وزیر اعظم عمران خان نو ٹس لیں!
24 ستمبر 2018 2018-09-24

کوئی بد بخت ہی ہو گا جو پانی کے ذخیرے تعمیر کرنے،اس سے شہروں کو پانی مہیا کرنے اور بجلی پیدا کرنے کا مخالف ہوگا۔وہ شخص ملک کا غدار ہی ہو گا جو ڈیم بنانے کی مخالفت کریگا۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ 2008 ء سے 2013 ء تک پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس اہم مسئلے پر کو ئی توجہ نہیں دی۔آصف علی زرداری ،یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا۔2013 ء میں نوازشریف بھاری اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہو ئے۔وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ پیپلز پارٹی کو عوام نے بجلی کی ناروا لو ڈشیڈنگ کی وجہ سے مسترد کیا۔چار سال وہ بھی وزیر اعظم رہے،لیکن انھوں نے بھی پانی کے ذخیر ے تعمیر کرنے پر وہ توجہ نہیں دی جو دینی چا ہئے تھی۔آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی دس سالہ حکومتوں میں زیر زمین پا نی کی سطح خطر ناک حد تک نیچے گر گئی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں راول لیک خشک ہو گیا تھا۔اسلام آباد اورراولپنڈی کے شہری پانی کی بوند بوند کو اس دوران تر ستے رہے۔کراچی ،لاہور،پشاور اور کوئٹہ میں بھی صورت حال ابھی تک خطر ناک ہی ہے۔جس پر فوری تو جہ کی ضرورت تھی ،لیکن آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف پانی کے معاملے میں دس سال تک غفلت کا مظاہر ہ کرتے رہے ۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثا قب نثار نے اس اہم مسئلے پر از خود نو ٹس لیا۔ یہ نو ٹس اس لئے ضروری تھا کہ گز شتہ دو حکومتوں نے اس طر ف کو ئی تو جہ نہیں کی،جس کی وجہ سے پورے ملک کی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔چیف جسٹس نے از خود نو ٹس مقدمہ میں دیا مر بھا شا ڈیم کی تعمیر او ر اس کے لئے فنڈ بنانے کا فیصلہ دیا۔پانی کے ذخیرے نہ بنانے پر عدالت عظمیٰ کا از خود نو ٹس بالکل درست فیصلہ تھا۔لیکن ڈیم بنانے کے لئے عدالت نے جو طریقہ کار وضع کیا اس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، اس لئے کہ ڈیم بنانا اور اس کے لئے وسائل جمع کرنا عدالتوں کا کام نہیں۔عدالت کو چا ہئے تھا کہ وہ وفاقی حکومت ،وفاقی وزارت پانی وبجلی اور متعلقہ ادارے واپڈا کے چیئرمین کو طلب کرتے ۔ان سے تحریری طور پر ضمانت لیتے کہ وہ کون سے ڈیم کو تعمیر کرسکتے ہیں۔ تکمیل کی مدت کیا ہو گی۔وسائل کہاں سے آئیں گے۔لیکن عدالت نے اس کے برعکس فیصلہ دیا ،جس سے صورت حال اور پیچیدہ ہو گئی۔
چیف جسٹس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اس اہم مسئلے پرفوری نو ٹس لیا۔لیکن انھوں نے بھی ڈیم کی تعمیر میں وہی غلطی کی جو اس سے پہلے عدالت کر چکی تھی۔ضرورت اس بات کی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان ،وفاقی وزارت خزانہ، وفاقی وزارت پانی و بجلی اور متعلقہ ادارے واپڈا سے مشاورت کرتے اور ڈیم کی تعمیر کے لئے منصوبہ بندی کرتے ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جب بھی کوئی حکومت میگا پراجیکٹ شروع کرتی ہے تو سب سے پہلے اپنی جیب یعنی قومی خزانے کی طر ف دیکھتی ہے کہ جو منصوبہ وہ شروع کرنے جارہی ہے ،اس کے لئے اپنی جیب یعنی قومی خزانے میں سے کتنا مختص کیا جاسکتا ہے۔اس کے بعد بین الاقوامی اور مقامی اداروں سے قرض کے لئے رابطہ کیا جا تا ہے۔لیکن وزیر اعظم عمران خان نے یہ تمام ہوم ورک مکمل کئے بغیر بیر ونی ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کی۔حالانکہ یہ اقدام وزیر اعظم کو سب سے آخرمیں کرنا چا ہئے تھا۔
