نئے پاکستان والوں کے لیے پرانا چیلنج ۔۔۔؟؟
24 ستمبر 2018 2018-09-24

’’توبہ ٹاؤن‘‘ ۔۔۔ جدید ترئین رہائشی موج میلوں سے آراستہ لاہور میں بیٹھے ’’دور بین‘‘ کے ذریعے اسلام آباد کا نظارہ ۔۔۔ دریائے راوی سے صرف آٹھ منٹ کی مسافت پر بڑا گندہ نالہ بالکل پاس (ہر گندگی فٹا فٹ صاف) ۔۔۔ آج ہی بکنگ کرائیں جونہی مالک کا انعامی بانڈ نکلا کشادہ سڑکوں کی تعمیر شروع ہو جائے گی ۔۔۔ پہلے آئیے ۔۔۔ آتے ہی پھنس جائیے ۔۔۔ ’’توبہ ٹاؤن‘‘ ۔۔۔؟!
بہت سال پہلے میں نے ایسے یا اس سے ملتے جلتے اشتہارات اخبارات میں پڑھے ۔۔۔ یا ریڈیو، ٹی وی پر شور مچتا محسوس کیا ۔۔۔ کلیم حلیم ہمارے بچپن کے دوست ہیں ۔۔۔ مگر وہ امریکہ گئے اور رابطہ ختم ہو گیا، جیسے کہ ہوتا آیا ہے ۔۔۔ آج سے دس سال پہلے پاکستان آئے تو کہیں سے تلاش کرتے کرتے ہم تک آ پہنچے ۔۔۔ یار رائیونڈ ’’کھوکھروں کی بستی‘‘ سے ہوتے ہوئے جانا ہے ۔۔۔ چلو حضورِ والا ۔۔۔ ’’اِدھر کی بات اُدھر کی بات‘‘ ۔۔۔ ’’یار بڑی گاڑی رکھو یہ کیا پھٹیچر گاڑی لیے پھرتے ہو‘‘ ۔۔۔ میرے پاس ’’فراری‘‘ ہے امریکہ میں ۔۔۔ ’’میں چپ رہا ‘‘ ۔۔۔ پھر میں نے آہستہ سے پوچھا ۔۔۔ کیا ’’کچھ کرنے‘‘ کے بعد آسانی رہتی ہے اس ’’فراری‘‘ میں فرار ہونے پر کچھ دولت بھی محفوظ کی کلیم حلیم؟ ۔۔۔ ویسے تم بچپن میں ہی کنجوس تو کافی تھے‘‘ ۔۔۔ ؟ کلیم حلیم خوب ہنسا ۔۔۔ ہاں یار کچھ پس انداز کر رکھا ہے تمہارے شہر میں بھی تین چار پلاٹ لے رکھے ہیں ۔۔۔ گاڑی چلتی رہی یہاں تک کہ ’’ہائیر‘‘ والوں کی فیکٹری گزری اور رائیونڈ آ گیا ۔۔۔ ’’یار تبلیغی مرکز کی زیارت بھی کراؤ‘‘ ۔۔۔؟!
میں نے گاڑی دائیں موڑ لی ۔۔۔ ایک ویران سی جگہ ہے ۔۔۔ یہاں اکتوبر میں ’’اجتماع‘‘ ہوتا ہے، اس وقت لاکھوں لوگ آتے ہیں سارا ’’سال یہ ویران‘‘ جگہ رہتی ہے ۔۔۔ شاید جنات قیام پذیر ہوں؟ ۔۔۔ اُمید ہے بابا یحییٰ خان اپنی کسی نئی ضخیم کتاب میں یہاں جنات کے قیام کا ذکر کریں گے ۔۔۔؟ ’’یہاں کچھ رہائشی کالونیاں بنی تھیں‘‘ ۔۔۔ وہ بڑبڑایا ۔۔۔ ’’کلیم حلیم ۔۔۔ ابھی ہم کوٹ رادھا کشن جا رہے ہیں یہاں سے چھانگا مانگا جنگل آ جائے گا‘‘ ۔۔۔؟ جہاں آج کل انسان جانوروں کی کھال پہن کر پھرتے ہیں اور ’’ڈاکو‘‘ کہلاتے ہیں ۔۔۔ یہ بڑی خوفناک مخلوق ہے ۔۔۔ اس وقت یہ مخلوق سب سے زیادہ با اثر ہے ۔۔۔
وہ ۔۔۔ اصل میں ۔۔۔ وہ ناں ۔۔۔ یار ۔۔۔؟!
