں کہ ہمارے رہبروں نے طے کرلیا ہے،وہ
کریں جو فوری نظر آئے، دُور کی نہیں کبھی نہیں سوچی۔
امریکہ کے معروف مصنف اور Motivational Speaker سائمن سینیک نے موجودہ ترکی کی تبدیلی و ترقی سے لے کر معاشی ترقی پر اس کے بانی اتاترک کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، ’’لیڈرشپ اگلے انتخابات کے بارے میں نہیں بلکہ اگلی نسل کے بارے میں سوچنے کا نام ہے۔‘‘
ہماری تعمیرات سے لباس پہننے تک، ہم کس زوال کا شکار ہیں، کبھی ہم نے ان پر غور کیا؟ ہماری صحافت کے ہر شعبہ میں سیاست دانوں کے بیانات، حالاتِ زندگی اور اُن کے ذاتی معاملات کو زیربحث لانا، سیاست قرار دیا جاتا ہے۔ اسی لیے سیاست دانوں کی شادیاں، طلاقیں، سکینڈلز، اُن کے سادہ زندگی گزارنے کے اعلانات کو عام لوگوں نے سیاست سمجھ لیا ہے۔ حالاں کہ سیاست کا تعلق عوام کے حقوق اور ریاست کے فرائض سے ہوتا ہے جس میں سرفہرست تعلیم، اس کے بعد روزگار، صحت اور تحفظ شامل ہیں۔ گورنر ہاؤس میں داخل کیے گئے عوام کے برپا ہنگامے کو ہم قطعاً عوامی یا انقلابی قرار نہیں دے سکتے۔ یہ ایک لمپن (بازاری) کردار ہے جو پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے جان بوجھ کر اس نچلے طبقے میں پیدا کیا ہے۔ انہیں جاہل رکھو اور ان پر حکمرانی کرو۔ ان کے جذبات سے کھیلو اور کچھ نہیں۔ اگر گورنر ہاؤس میں داخل ہونے والے تمام موٹرسائیکل سواروں میں ایک فیصد ہی کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہوتو میں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ وہ اس قومی املاک کا یہ حشر نہ کرتے۔ کیوں کہ اُن کو قانون کا احترام سکھایا ہی نہیں گیا اور نہ ہی ریاست نے قانون کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
میرے جیسا جہاں گرد جس نے دنیا کے عجیب وغریب خطے اور حسین وادیاں دیکھ رکھی ہیں، مجھے اکثر ہم وطن ایسے ویڈیو کلپس بھیجتے ہیں جن میں خوب صورت وادیاں اور اُن میں آباد لاجواب بستیاں دکھائی جاتی ہیں۔ اور ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرتے کسی حافظ قرآن کی لاجواب قرات، جس میں اللہ تعالیٰ کے نعمتوں اور تخلیقات کا ذکر ہوتا ہے۔ ان ویڈیو کلپس بھیجنے والوں کو میں جواب میں لکھتا ہوں، خوب صورت وادی اللہ تعالیٰ نے بنائی، اس پر خوب صورت بستی کافروں نے آباد کی۔ سوئٹزرلینڈ، فرانس، چلی یا امریکہ کے کافروں کی بستی۔ اس میں آپ نے کیا کمال کیا ہے۔
جب قوموں کے رہبر وژن سے بے بہرہ ہوں اور دانشور ان راہبروں کے ’’دفاع کار‘‘ تو پھر ایسی ہی قومیں جنم لیتی ہیں۔ اور یہی کچھ ہوتا ہے جو گورنر ہاؤس میں برپا ہوا۔
آج کل ہمارے ہاں ترکی جانا ایک فیشن اور سٹیٹس سمبل ہے۔ مڈل کلاس کے جس شخص کو دیکھو، ترکی جا رہا ہے۔ میں بھی بار بار گیا ہوں، پہلی بار بہت کم عمری میں گیا ۔ چار روز پہلے پاکستان کے معروف Motivational Speaker جناب قاسم علی شاہ ایک گروپ کو لے کر ترکی آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ اس گروپ سے چند منٹ گفتگو کریں۔ میں نے ترکی کی تاریخ اور سیاست کے چند بنیادی نکات کر بولنے کے بعد کہا کہ سفر انسانوں کے لیے سبق اور سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تو اس حوالے سے آپ خود سے سوال ضرور کیجئے گاکہ آپ نے ترکی یا ترکوں سے کیا سیکھا۔ میں نے عرض کیا کہ خود میں نے ترکوں سے بہت کچھ سیکھا۔ ایک یہ کہ سیکولرازم کفر نہیں۔ ترکی شروع سے آج تک سیکولر ریاست اور سماج ہے اور اسلام خوب پنپ رہا ہے۔ دوسرا سبق اپنے وطن سے پیار کرنا۔ اور لاتعداد دیگر باتوں کے علاوہ بائیس سال کی عمر میں مَیں نے ترکوں سے جو پہلا سبق سیکھا کہ گھر کے ہرفرد کے تین جوتے ہونا لازمی ہیں۔ ایک باہر گلی بازار کے لیے،دوسرا جوتا جو گھر میں داخل ہوتے وقت پہنا جاتا ہے اور تیسرا جو باتھ روم کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اور ہر ترک گھر میں آنے والے مہمان کے لیے بھی یہی لازم ہے۔ ترکی میں اپنے پہلے سفر کے بعد میں (پاکستانی) نے اس پہلے سبق پر عمل کرنا شروع کردیا۔ کبھی ہم نے سوچا کہ سڑکوں پر پڑی غلاظت پر چلنے پھرنے کے بعد ہم اسی جوتے کے ساتھ اپنے کمروں، کھانے کے کمروں اور باورچی خانے تک پھرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دنیا بھر میں اسلامی حوالے سے کمال کے مسلمان ہیں۔ وہ اسلام جو طہارت کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ ہم اس نبیؐ کی امت ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد شہر کے درخت تک نہ اکھاڑنے یا ٹھیس نہ پہنچانے کا حکم دیا۔ وگرنہ فاتح لشکر تو آبادیوں کو روند کر اپنی فتح کی دھاک بٹھاتے ہیں۔ نبی آخرالزماںؐ پر جان قربان کردینے اور عشق رسولؐ کے دعوے کرنے والی قوم سے جب گورنر ہاؤس کے جیسے حشر برپا ہوں تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم دعوے کرنے میں کمال ہیں، لیکن عمل ندارد۔ ذاتی زندگی سے عملی زندگی تک۔ اپنی جھیلوں کو کوڑوں کے ڈھیر میں بدلنے والی قوم کیا تہذیب وتمدن میں آگے بڑھتی قوم قرار دی جاسکتی ہے؟ جنگلوں کو جلا دینے والے، پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر معدوم کردینے والے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں تو اس کے بعد سارے ملک میں آگ وتباہی کا جو کھیل کھیلا گیا، وہ بھی اس قوم کے ’’انقلابی‘‘ ہونے کی دعوے داری کا پول کھولتا ہے۔ میری بیوی جو کہ لبنانی ہیں، اس نے شیرپاؤ پُل سے گزرتے ہوئے نیچے والٹن ریلوے سٹیشن پر جلی ہوئی خاکستر ٹرینیں دیکھیں تو چونک کر پوچھنے لگی، ان کو کیا ہوا۔ میں نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کیے جانے کے بعد بپھرے عوام نے ان ٹرینوں کو جلا ڈالا۔ مزید حیران ہوئی کہ ان ٹرینوں میں انہوں (عوام) نے ہی سفر کرنا تھا۔ اپنی ہی ٹرینیں جلا دیں جن میں صرف وہی سفر کرتے ہیں۔ کسی حکمران طبقے کا اس سواری سے کیا تعلق۔
یہ سب کچھ ایسا کیوں ہے۔ اس لیے کہ ہم نے ترقی کے پیمانے مصنوعی ترقی کے مطابق بنا لیے۔ جوہڑوں کے گرد باغات اگائے جانے کا سیاسی فلسفہ، غربت اور جہالت کے سمندر میں میٹرو ٹرین سے اورنج ٹرین اور گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھول دینے سے انقلاب برپا کرنے کا فلسفہ۔ دھوکا ہے اور کچھ نہیں۔ ان بے وسیلہ عوام کو تعلیم دے دو۔ پھر دیکھو کہ کیسے بدلتا ہے پاکستان۔ یہ خود ہی بدل دیں گے پاکستان۔ مگر حکمران ان کو مختلف لولی پاپ تو دینے کے لیے بڑھ چڑھ کر مقابلے بازی کرتے ہیں، حکمران طبقات خوف زدہ ہیں، اسی لیے لتعلیم نہیں دیتے کہ کہیں یہ عوام واقعی پاکستان کو نہ بدل دیں۔


ای پیپر