وزیر اعظم عمران خان کا ڈیم تعمیر کرنے پر فوری توجہ قابل ستا ئش ہے۔ اس لئے کہ ڈیم بنانے میں کئی سال لگتے ہیں۔یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ انھوں نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد اس مسئلے کی سنگینی اور حساسیت کا احساس کرتے ہوئے اس کو حل کرنے پر تو جہ دی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چند ے سے اس میگا پراجیکٹ کی تکمیل ممکن ہو سکے گی؟کیا چندے کی اپیل سے پہلے حکومت نے منصوبہ بندی کی ہے؟ یقینی طور پر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے کوئی ٹھو س منصوبہ بندی کی نہیں ہے۔اگر انھوں نے منصوبہ بندی کی ہوتی تو سب سے پہلے وہ قوم کو بتا تے کہ دیا میر بھا شا ڈیم کی تعمیر پر جو لاگت آئے گی وفاقی خزانہ یا سالانہ بجٹ میں اس کے لئے اتنی رقم مختص کی گئی ہے۔پھر وہ قوم کو بتاتے کہ مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے قرض کے لئے رابطہ کیا گیا ہے۔ ان کی طر ف سے جو بھی جواب آتا اس سے قوم کو آگاہ کرتے۔ روس،چین،سعودی عرب اور تر کی جیسے دوست ممالک سے رابطہ کرتے، جو ظاہر سی بات نہیں کیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت اگر واقعی ڈیم بنانے میں سنجید ہ ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میگا پراجیکٹ کے لئے منصوبہ بندی کریں۔سب سے پہلے قومی خزانے سے سالانہ بجٹ میں اس اہم منصوبے کے لئے رقم مختص کریں۔اس کے بعد مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے قرض کے لئے رابطہ کریں۔پھر دوست ممالک سے تعاون کی اپیل کریں۔اس کے بعد تمام ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سے اپیل کریں کہ وہ کم از کم ایک مہینے کی تنخوا ڈیم فنڈ میں جمع کریں۔ اس کے بعد پارٹی کے امیر ممبران سے تعاون کی اپیل کریں۔پھر بھی اگر کوئی کمی ہو ، تو تمام سرکاری محکموں کی ملا زمین سے دو دنوں کی کٹوتی کرتے۔اگر پھر بھی یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو تا ،تو پھر بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کرتے۔پھر بھی اگر کوئی کمی رہ جاتی تو پوری قوم سے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے چندے کی اپیل کرتے۔پھرممکن ہے کہ چندے سے یہ ڈیم مکمل ہو جائے ،لیکن بغیر منصوبہ بندی کے ہوش کی بجائے جوش سے اتنا بڑا منصوبہ مکمل کرنا ممکن نہیں۔پشاور میں بی آر ٹی کا منصوبہ ہوش کی بجائے جو ش سے شروع کیا گیا تھا ۔وہ منصوبہ ابھی تک وہاں کے عوام کے لئے عذاب بنا ہو ا ہے۔سوات ایکسپریس وے کا منصوبہ بھی بغیر کسی منصوبہ بندی کے شروع کیا گیا تھا۔سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اس منصوبے کا افتتاح بھی کیا تھا ،لیکن تاحال یہ منصوبہ بھی مکمل نہیں کیا جا سکا۔
ایک اور اہم مسئلہ جس پر وزیر اعظم عمران خان کو فوری طور نو ٹس لینا چا ہئے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کرایوں میں اضافہ کردیاہے۔یہ اضا فہ انھوں نے اس لئے کیا ہے کہ جو بھی اضافی امدن ہو گی وہ ڈیم فنڈ میں جمع کی جائے گی۔پیسے وہ غریب عوام سے وصول کریں گے اور نام ریلوے کا ہو گا کہ ریلوے نے ڈیم فنڈ میں اتنی رقم جمع کی ہے۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ اس ڈرامہ بازی اور واردات کا فوری نو ٹس لیں ۔ ڈیم فنڈ کے نام پر غریب عوام سے ریل کے ٹکٹ پر جو اضافی رقم وصول کی جارہی ہے اسے فوری طور پر ختم کردیں۔ وفاقی وزیر شیخ رشید کو متنبہ کردیں کہ اگر ان کو ڈیم بنانے سے اتنی محبت ہے تو سب سے پہلے خود اس میں تعاوں کریں۔اس کے بعد ریلوے کو منافع بخش بنا ئیں ۔ریلوے کے اخراجات سے جو بھی اضا فی ہو وہ ڈیم فنڈ میں جمع کرائے،لیکن غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر اسے اپنے نام کرنے کی ڈرامہ بازی بند کردیں۔


ای پیپر