کلیم حلیم ۔۔۔ یہ کیا ہے کہاں کھوئے ہوئے ہو ۔۔۔ کچھ تو بتاؤ ۔۔۔؟ ہماری منزل کیا ہے ۔۔۔ کس مشن پر اِدھر آئے ہو ۔۔۔؟! تم کبھی بھی ’’اُلو‘‘ تو نہیں تھے ۔۔۔ لیکن آج لگ رہے ہو ۔۔۔؟
وہ ۔۔۔ یار ۔۔۔ وہ ناں ۔۔۔ دس بارہ سال پہلے اشتہارات آئے تھے ۔۔۔ وہاں ’’رائیونڈ روڈ پر پرائم لوکیشن‘‘ ۔۔۔ نہایت خوبصورت سستی ۔۔۔ ’’توبہ ٹاؤن‘‘ ۔۔۔ میں نے اور بہت سے دوستوں نے رابطہ کیا ۔۔۔ بہت خوبصورت لٹریچر بھیجا گیا ۔۔۔ کچھ خواتین روزانہ فون کرتیں کہ تھوڑے سے پلاٹ باقی رہ گئے ہیں موقع ضائع نہ کریں ورنہ پچھتائیں گے ۔۔۔ ہم نے تین تین چار چار پلاٹ بک کرائے اور لاکھوں روپے اُن کو بھیج دئیے پھر ہم نے رابطہ کیا تو ۔۔۔ ایک بزرگ بابا جی نے فون اُٹھایا ۔۔۔؟
میں ۔۔۔ ’’جی ۔۔۔ توبہ ٹاؤن کی مینیجر ’’راحیلہ‘‘ سے بات کرائیں‘‘ ۔۔۔؟
بابا جی ۔۔۔ ’’پتیلہ‘‘ ۔۔۔ چاول پکا نے ہیں‘‘ ۔۔۔
میں ۔۔۔ ’’راحیلہ ۔۔۔ سے بات کرائیں‘‘ ۔۔۔؟
بابا جی ۔۔۔ ’’رنگیلا‘‘ سے ۔۔۔ کھاؤں کھاؤں ۔۔۔ کھاؤں کھاؤں ۔۔۔ وہ تو مر گیا تھا ۔۔۔ کھاؤں کھاؤں ۔۔۔ اور فون بند ۔۔۔؟
پھر میں نے اپنے دوست انجم خلیلی سے کہا ۔۔۔ یار یہ مینیجر لڑکیاں کہاں گئیں، تم فون کرو‘‘ ۔۔۔؟
انجم خلیلی نے فون کیا تو ٹیپ چل رہی تھی ۔۔۔ پھر انجم خلیلی نے پہلے والے نمبر پر ملایا ۔۔۔ پھر وہی بابا جی بول رہے تھے ۔۔۔؟
انجم خلیلی ۔۔۔ ’’ہیلو ۔۔۔ توبہ ٹاؤن کی کسی مینیجر سے بات کرائیں ۔۔۔؟ پلاٹ کی بات کرنی ہے‘‘ ۔۔۔؟
بابا جی ۔۔۔ ’’ٹاٹ کی بات کرنی ہے ۔۔۔ کھاؤں کھاؤں ۔۔۔ کھاؤں کھاؤں پھر فون کٹ گیا‘‘ ۔۔۔؟
ہم سب کو فکر لاحق ہوئی ۔۔۔ دوستوں نے اب تنگ آ کر مجھے بھیجا ہے کہ موقع پر جا کر صورتحال معلوم کرو ۔۔۔ یہ ہیں رسیدیں وغیرہ ۔۔۔ اس نے کاغذات کا پلندہ میرے آگے رکھ دیا ۔۔۔ میں نے گاڑی درخت کے نیچے کھڑی کی ۔۔۔ دور سے دو لڑکے موٹر سائیکل پر آ رہے تھے ۔۔۔ سیدھا اُنھوں نے موٹر سائیکل کلیم حلیم والی سائیڈ پر لگائی اور نہایت چمکدار خوبصورت پستول اُس کی کنپٹی پر رکھ دیا ۔۔۔؟
’’دھڑ‘‘ ۔۔۔ کلیم حلیم ۔۔۔ بے ہوش ہو کر گر پڑا ۔۔۔ ڈاکو لڑکے بھی گھبرا گئے ۔۔۔ اُنھوں نے ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی‘‘ ۔۔۔ یعنی بے ہوش کلیم حلیم کی گھڑی اتاری اور بھاگ نکلے، دو چار منٹ میں پانی کے چھینٹے مارے تو کلیم حلیم ہوش میں آیا ۔۔۔
’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔ وہ چیخا ۔۔۔؟
