یہ نیا پاکستان ہے کیا؟
24 ستمبر 2018 2018-09-24

آجکل میں اوسلو ،ناروے کے دارالحکومت میں ہوں۔ناروے جنت نظیر ملک ہے ، اگر کسی نے اسی دنیا میں جنت د یکھنی ہے تو وہ ناروے دیکھ لے۔ سرسبز پہاڑوں کے درمیان بہتا سمندراپنی نوعیت کا ایک الگ اور دلکش منظر پیش کرتا ہے ۔ ان پہاڑوں سے پھوٹتی آبشاریں اور جھر نے ہر سو بکھرے ہوئے ہیں۔ پریوں جیسے چہرے اس خوبصورت ماحول کا فطری حصہ لگتے ہیں۔ لگتا ہے خالق کائنات نے ساری خوبصورتیاں اسی ملک میں انڈیل دیں۔سوچا تھا اس ماحول میں پاکستانی میڈیا سے دوری ہی میں عافیت پنہاں ہے ۔لیکن پنجاب کے سول افسران کے ایک گروپ کا ممبر ہونے کے ناطے کوئی نہ کوئی خبر اپنے پاس پہنچ ہی جاتی ہے ۔ یہیں سے معلوم ہوا کہ صوبہ پنجاب کے دو ڈپٹی کمشنرز نے اعلیٰ حکام کو بذریعہ خطوط آگاہ کیا ہے کہ تبدیلی کی داعی جماعت کے دو نو منتخب ایم این ایز ان کے انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور خصوصاً محکمہ مال کے پٹواریوں کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے سلسلے میں۔ دونوں کا رویہ نہایت جارحانہ اور دھمکانے والا ہے ۔ان میں سے ڈپٹی کمشنر راجن پور نے یہ خط اپنے کمشنر یعنی کمشنر ڈی جی خان کو ایڈریس کیا ہے اور ہونے والے تمام واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد درخواست کی ہے کہ مجاز اتھارٹی کو متعلقہ ایم این اے موصوف کے تحکمانہ رویہ اور ان کے یہ احکامات کہ ان کے حلقہ انتخاب میں آئندہ ان کی مرضی کے بغیر کسی سرکاری ملازم کی کوئی پوسٹنگ ٹرانسفر نہ کی جائے کے متعلق آگاہ کیا جائے اور درخواست کی جائے کہ محترم ایم این اے کے خلاف حکومتی انتظامی معاملات میں مداخلت کی بنا پر قانونی کاروائی کی جائے۔ انھوں نے اس خط کی کاپیاں چیف الیکشن کمشنر، چیف سیکریٹری پنجاب، سیکریٹری ٹو چیف منسٹر پنجاب اور سیکریٹری سروسز پنجاب کو کی ہیں۔ اگر آپ اس خط کو پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ڈپٹی کمشنر کا رویہ اور سلوک ان محترم ایم این اے صاحب کے ساتھ کچھ یوں تھا جیسے کسی غلام کا رویہ اپنے مالک یا سردار کے ساتھ ہوتا ہے ۔لیکن ایم این اے صاحب نے ان سے ہاتھ ملانا پسند نہیں فرمایا اور اس کی توجیہ یہ پیش کی کہ ہماری روایات کے مطابق آپ کو اپنے دفتر سے باہر آکے ہمیں wellcome کہنا چاہیے تھا۔ متعلقہ ایم این اے سردار نصراللہ دریشک ہیں جو اپنے قبیلہ کے سردار ہیں۔موجودہ الیکشن میں خود تحریک انصاف کے ایم این اے منتخب ہوئے ہیں اور بیٹا حسنین بہادر دریشک پی ٹی آئی کے ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد پنجاب کی موجودہ کیبنٹ میں وزیر لائیو سٹک اور ڈیری ڈویلپمنٹ ہیں۔اب آپ خود غور فرمائیں کہ ایک سرکاری آفیسر اللہ دتہ وڑائچ اور وہ بھی صوبائی سروس کا ،ان کے سامنے کہاں ٹھہر سکے گے ۔میں اللہ دتہ وڑائچ موجودہ ڈپٹی کمشنر ( ابھی تک) کو ذاتی طور پر بخوبی جانتا ہوں کیونکہ انھوں نے میرے ساتھ مختلف حیثیتوں میں تقریباً تین سال تک ضلع حافظ آباد میں کا م کیا ہے ۔وہ ایک فرض شناس اور محنتی آفیسرہیں۔ ان کی دیانتداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتالیکن موجودہ دور کے سیاستدان عموماً ان سے زیادہ خوش نہیں رہتے، یوں کہیے کہ وہ موجودہ دور کے سیاستدانوں کے معیار وں پر پورے نہیں اترتے۔
ا س سے پہلے انھوں نے کچھ عرصہ بطور ایکٹنگ ڈپٹی کمشنر حافظ آباد فرائض سرانجام دئیے ہیں ، اس دوران میں بھی ان کے اس ضلع کے کچھ سیاستد انوں سے کھٹ پھٹ رہی ہے ۔پرنٹ میڈیا میں ان کے شہبازشریف کے قریبی ہونے کا ذکر ہوا ہے جو قطعاً درست نہیں ہے ۔شاید ہی میاں شہباز شریف انھیں چہرے سے پہچانتے ہوں۔اب ذکر ہو جائے ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد کا۔ غلام صغیر شاہد کو میں دہائیوں سے جانتا ہوں کیونکہ ہم دونوں نے ایک لمبا عرصہ پنجاب سول سیکرٹیریٹ میں کام کیا ہے ۔وہ ایک مستعد ،محنتی اور ذمہ دار آفیسر ہیں۔انہی خصوصیات کی بنا پر وہ ہمیشہ اہم پوسٹوں پر تعینات رہے ہیں۔ہم نے اس لمبا عرصہ میں کبھی بھی ان کی دیانت داری کے خلاف کوئی بات نہیں سنی۔ ڈپٹی کمشنر کی پوسٹنگ سے پہلے وہ چیف منسٹر سیکریٹیریٹ میں کام کر رہے تھے۔ سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ساتھ بھی ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔ لیکن یہ کونسا پیمانہ ہے کہ جس آفیسر نے ان کے ساتھ کام کیا ہو وہ مسلم لیگ (ن) کا حصہ بن جاتا ہے ۔ ایسے بہت سے افسران ہیں جنہوں نے میاں نواز شریف ، شہباز شر یف کے ساتھ کام کیا لیکن ان کے رویہ اور کارکردگی کی غیر جانبدارانہ حیثیت ہمیشہ قائم رہی۔اسی طرح غلام صغیر شاہد نے بھلے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں کام کیا لیکن ان کی دیانتداری اور غیرجانبداری پر کبھی کوئی حرف نہ آیا۔ ان کے ساتھ بھی وہی ہو ا جو اس ملک میں ہر ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ہوتا ہے ۔حکمران پارٹی یعنی تحریک انصاف کے چکو ال کے ایم این اے سردار ذوالفقار علی خان نے مسند اقتدار سنبھالتے ہی انہیں محکمہ مال کے پٹواریوں، گرداور اور ریڈرز پر مشتمل سترہ رکنی لسٹ اپنے دستخط ثبت کرکے بھجوائی اور احکامات صادر کیے کہ ان کی خواہش کے مطابق ان کے ٹرانسفر آرڈرز جاری کر دیں۔ احکامات جاری نہ ہونے پر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں خود بنفس نفیس تشریف لائے اور انہیں دھمکانے کی کوشش کرتے ہوئے فرمایا کہ اس ضلع میں تمام آرڈرز ان کی مرضی سے ہونگے۔ کسی ضلع کا حکمران جماعت کا ایم این اے جب اس سطح پر اتر آئے تو ایک دیانتدار سرکاری ملازم کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ اپنی بے بسی اور پریشانی کا ذکر ان کے نوٹس میں لائے جو اس کے درد کا کچھ درماں کر سکیں۔سو غلام صغیر شاہد نے اپنی بپتا پر مبنی ایک خط جناب چیف الیکشن کمشنر کو ارسال کیا اور درخواست گزاری کے قانون کے مطا بق موصوف ایم این اے کے خلاف کاروائی کی جائے۔اس خط کی کاپیاں انھوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ ، چیف سیکریٹری پنجاب اور کمشنر راولپنڈی کو ارسال کیں۔ان دو ڈپٹی کمشنرز کے خطوط نے سرکاری حلقوں کو عجیب سی حیرانی میں مبتلا کر دیا کہ سرکاری افسروں کی یہ جرات ، اپنے علاقوں کے ایم این ایز کی حرکات کا ذکر ملک کے اعلیٰ آئینی عہدیداران کو کر دیں۔ لگتا ہے ان افسران نے بھی عمران خان کا یقین کر لیا کہ تبدیلی آ گئی ہے ۔ چیف جسٹس پاکستان کے جوڈیشیل activismکو دیکھ کر اس ملک کا ہر شہری انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھا ہے ، لیکن ان دونوں ڈپٹی کمشنرز کے خطوط کا انھوں نے بھی کوئی نوٹس نہ لیا حالانکہ وہ اپنی عدالت میں آئے روز سرکاری افسران کو ڈانٹتے ہوئے یہ تلقین کرتے رہتے ہیں کہ وہ کسی کا خوف ذہن میں لائے بناقانون کے مطابق کام کریں اور یہی بات وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے اعلیٰ افسران سے اپنے حالیہ خطاب کے دوران پرزور انداز میں کی۔لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ لب کھولنے پر ان دونوں افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی شروع ہو گئی ہے ۔شنید ہے کہ جب یہ بات عمران خان کے نوٹس میں آئی تو انھوں نے فواد چوہدری کی ڈیوٹی لگائی کہ اپنے بندوں کو انتظامی معمالات میں مداخلت سے منع کریں۔میں نے دو اضلاع میں بطور ڈی سی او کام کیا ہے ، میرا مشاہدہ ہے کہ سیاسی مداخلت نے اس ملک کے اداروں کو تباہ کر دیا ہے بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں رائج کرپشن کی بنیاد ہی سیاستدانوں کی طرف سے سرکاری انتظامی معاملات میں مداخلت سے پڑی ہے ۔ خان صاحب نے خیبر پختونخوا کے محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت بند کرائی تو کتنے بہتر نتائج سامنے آئے ۔ انہیں چاہیے کہ وہ سول اداروں میں بھی پولیس کی طرز پر سیاسی مداخلت کو مکمل طور پر بند کرنے کا بندوبست کریں۔لیکن خان صاحب کی چونکہ سیاسی پوزیشن کمزور ہے اس لیے وہ اپنی پارٹی کے لوگوں کو اس سٹیج تک لانے سے احتراز کر رہے ہیں۔ ان حالات میں محترم چیف جسٹس ثاقب نثار سے گزارش ہے کہ وہ ان افسران کی درخواستوں کو اپیلیں گردانیں اور دونوں فریقوں کو سننے کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کر دیں۔ ظلم کی انتہا ہے کہ دہائی دینے والے افسران کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے اور ایم این ایز کو کسی نے پوچھا تک نہیں ، یہ نیا پاکستان ہے یا اندھیرنگری۔


ای پیپر