مشکلیں اتنی پڑیں کہ آسان ہو گئیں۔۔۔!
24 ستمبر 2018 2018-09-24

یہ قانون فطرت ہے کہ مشکلیں خواہ حد سے بڑھ ہی جائیں لیکن انسان راضی بر رضا رہتے ہوئے صبر ،استقامت اور حوصلے سے ان کا سامنا کرے تو پھر ایک وقت ایسا آ جاتا ہے جب مشکلیں آسان ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔جیسے شاعر نے کہا تھا:
رنج سے خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر اتنی پڑیں کہ آساں ہو گئیں
مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف ، ان کی صاحب زادی محترمہ مریم نواز اور انکے داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کی صورتِحال سامنے آئی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے کے مطابق انہیں اڈیالہ جیل سے رہائی مل گئی ہے اور اس طرح ان کے لیے کچھ آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔بلا شبہ میاں محمد نواز شریف اور اس کے ساتھ ان کی فیملی گزشتہ بارہ ،چودہ ماہ سے بے پناہ مشکلات اور انتہائی تکلیف دہ صورتِ حال سے دو چار تھی۔۱۱ستمبر ۲۰۱۸ کو لندن کے ہارلے کلینک میں بیگم کلثوم نواز کا انتقال ہوا تو گویا یہ ان کے لیے انتہائی مشکل ، نا قابلِ برداشت اور پریشان کن صورت حال کا کلائمیکس (عروج)تھا۔محترمہ کلثوم نواز پچھلے کئی ماہ سے ہارلے کلینک میں اگر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھیں تو میاں محمد نواز شریف،محترمہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کورٹ نمبر ۱ اسلام آباد کے فیصلے کے تحت قید کی سزائیں بھگتنے کے لیے اڈیالہ جیل کی کال کوٹھڑیوں میں بند تھے۔میاں محمد نواز شریف ، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی پانچ دنوں کے لیے پیرول پر رہائی اور محترمہ کلثوم نوازکے جنازے اور رسم قل میں شرکت اور غم کے لمحات اپنے قریبی عزیزوں، رشتے داروں اور بہی خواہوں کہ ساتھ گزار لینا اگرچہ کسی حد تک ہوا کا ٹھنڈا جھونکا تھا لیکن پیر کی شام کو یہ ٹھنڈا جھونکا دوبارہ لُو کے گرم تھپیڑوں کی صورت میں تبدیل ہو گیا تھا جب ان کو دوبارہ اڈیالہ جیل کی کال کوٹھریوں میں پہنچا دیا گیا ۔ تاہم بہت سارے لوگوں بلخصوص ماہرین قانون کا خیال تھا کے اگلے ایک دو دنوں میں اسیران دوبارہ آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہوں گے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کے فاضل ارکان میاں محمد نواز شریف، مریم نواز، اور کیپٹن (ر) صفدر کو نیب کورٹ کی طرف سے ملنے والی سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران بار بار یہ سوال اُٹھا رہے
تھے کہ کیا لندن فلائٹس کی ملکیت کے ناقابلِ تردید ثبوت ملے ہیں یا کوئی ایسی دستاویز یا شہادت ملی ہے جس سے اِن فلیٹس کی ملکیت کا تعلق نواز شریف سے جوڑا جا سکے۔ اگر اتنی بڑی تفتیش کے بعد بھی نواز شریف کا تعلق اِن فلیٹس سے جوڑا نہ جا سکا تو پھر ہم کیسے یہ فرض کر لیں ؟بار بار اِن سوالات کے پوچھے جانے کا یہ مطلب لیا جا رہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ نیب کورٹ کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں محمد نوازشریف، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کو ملنے والی سزاؤں سے مطمئین نہیں ۔
نیب کورٹ نمبرIاسلام آباد کی طرف سے 6جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سامنے آیا تو اس میں واضح لفظوں میں کہا گیا کہ استغاثہ (نیب) میاں محمد نوازشریف کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کے کوئی شواہد نہیں لا سکا۔تاہم قانونی حلقوں کے لیے یہ اَمر تعجب خیز تھا کہ باوجود اِس کے کہ نیب عدالت میں نہ تو میاں محمد نوازشریف کے وسائل (آمدنی) کی تفصیل پیش کر سکا اور نہ ہی اثاثوں کی مالیت سامنے لا سکا۔ اس کے باوجود میاں محمد نواز شریف کو 10سال قید اور 80لاکھ پاؤنڈ (1ارب 10کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ ، محترمہ مریم نواز کو 7سال قید اور 20لاکھ پاؤنڈ (30کروڑ روپے سے زائد )جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 1سال قید کی سزائیں سنائی گئیں ۔ یہ سزائیں اَب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کی طرف سے معطلی کی درخواستیں منظور کرنے کے بعد معطل ہو چکی ہیں۔ تاہم اِن سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہونا باقی ہے۔ اس کے ساتھ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا بڑی عجلت میں دیا گیا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ نیب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کی معطلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بقول اپنے اپنی آخری ایننگز (زندگی کا بقیہ حصہ )یادگار بنانا چاہتے ہیں اِس لیے انہیں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان اِتنی عجلت میں کرنا پڑا ۔ ورنہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کی طرف سے تفصیلی فیصلے کے آنے تک اپیل کے اعلان کا انتظار کر سکتے تھے ۔ شاید جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سمجھتے ہوں کہ انتظار کرنے سے کہیں اُن سے گاڑی چھوٹ نہ جائے جیسے 2007میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اُن کے منصب سے معطلی کے بعد جسٹس جاوید اقبال کی بطورِ چیف جسٹس( قائم مقام) تقرری تو کر دی گئی تھی لیکن اُن سے سینئر جج آنجہانی رانا بھگوان داس جو چھٹی پر بیرونِ ملک تھے وہ فی الفور وطن واپس لوٹ آئے اور اُنہوں نے رنگ میں بھنگ ڈال دی اَور جناب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنی ایننگز کو یادگار بناتے بناتے رہ گئے۔
میاں محمد نواز شریف محترمہ مریم نواز، اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو درپیش مشکلیں فی الوقت آسان ہو گئی ہیں لیکن کیا یہ صورت حال ایسے ہی بر قرار رہے گی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں نواز شریف ،ان کی بیٹی اور داماد کو ملنے والی سزاؤں کے بارے میں دائر اپیلوں کی سماعت ہونا باقی ہے۔ ہائی کورٹ کا سزاؤں کو برقرار رکھنے یا کالعدم قرار دینے کا کیا فیصلہ آتا ہے وقت پر ہی پتہ چلے گا۔ تاہم قانونی ماہرین کے نزدیک شواہد بہرکیف ایسے ہیں کہ ہائی کورٹ سزاؤں کے خلاف اپیلوں کو منظور کر سکتی ہے۔ ایسا ہو بھی جاتا ہے تو میاں محمد نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ مزید 2ریفرنس نائب کورٹ نمبرII-، اسلام آباد میں زیر سماعت ہیں۔ محترم جج اِن ریفرنس میں کیا فیصلہ دیتے ہیں کیا وہ بھی نیب کورٹ نمبر1-کے جج محترم محمد بشیر کی طرح کا فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ جنہوں نے ایون فیلڈ ریفرنس میں واضح طور پر یہ لکھنے کے باوجود کہ استغاثہ (نیب) میاں محمد نوازشریف کے خلاف کرپشن اور بدعنوان ثابت نہیں کر سکا۔ انہیں آمدن (جس کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے) سے زائد اثاثے (لندن فلیٹس جن کی ملکیت کا بھی کوئی حتمی ثبوت باہم نہیں پہنچایا گیا رکھنے کے جرم میں طویل قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنا دیں۔ شاید یہی امکانی صورتِ حال ہے یا امکانات کا جہانِ دیگر ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب فواد حسین چوہدری نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ نواز شریف کا جیل آنا جانا رہے گا۔ جلد وہیں پہنچایا جائے گا جہاں کچھ دِن پہلے تھے۔ گویا فواد چوہدری کویقین ہے کہ نیب کورٹ میں دائر دوسرے ریفرنسز کے فیصلے میاں محمد نوازشریف کے خلاف آسکتے ہیں۔ یا پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزاؤں کی معطلی کا فیصلہ آگے جا کر کالعدم بھی ہو سکتا ہے۔ فواد چوہدری کو اسی طرح کے یقین کا اظہار کرنا چاہیے کہ اُن کا اپنا اطمینان اور اُن کی حکومت کا استحکام میاں محمد نوازشریف کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہونے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔


ای پیپر