گاڑی اُس کی صدا ’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔ سے خود بخود رُک گئی ۔۔۔ ’’چار لاکھ چالیس ہزار کی تھی ۔۔۔ اصلی رولیکس‘‘ وہ چیخا ۔۔۔ ’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔؟
یا اللہ ۔۔۔ یہ گھڑی پر قربان نہ ہو جائے ۔۔۔ میں بھی گھبرا گیا ۔۔۔ اُس کی حالت دیکھ کر ۔۔۔
چھوڑو ۔۔۔ ’’توبہ ٹاؤن‘‘ کو آؤ تھانے چلیں ۔۔۔ وہ ۔۔۔ اپنی کلائی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔۔۔؟
’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔ کلیم حلیم باقاعدہ رو دیا ۔۔۔ میں نے گاڑی تھانے کی طرف موڑ لی ۔۔۔
تھانے کے اندر جانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا ۔۔۔ ’’وہ جوس کے ٹھنڈے ڈبے جو ہم بڑی تھرماس میں برف ڈال کر لاہور سے لائے تھے تھانے کے مین گیٹ پر ہمارے کام آئے اور ہم تھانے کے منشی تک پہنچ گئے‘‘ ۔۔۔؟!
’’توبہ ٹاؤن‘‘ کے سلسلہ میں ۔۔۔ میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔ ’’آپ بھی‘‘ ۔۔۔ ’’ہم تو یہاں چور ڈاکو کیا پکڑیں گے سارا دن جو بھی سائل آتا ہے ’’توبہ ٹاؤن‘‘ والوں کا ڈسا ہوا ہوتا ہے اور ہم اُسے تسلی تشفی دے کر واپس بھیج دیتے ہیں کہ ’’توبہ ٹاؤن‘‘ ایک فراڈ سکیم تھی ۔۔۔ اُس کا مالک مر چکا ہے اُس کے بیٹے BMW اور مرسیڈیز پر پھرتے ہیں اور وہ لڑکیاں جو وہاں مینیجر بن کر بات کرتی تھیں ۔۔۔ اپنی سال سال کی تنخواہ کے لیے تھانوں میں دھکے کھاتی پھرتی ہیں ۔۔۔ سنا ہے اُن سب نے MBA کیا ہوا تھا ۔۔۔ منشی بولا ۔۔۔؟
’’کلیم حلیم ۔۔۔ کیوں چپ ہے‘‘ ۔۔۔؟
میں نے سوچا اور بائیں کرسی پر نظر ڈالی ۔۔۔ ’’ارے ۔۔۔ یہ تو بے ہوش ہو چکا ہے ۔۔۔ نہ جانے کب کا ۔۔۔؟
تھانے کے منشی جی نے اُن کے آگے آدھا گلاس پانی کا جو پڑا تھا شاید پینے کے لیے رکھا تھا ۔۔۔ سارا کلیم حلیم کے منہ پر انڈیل دیا ۔۔۔ وہ کچھ ہوش میں آیا ۔۔۔؟
’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔ ’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔
’’ہمیں گائیڈ کریں‘‘ ۔۔۔ میں نے منشی جی سے کہا ۔۔۔ سات آٹھ کلائنٹ پہلے بھی ’’توبہ ٹاؤن‘‘ کے سلسلہ میں انسپکٹر صاحب کے پاس بیٹھے ہیں ۔۔۔ وہ نکلیں گے تو آپ چلے جانا ۔۔۔ منشی نے محبت کے ساتھ مشورہ دیا ۔۔۔
’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔ کلیم حلیم کو جب بھی ہوش آتا وہ پھر چلانے لگتا ۔۔۔؟
مجھے وہ تاریخی محاورہ تھوڑی تبدیلی کے ساتھ یاد آ گیا ۔۔۔
’’توبہ ٹاؤن سے گرا‘‘ ۔۔۔ ’’ہائے میری گھڑی‘‘ ۔۔۔ ’’پہ اٹکا‘‘ ۔۔۔؟؟!!!


ای پیپر