ہر حکومت کا عوام ہی نشانہ کیوں ؟
24 ستمبر 2018 2018-09-24

گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ویسے ہی اشیاء خوردنی ،کرایوں ودیگر اشیاء ضرورت کے نرخ بڑھا دیئے تھے اب یکم اکتوبر سے پٹرولیم کی مصنوعات جن میں پیٹرول چھ روپے تیس پیسے اور مٹی کا تیل دس روپے ڈیزل آٹھ روپے تیس پیسے لیٹر مہنگا کرنے کا پھندا غریب عوام کے گرد تنک کرنے کا اعلان کردیاگیا ہے ۔ عوام جو پہلے ہی مہنگائی کابوجھ اٹھانے کی مزید متحمل نہیں ہے پر حالیہ بوجھ عمران خان کی حکومت کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جو وہ اور ان کے وزیر تجارت اسد عمر الیکشن مہم اور ایوانوں میں اپنی تقاریر میں کرتے رہے ۔حیرانگی اس بات کی ہے کہ ہمارے سیاستدان کیسے اپنا پینترا بدلنے ہیں ۔ووٹ مانگتے وقت کچھ کہتے ہیں اور کامیابی کے بعد اس کے برعکس کرتے ہیں اور بہت ہی جلد ی میں عوام مخالف فیصلے کرکے اپنی مقبولیت کو داؤ پر لگادیتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف ،ورلڈبینک ،ایشیائی بینک سے مزید قرضے لینے کے لئے ان کے سابقہ قرضوں کی اقساط ادا
کرنی ہے لیکن کیوں ہمیشہ عوام پر بوجھ ڈال کر اپنے تجارتی خسارے ،قرضوں کی اقساط کو پورا کیا جاتا ہے ۔آخر کب تک عوام ہی قربانی کا بکرا بنتے رہیں گے ۔حکمران آخر کھربوں کی وہ رقوم جو قرضوں کی صورت میں بینکوں سے معاف کروائی گئیں ،اربوں کا وہ سرمایہ جو کرپشن کی نظر ہورہا ہے ،اربوں کے وہ بقایا جات جو پی ٹی سی ایل کی فروخت کے وقت سے خلیجی کمپنی اتصالات کے ذمہ ہیں ،اربوں کے واپڈا کے سرکاری اداروں پر بقایا جات ،ایف بی آر میں اربوں کی کرپشن کو ختم کرنے کے لئے مخلصانہ کاروائی کیوں نہیں کرتی ۔ہمارے ترقیاتی کاموں میں کمیشن در کمیشن کا رواج ہے اسے ختم کیوں نہیں کیا جاتا ،غیر ضروری ترقیاتی کاموں پر صرف کیمشن کی خطیر رقم برباد کرنے کا سلسلہ برسہابرس سے جاری ہے ۔اسکی روک تھام کے لئے اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے صرف عام انسان پر بوجھ ہر حکومت ڈالتی رہی ہے اور تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت بھی ڈال رہی ہے ۔پاکستان کے عوام کو عمران خان کی حکومت سے انقلابی اقدامات کی توقع ہے وہ اس قدر جلد ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس سے عوام پہلے چند ماہ ہی میں مایوس ہوجائیگی کی کسی کو امید نہ تھی ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات کو کم کرے واپڈا ،پی آئی اے ،سٹیل ملزجیسے سفید ہاتھی جہاں زرداری حکومت اور اس سے پہلے بے نظیر دور میں دباکر میرٹ کے خلاف بھرتیاں کی گئیں کو جلد پرائیویٹائزکرکے بجٹ خسارے میں کمی کرے ۔خاص کر واپڈا کا سفید ہاتھی تو اب عوام کے لئے تو بوجھ ہے ہی ۔ ہر آنے والی حکومت کا بھی بیٹرا غرق کرنے میں اس کا اہم کردار ہے ۔اس ادارے میں موجود یونیزا سے پرائیویٹائز کرنے میں سب سے بڑی روکاوٹ ہیں کیونکہ وہ اور افسران وعملہ مل کر عوام اور ملکی خزانے کو لوٹنے میں مصروف ہے ۔واپڈا کا سارا نظام ناکام اور مفلوج ہوچکا ہے ۔سسٹم میں کئی ہزار میگا واٹ بجلی آنے کے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلسل جاری وساری ہے ۔بوسید ہ نظام اب انقلابی اقدامات چاہتا ہے ورنہ یہ کینسر شدہ ادارہ جیسے گزشتہ حکومتوں کو کھاگیا موجودہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا ۔ملک میں گرم ترین علاقے موجود ہیں جہاں شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے منصوبوں کو تقویت دی جائے تاکہ واپڈا سے بوجھ کم ہو حکومت نے حال ہی میں سعودی عرب کی ایک ذیلی کمپنی ایف اے ایس انرجی سے ایک معائدہ کیا ہے جس کے مطابق وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے چھ ارب کی سرمایہ کاری کررہی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف اے ایس انرجی پاکستان کے حکام نے بتایا کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 50 میگا واٹ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ لگائیگی جس پر 47.8 ملین ڈالر یعنی چھ ارب روپے کی لاگت آئے گی ۔یہ منصوبہ 2020 تک مکمل ہوکر بجلی کی پیداور شروع کردے گا ۔اس طرح کے دیگر منصوبے شروع کرکے واپڈا کے خسارے والے ادارے سے جان خلاصی عوام اور حکومت دونوں کی کروائی جاسکتی ہے ۔اس طرح ملک میں دس کے قریب ستر کے قریب شوگر ملز کام کررہی ہیں ۔ان تمام کوبجلی پیدا کرنے کے یونٹ لگانے کا پابند کرکے کئی میگا واٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے گومل زام تکمیل کے باوجود خامیوں کے باعث کوئی میگا واٹ بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہے ایسے ہی ہمارے سسٹم میں کئی ایسی خرابیاں موجود ہیں جن میں بہتری کے ذریعے سرمایہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ہمارا ٹورازم کے محکمے کو فعال کرنے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے انہیں تمام تر سہولیات مہیا کرکے بھاری زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے ۔ہمارے دینی ادارے رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز میں سالانہ لاکھوں مسلمان جن میں نومسلموں کی
بھاری تعداد بھی ہے آکر دین اسلام کو سیکھنا چاہتی ہے لیکن ہمارے بیرون ملک سفارتخانے اور ہماری حکومت انہیں ویزا جاری کرنے میں لیت ولعل سے کام لیتی ہے جس کے باعث ہم سالانہ اربوں کے زرمبادلہ سے محروم ہوجاتے ہیں جوکہ بعدازاں ہندوستان اور بنگلہ دیش کا رخ کرلیتے ہیں ۔اللہ تعالی نے ہمیں بہت سے نعمتوں ،معدنیات ،سونے ،کوئلہ ،ماربل ،نمک ،گیس ،جپسم ،زمرد کی کانوں سے نوازا ہے لیکن ہر جگہ کرپشن نے ہمیں ان سے مستفید ہونے سے دور رکھا ہوا ہے ۔لے دے کر صر ف عوام ہی ہر حکومت کا نشانہ بنتی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ بجلی ،گیس ،پیٹرول ،ڈیزل ،مٹی کا تیل وغیر ہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی بجائے خود انحصاری اوراپنے وسائل کا درست استعمال کرے۔فضول خرچی سے بچاؤ ،کرپشن کی روک تھام کے لئے اقدامات کرے ۔صرف عوام پر بوجھ نہ ڈالے جو مذید مہنگائی کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے ۔


ای پیپر